تمباکو کا دھواں جو نسلیں چاٹ گیا
بچپن کی ایک دھندلی یاد آج بھی میرے حافظے میں دھوئیں کی طرح اڑ رہی ہے۔ لاری اڈے کے باہر ایک بوڑھا فقیر اکثر دکھائی دیتا تھا۔ مٹی سے اٹے کپڑے، جھریوں سے بھرا چہرہ، آنکھوں میں تھکن کی نمی، اور ہونٹوں میں دبی ہوئی ادھ جلی ایک سگریٹ۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا، ”بابا جی، پیسے ملنے کے بعد سب سے پہلے کیا لیتے ہیں؟“ ۔ اس نے لمحہ بھر کو میری طرف دیکھا، پھر دھواں چھوڑتے ہوئے
Read more
