پروفیسر بی اے چشتی کی یاد میں


گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک طویل عرصہ، تقریباً سات سال، بسر کیا۔ جن اساتذہ سے کلاس میں تو پڑھنے کا موقع نہ ملا لیکن ان کی بہت شفقت مجھے میسر رہی ان میں انگریزی کے پروفیسر بے اے چشتی، اردو کے پروفیسر اصغر سلیم میر، پروفیسر صابر لودھی، سیاسیات کے پروفیسر احمد حسن، تاریخ کے پروفیسر محمود خان بھٹی شامل ہیں۔

چشتی صاحب ان لوگوں میں تھے جو بس استاد بننے کے لیے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ طویل قامت، چھریرا بدن، سانولی رنگت اور لباس سادہ۔ گرمیوں میں گرے پتلون، سفید قمیص، سردیوں میں اس پر گرے جرسی اور گرے کوٹ کا اضافہ۔ بات زیادہ تر پنجابی میں ہی کرتے تھے۔ وہ ہفتہ وار گورنمنٹ کالج گزٹ کے مینیجر بھی تھے۔

چوتھے سال میں نے بھی گزٹ کے حصہ اردو کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی۔ انٹرویو کے بعد مجھے سٹاف رپورٹر کے طور پر بورڈ میں شامل کیا گیا۔ مدیر ہمارے ایک ایسے دوست کو بنایا گیا جو بالکل انگلش میڈیم تھا۔ ہم اسے سینٹ انتھونی کہا کرتے تھے۔ اس نے مجھے ہفتہ وار کالم لکھنے کو کہا۔ جب میں نے پہلا کالم لکھ کر دیا تو اس نے پوچھا کالم کا عنوان کیا رکھنا چاہو گے۔ میں نے جواب دیا، حرف تمنا۔ میری بات سن کر اس نے قلم سے لکھا، ہرفے تمنا۔ میں اسی وقت گزٹ کے دفتر سے باہر نکلا، استعفا لکھا اور جا کر چشتی صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا۔ استعفا میں خیر یہ واقعہ نہیں لکھا تھا۔ چشتی صاحب نے پوچھا تم کام نہیں کرنا چاہتے، جواب دیا، جی نہیں۔ اس پر استعفا منظور ہو گیا۔

چند ماہ گزرے تو گزٹ کے اردو اور انگریزی دونوں مدیران کے خلاف ان کے ساتھیوں نے بغاوت کر دی۔ معاملہ زیادہ بڑھ گیا تو دونوں بورڈ تحلیل کر کے نئے سرے سے درخواستیں طلب کی گئیں۔ میں نے دوبارہ درخواست داخل کر دی۔ اس بار پہلے تحریری ٹیسٹ لیا گیا۔ سوال کچھ یہ تھا کہ اگر آپ کو مدیر بنا دیا جائے تو پہلا اداریہ کیا لکھیں گے۔ ٹیسٹ کے بعد انٹرویو ہوا۔ انٹرویو بورڈ کے صدر شعبہ ذوآلوجی کے سربراہ ڈاکٹر احسن الاسلام تھے۔

بورڈ میں چشتی صاحب کے علاوہ پروفیسر آر اے خان اور پروفیسر اصغر سلیم میر صاحب بھی تھے۔ ڈاکٹر احسن الاسلام صاحب نے پوچھا، تم نے پہلے استعفا کیوں دیا تھا؟ میں نے کہا میرا اور مدیر کا املا پر اختلاف تھا۔ کہنے لگے، کیا مطلب؟ جواب دیا، وجہ یہ تھی کہ وہ حرف ہائے ہوز سے لکھتے تھے میں ہائے حطی سے۔ وہ چونکہ مدیر تھے اس لیے ان کی بات بھاری تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا تم نے طلبہ لکھا ہے جبکہ کچھ لوگ طلبا لکھتے ہیں اور بعض آخر پر ء بھی ڈالتے ہیں۔ ان میں سے کون سا املا درست ہے؟ اب سچی بات ہے مجھے پتہ نہیں تھا۔ میں نے جان چھڑانے کی خاطر کہا اس کے لیے لغت دیکھنا پڑے گا۔

بہر حال انٹرویو میں دو ایک مقامات پر ڈاکٹر صاحب نے میری زبان کی غلطیوں پر مجھے توجہ دلائی۔ اردو کے ناول پڑھے ہیں؟ جی ہاں۔ کتنے پڑھے ہیں؟ کافی پڑھے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کافی کا مطلب تو ہوتا ہے کفایت کرنا۔ اب میں نے ڈھیٹ بن کر کہا، جیسے ناول لکھے جا رہے ہیں میرا خیال ہے جتنے پڑھ لیے ہیں وہ کافی ہیں۔

انھوں نے اردو کا پسندیدہ شعر سنانے کو کہا تو فراق کا یہ مشہور شعر سنا دیا
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھوں کہ تم سے بات کروں
اس پر میر صاحب نے تصحیح کرتے ہوئے دوسرا مصرع اس طرح پڑھا:
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

خیر انٹرویو تمام ہوا اور بعد میں پتہ چلا کہ مجھے اردو سیکشن کا مدیر منتخب کر لیا گیا ہے۔ انگلش سیکشن کا مدیر مجید شیخ منتخب ہوا جس نے بعد میں صحافت میں بہت نام پیدا کیا، کئی کتابوں کا مصنف اور اب کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔

ہم دونوں کی ادارت میں گزٹ کے نو شمارے شائع ہوئے۔ یہ کافی ہنگامہ خیز دور رہا اور ہم چشتی صاحب کو کافی تنگ بھی کرتے رہے۔ بعض اوقات تحریر کی آزادی کے نام پر کوئی غیر معقول حرکت کر بیٹھتے تھے اور چشتی صاحب سے ڈانٹ کھاتے تھے۔

چشتی صاحب گورنمنٹ کالج سے ریٹائر ہونے کے بعد ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے میں کام کر رہے تھے۔ پندرہ بیس برس تک ان سے کوئی رابطہ نہ رہا۔ پھر میں انھیں تلاش کرتا ہوا اس تعلیمی ادارے میں ان سے ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا۔ مجھے دیکھ کر بڑے تپاک سے ملے۔ باتیں کرتے کرتے ہنسنے لگ گئے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا، سر، کیا ہوا۔ کہنے لگے تمھارا گزٹ کا انٹرویو یاد آ گیا ہے۔ جب تم انٹرویو کے بعد باہر نکلے تو ڈاکٹر احسن الاسلام صاحب نے کہا، چشتی صاحب یہ لڑکا میرٹ میں پہلے نمبر پر ہے لیکن اس کے خیالات آپ کے خیالات کے بالکل برعکس ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ آپ کو تنگ کرے۔ آپ پسند کریں تو دوسرے نمبر والے کو بھی سلیکٹ کیا جا سکتا ہے۔ چشتی صاحب نے جواب دیا، اگر میں نمبر ون کو چھوڑ کر نمبر ٹو کو سلیکٹ کروں گا تو اپنے ضمیر کو کیا جواب دوں گا۔ آپ جو نمبر ون ہے اسے سلیکٹ کریں، جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا۔

چشتی صاحب کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہو گئیں اور میں نے ان سے کہا، سر، یہ آپ جیسے استادوں کا فیضان اور برکت ہے کہ سارے تدریسی عرصے میں میری بھی یہی کوشش رہی ہے کہ میرٹ کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اپنے سٹوڈنٹس میں جنس، مذہب اور خیالات کی بنا پر کبھی کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا۔

ایسے تھے ہمارے اساتذہ۔ اب جو صورت حال ہے اس میں ناصر کاظمی کا یہ مصرع یاد آتا ہے :
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments