تصادم مسائل کا حل نہیں لیکن پاکستان ٹکراؤ ہی کی طرف بڑھ رہا ہے


پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے عالمی لیڈر بھی ان کے بارے میں یہی تاثر رکھتے ہیں۔ شہباز شریف کی باتیں ملک کو تصادم کی طرف دھکیلنے کا سبب بنیں گی حالانکہ اس وقت پاکستان میں مفاہمت اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے اس دوران ’سیاسی مکالمہ‘ کا اشارہ ضرور دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ اضافہ کر کے اپنی ہی بات کی تردید بھی کرتے رہے ہیں کہ ’ڈاکوؤں اور چوروں‘ سے بات نہیں ہو سکتی۔ البتہ وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے لئے ضرور بے قرار ہیں اور اپنے طور پر اسے سیاسی مکالمہ ہی قرار دیتے ہیں۔ عمران خان ملکی تاریخ کے پہلے سیاست دان ہیں جو امر بالمعروف کا نعرہ لگاتے ہوئے سیاست میں فوج کی براہ راست مداخلت کی حمایت چاہتے ہیں۔

البتہ اس کے لئے ان کی یہی شرط ہے کہ فوج اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے ان کی پارٹی تحریک انصاف کے لئے دوبارہ اقتدار کی راہ ہموار کرے۔ کیوں کہ ان کے خیال میں صرف وہی دیانت دار ہیں اور ان کی پارٹی ہی ’حق‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کے خیال میں اس ایک دعویٰ کی بنیاد پر ملکی عسکری قیادت کو ’نیوٹرل‘ ہونے کا ڈھونگ چھوڑ کر براہ راست سیاسی معاملات طے کرنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے کیوں کہ قوم کو اس وقت دیانت دار لیڈر کی ضرورت ہے۔ البتہ عمران خان اس سوال پر غور کرنے یا اس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ پونے چار سالہ دور حکومت میں ان کی ’صالح اور دیانت دار‘ حکومت کیوں کوئی قابل ذکر تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ اور موجودہ حکومت کیوں تحریک انصاف کی حکومت پر معیشت تباہ کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کے سیاسی بیانیہ کو نشانہ بنایا ہے۔ اس انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ ’آڈیو لیکس نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان دنیا کا سب سے جھوٹا شخص ہے۔ میں یہ بات خوشی سے نہیں بلکہ شرمندگی اور تشویش کی کیفیت میں کہہ رہا ہوں۔ ذاتی مفاد کے لئے اس شخص کے جھوٹ کی وجہ سے میرے ملک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے‘ ۔ سائفر اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کو ان مجرمانہ جرائم کا جواب دینا پڑے گا۔

انہوں نے معاشرے میں زہر بھر دیا ہے اور ووٹروں کو خطرناک طور سے تقسیم کیا ہے۔ واضح رہے حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس سے آڈیو لیکس کی تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک علیحدہ حکم میں وفاقی کابینہ نے ایف آئی اے کو عمران خان کی آڈیو لیکس اور وزیر اعظم ہاؤس سے سائفر کی نقل غائب ہونے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ ان تحقیقات کے نتیجہ میں عمران خان اور ان کے قریبی رفقا کے خلاف سنگین جرائم کے ارتکاب میں مقدمے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

شہباز شریف نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں یہ بھی بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس کے دوران متعدد عالمی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم کے طرز عمل کی شکایت کی اور بعض لیڈروں نے ذاتی طور پر ان سے کہا کہ ’وہ (عمران خان) گھمنڈی، جھوٹا اور خود پرست (نارسسٹ) ہے‘ ۔ وزیر اعظم کی طرف سے ملک کے سب سے مقبول اپوزیشن لیڈر کے خلاف یہ تند و تیز لب و لہجہ ایک ایسے وقت میں اختیار کیا گیا ہے جب ایک طرف ملک سیلاب کی سنگین صورت حال کا سامنا کر رہا ہے جس سے پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر مزید بوجھ پڑا ہے اور دوسری طرف عمران خان بہر صورت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رہے ہیں۔

اگر ماضی کے تجربات کو پیش نظر رکھا جائے تو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان اس بار لانگ مارچ شروع کرنے کے بعد اسے کسی سیاسی ریلی پر ختم کرنے کا اعلان نہیں کریں گے بلکہ وہ اسلام آباد میں دھرنا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انٹرویوز میں وہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ نئے انتخابات کے ایک نکاتی ایجنڈے پر احتجاج کر رہے ہیں کیوں کہ موجودہ حکومت ناجائز ہے اور اسے سازش کے تحت مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ موجودہ حکمرانوں کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے اپنے حامیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں کہ اس حکومت کو تسلیم کرنے کا مقصد ’برائی‘ کو قبول کرنا ہے۔ بدقسمتی کی بات البتہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کسی غیر قانونی طریقہ سے برسر اقتدار نہیں آئی تھی۔ بلکہ عمران خان کے خلاف آئینی طریقہ سے عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد قومی اسمبلی کی اکثریت نے شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کیا تھا۔

