باسٹھ ون ایف: کیا تاحیات نا اہل، تاحیات اہل ہونے والے ہیں؟
سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحیات نا اہلی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ”تاحیات نا اہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف ڈریکونین قانون ہے“ ۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی کو تاحیات نا اہل قرار دے سکتا ہے؟ سپریم کورٹ اس کیس کو محتاط ہو کر سنے گی، الیکشن کمیشن کو غلط بیان حلفی پر تحقیقات کا اختیار ہے اور اگر عدالت الیکشن کمیشن کے تاحیات نا اہلی کے حکم کو کالعدم قرار دے بھی دے تو حقائق تو وہی رہیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ دوسری جانب فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ایک شخص کو سامنے رکھتے ہوئے قانون میں ترامیم نہیں ہونی چاہیے
اب آتے ہیں 62 ون ایف کی طرف۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کا ایماندار، پارسا، صادق اور امین ہونا ضروری ہے۔ دستور کی اس شق کے تحت اب تک بیس سے زائد افراد تاحیات نا اہل ہیں جن میں فیصل واوڈا کے علاوہ نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی شامل ہیں۔ اسی طرح رائے حسن نواز، رضوان گل، ثمینہ خاور حیات اور عامر اور سردار ملک اور دیگر شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 28 جولائی 2017 کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے اسی شق کے تحت نا اہل قرار دیا تھا۔
بعد میں عدالت عظمیٰ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا اس شق کے تحت کسی رکن کو تاحیات نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ شق میں نا اہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا، جس پر ایک اور تفصیلی فیصلہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا، موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال۔ اس وقت اسی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے اسی قانون کے تحت نا اہلی کی مدت کے تعین کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد یہ قرار دیا کہ اس قانون کے تحت نا اہل ہونے والا شخص تاحیات نا اہل تصور ہو گا اور وہ کسی الیکشن میں حصہ لینے اور عوامی عہدہ رکھنے کا اہل نہیں ہو گا اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بینچ نے جو متفقہ فیصلہ دیا اسے جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا تھا اور یہ فیصلہ بھی انھوں نے ہی کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنایا تھا۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے فیصلہ سنانے سے پہلے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ پاکستانی عوام کو اچھے کردار کے حامل رہنماؤں کی ضرورت ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا تھا کہ یہ معاملہ عدالت میں اٹھانے کے بجائے پارلیمنٹ میں لایا جائے اور وہ اس بارے میں فیصلہ کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر معزز عدالت اگلی سماعت پر الیکشن کمیشن کا تاحیات نا اہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتی ہے تو اس کا فائدہ کس کو ہو گا؟ کیا اگلے الیکشن میں نواز شریف کے لئے راستہ ہموار ہو جائے گا اور کیا جہانگیر ترین کو بھی ہم اسمبلی میں دیکھ پائیں گے، کیا عمران خان کو بھی کوئی گراؤنڈ مل پائے؟ کیا وقت اور حالات بدلنے سے تشریحات بدلنی چاہیے؟


