رزلٹ والے دن اب شاید نمبروں کی بارش ہوتی ہے

آج کل کے بچوں کے امتحانات میں نمبرز دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید رزلٹ والے دن نمبروں کی بارش ہوتی ہے۔ ہم لوگ نالائق تھے یا آج کل کے بچے بہت زیادہ ذہین ہو گئے ہیں، یا پھر نمبر دینے والے مہربان۔ کیونکہ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ رزلٹ سے دو دن پہلے ہماری تو نیندیں ہی حرام ہوجاتی تھیں، کہ کہیں فیل نہ ہو جائیں۔ صرف ہماری نیندیں نہیں، والدین بھی رزلٹ کے چکر میں پریشان رہتے۔ مگر اب تو فیل ہونے والی بات کا ڈر ہی ختم ہو گیا ہے۔
اور ہماری باری انگریزی جیسا مضمون پاس کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ عموماً سٹوڈنٹس فیل ہو جاتے تھے۔ مگر اب ویسا نہیں ہے۔ اب تو ٹوٹل نمبرز میں سے چند ہی نمبر کم آتے ہیں امتحانات میں۔ مگر۔ ۔ اتنے نمبرز لے کر بھی کوئی آئن سٹائن، الزاہری، ابن الہیثم یا لوئس پاسچر پیدا کیوں نہیں ہو رہا۔ کیا یہ صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھے نمبرز ہیں؟ علم نہیں۔ ؟
اب نتائج اس قدر ہوش ربا آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پیپر چیک کرنے والے اتنی فیاضی دکھاتے ہیں کہ اب تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں کل نمبروں سے زیادہ نہ دے دیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے جو بحران اور مشکلات پیدا ہوں گی ہمیں ابھی اس کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ میں جہاں پہلے ہی سیٹیں بہت محدود ہیں۔ گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبرز لینے والی اس فوج ظفر موج کو کیسے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ نمبروں کی اس بندر بانٹ نے میرٹ میں تشویشناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔
اگر آپ رٹو طوطا ہیں تو پھر تو ٹھیک ہے۔ نوے / پچانوے فیصد نمبر لے کر میرٹ آپ کا ہو جائے گا۔ اگر آپ اسی/ پچاسی فیصد بھی لیتے ہیں تو صاحب سرکاری یونیورسٹیز کی میڈیکل اور انجنیئرنگ کی میرٹ لسٹ کو خود کو باہر ہی سمجھیے۔ اور یہی وجہ ہے کہ کردار سازی اور تعلیمی قابلیت کو ہم کہیں پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور اب فقط ایک کاغذ کے ٹکڑے کے پیچھے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو تعلیم آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی، صرف مارکس شیٹ رہ جائے گی۔ ہمیں سٹوڈنٹس کو اچھا، پر عزم اور فعال شہری بنانے کی کوشش کرنے چاہیے نہ کہ نمبروں کے دوڑ میں خود کو جھونک کے برباد کرنا چاہیے۔


محترم نے بہت عمدہ تحریر قلم بند فرمائی ہے، جِس پر توجہ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