تحریک انصاف ابھی تک سیاسی نعروں کے علاوہ کسی قانونی یا آئینی طریقہ سے موجودہ حکومت کی اکثریت یا میرٹ کو چیلنج نہیں کر سکی۔ چند ہفتے پہلے تک خیال کیا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف صدر عارف علوی کے ذریعے وزیر اعظم شہباز شریف کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور کر سکتی تھی۔ موجودہ حکومت چونکہ متعدد چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں کے اتحاد پر کھڑی ہے اور قومی اسمبلی میں اسے بہت بڑی اکثریت بھی حاصل نہیں ہے لہذا اس تجویز سے امید کی جا رہی تھی کہ شہباز شریف ایوان سے اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے اور انہیں مجبوراً نیا انتخاب منعقد کروانا پڑے گا۔

لیکن آج ایوان صدر سے جاری ہونے اعلامیہ کے مطابق صدر نے جمعرات کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے۔ صدر مملکت خود اس اجلاس سے خطاب کریں گے۔ صدر کا یہ فیصلہ ملک میں تبدیل شدہ سیاسی ماحول کا اشارہ بھی سمجھا جاسکتا ہے جس میں فوری طور سے انتخابات کروانے کا مطالبہ منظور ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم عمران خان فی الوقت فوری انتخابات کے مطالبے سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ وہ جلد ہی لانگ مارچ کی کال دیں گے اور اپنی طاقت سے حکومت کو حیران کر دیں گے، اس کے تمام منصوبے دھرے رہ جائیں گے۔

اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان کو یک بیک ملنے والی غیر معمولی پذیرائی کی ایک وجہ شہباز حکومت کے مشکل فیصلوں کی وجہ سے مہنگائی اور ڈالر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ تھا۔ اس کے علاوہ حکومت کے خلاف امریکی سازش کے نعرے نے بھی عمران خان کو عام لوگوں کی نگاہ میں ’مظلوم‘ بنا کر پیش کیا تھا۔ اب یہ دونوں عوامل موجود نہیں ہیں۔ اسحاق ڈار کی بطور وزیر خزانہ واپسی کے بعد سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مسلسل مستحکم ہوا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ڈالر کو دو سو روپے سے کم کی شرح پر ہونا چاہیے جو ان کے بقول روپے کی حقیقی مارکیٹ ویلیو بھی ہے۔ اگر وہ اس مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مشکل معاشی ماحول میں اسے حکومت کی بڑی کامیابی سمجھا جائے گا۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ملک میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔ اس طرح مہنگائی اور ڈالر کی شرح کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرنے کا جواز ختم ہو رہا ہے۔

عمران خان کی اعظم خان اور دیگر رفقا کے ساتھ سامنے آنے والی آڈیو لیکس میں یہ بھی واضح ہوا ہے کہ جس سائفر کو غیر ملکی سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تھا، اس کے حقیقی مندرجات تو کبھی سامنے آ ہی نہیں سکے۔ بلکہ عمران خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس سائفر کی بنیاد پر ایک جھوٹا افسانہ گھڑا تھا جسے امریکی سازش کا نام دے کر عوام کو گمراہ کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم اب اسی ’فریب‘ کی بنیاد پر عمران خان کو دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا شخص قرار دے رہے ہیں۔

شہباز شریف کے انٹرویو سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ حکومت اب کسی مفاہمت پر آمادہ نہیں ہے بلکہ ’جیسے کو تیسا‘ کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے عمران خان کی سیاسی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کا اعلان کر رہی ہے۔ ان مباحث میں ڈھکے چھپے انداز میں یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ کسی بھی طرح عمران خان کو کسی ’جرم‘ میں ملوث کر کے انتخابات سے ’نا اہل‘ قرار دیا جائے۔

2018 میں نواز شریف کو نا اہل کروا کے ہی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کا راستہ ہموار کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے عناصر یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر نواز شریف کو سیاسی منظر سے ہٹایا جاسکتا تھا تو وہی ہتھکنڈا عمران خان کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہو سکتا ۔ مریم نواز اس موقف کی سب سے بڑی وکیل ہیں جو ببانگ دہل یہ اعلان کرتی ہیں کہ ملک کو آگے لے جانے کے لئے عمران خان کو سیاست سے باہر کیا جائے۔ تاہم ایسا کوئی اقدام ملک کے سیاسی مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں مزید پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

ان حالات میں عمران خان کو سیاسی مکالمہ کی بات کرتے ہوئے اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی کی توقع کرنے کی بجائے، واقعی ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت کے اصول کو تسلیم کرنا چاہیے۔ وہ بعض سیاسی لیڈروں کی نیک نیتی یا ایمانداری کے بارے میں جو بھی رائے رکھتے ہوں تاہم انہیں یہ ماننا چاہیے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی پاکستانی عوام کی خاطر خواہ تعداد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے لیڈروں کے خلاف نعرے لگا کر عوام کے اس گروہ کو اس کے سیاسی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی شخص کو قانون شکنی پر گناہ گار قرار دے کر سزا دینا ملکی عدالتی نظام کا کام ہے۔ سیاسی لیڈر اگر اس میں مداخلت سے باز رہنے کا عہد کر لیں تو تصادم سے گریز کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔

سیاست دانوں کو اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کرنے کی تیار کرنی چاہیے۔ اور ان کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ ’امر بالمعروف والنہی عن المنکر‘ جیسے نعروں سے سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے سے بچنا چاہیے۔ اسی طرح شہباز شریف کی حکومت کو بھی عمران خان کے مقابلے میں انتظامی و قانونی اختیارات استعمال کرنے کی بجائے سیاسی طور سے ان کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali