آں حضرت ﷺ کی مذہبی رواداری
آں حضرت ﷺ کو اپنی حیات طیبہ میں بے دینوں اور مشرکین کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں صابیوں، مجوسیوں، عیسائیوں اور یہود سے واسطہ پڑا۔ ان سب سے ہر معاملہ میں آپ ﷺے شاندار حسن سلوک فرمایا اور یوں تاریخ میں مذہبی رواداری کی عظیم مثالیں رقم ہوئیں۔ لیکن آج ملک کی اکثریت اس اسوہ حسنہ سے لا علمی کے سبب یا بے رخی سے، اختلاف عقیدہ رکھنے والی کم تعداد جماعتوں کے خلاف تعصب اور عدم رواداری اور نا انصافی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسوہ رسول ﷺکے برخلاف یہ سرگرمیاں، محبت رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے مقام کے تحفظ کے نام پر اور لبیک یا رسول اللہ کے نعروں کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایسے کئی واقعات ہوئے۔ جیسے
1۔ اٹک میں ملک کی ایک مشہور پرائیویٹ اسکول چین نے کلاس سوم تا نہم کے چار بچوں کو محض احمدی ہونے کے سبب سکول سے نکال دیا اور حکم نامہ میں پرنسپل صاحبہ نے اخراج کا واحد سبب یہی لکھا کہ
’ on the basis of Qadianiat Religion‘
2۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ نے ایک ٹویٹ کیا جس میں لکھا: ’جو ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا اس سے کوئی دوستی نہیں‘ ۔
3۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے ایک تقریر میں ایک خانہ خدا کی تعمیر کے اپنے منصوبہ میں بطور خاص یہ بیان کیا کہ ’باہر لکھا ہو گا کہ قادیانی یہاں اندر نہیں آ سکتے‘ ۔
4۔ ایک شیعہ ذاکر کا سیالکوٹ میں مجلس کے دوران قتل ہوا۔
5۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیٹی نے 9 / 29 کی اپنی ایک رپورٹ میں ٹی ایل پی کی ایک مولوی صاحب کی ایک تقریر کے منجملہ یہ الفاظ دہرائے :
’ensure that no new Ahmadis are born‘ and ’those babies who are being born، should be killed
ترجمہ: اس بات کو یقینی بناؤ کہ کوئی نیا احمدی پیدا نہ ہو۔ جو بچے پیدا ہونے والے ہیں قتل کر دیے جائیں۔
6۔ کراچی میں سن پچاس کی دہائی میں تعمیر ہونے والے ایک احمدی مرکز پر بنے مینار توڑنے کے لئے ایف آئی آر درج ہوئی۔
آخر الذکر تین واقعات رواں ماہ ربیع الاول کے ہیں۔ جس میں جشن عید میلاد النبی ﷺ منانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔
اس تناظر میں آں حضرت ﷺ کی مذہبی رواداری کا اسوہ دہرانا عام مفاد میں ہو گا۔ آپ ﷺ کا یہ نیک نمونہ ہر قسم کی تنگ نظری، تعصب اور انتہا پسندی کو مٹا کر دنیا میں بلا امتیاز مذہب و عقیدہ انسان دوستی قائم کرتا ہے۔ آپ کی حیات طیبہ ایسے واقعات سے پر ہے۔ ان میں سے چند نو عنوانات کے تحت درج ذیل ہیں:
1۔ عام تمدنی اور معاشرتی تعلقات :
i۔ سب کو سلام: دین حق امن اور سلامتی کا مذہب ہے اس کا ہر آن اظہار وہ سلام ہے جس کا باہم ملاقات پر اظہار ہوتا ہے۔ آں حضرت ﷺ نے اس سلام کو عام کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: افشو السلام (بخاری۔ کتاب الادب) ۔ یعنی سلام کو پھیلاؤ۔ یہ حکم عام ہے اور اس میں پہلے سے جان پہچان کی بھی کوئی شرط نہیں۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں فرمایا
و تقرا لسلمٌ علیٰ من عرفت و من لم تعرف۔ (بخاری کتاب الاستئذان) ۔ یعنی سلام کہہ ان کو جن کو تو پہچانتا ہے اور جن کو تو نہیں پہچانتا۔
آپ خود بھی سلام کہنے میں مومن اور کافر میں بھی کوئی فرق نہ کرتے جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ:
’ایک دفعہ آں حضرت ﷺ مدینہ میں ایک گروہ کے پاس سے گزرے جن میں یہودی اور مشرک بھی تھے آپ ﷺ نے انہیں السلام علیکم کہا‘ ۔ (بخاری کتاب الاستئذان)
ii۔ مہمان نوازی: آں حضرت ﷺ کافروں کی مہمان نوازی بھی کھلے دل سے فرماتے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ: ’ایک دفعہ ایک غیر مسلم آں حضرت ﷺ کے ہاں مہمان ہوا۔ آپ نے اسے بکری کا دودھ دوہ کر دیا لیکن وہ سیر نہ ہوا۔ پھر دوسری بکری کا دودھ پیش کیا پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوئی۔ اس پر تیسری، چوتھی یہاں تک کہ وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ آپ ﷺ اس کی اس حرص پر مسکرائے لیکن مہمان سے کوئی بات نہ کی‘ ۔ ( ترمذی کتاب الاطعمہ )
iii۔ دعوت قبول کرنا : آں حضرت ﷺ غیر مسلموں کی دعوت بھی قبول کر لیتے اور ان کے ساتھ اور ان کے برتنوں میں کھانے پینے میں کوئی عار نہ جانتے جیسا کہ درج ذیل دو واقعات سے ظاہر ہے :
خیبر کی ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے آپ کی خدمت میں بکری کے بھنے ہوئے گوشت کا تحفہ پیش کیا آپ نے اسے قبول فرما لیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس میں زہر ملا ہوا تھا۔ (سیرت حلبیہ اردو۔ جلد سوئم نصف اول صفحہ 180 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی 1999 )
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے حضورﷺ کی دعوت کی اور جو کی روٹی اور چربی پیش کی۔ حضور ﷺ نے یہ دعوت قبول فرمائی۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ نمبر 211 )
iv۔ تحفہ قبول کرنا : آں حضرت ﷺ غیر مسلموں کا تحفہ بھی قبول کر لیتے۔ ایسا ایک واقعہ درج ذیل ہے :
یہودان بنو نظیر میں سے محزق نامی ایک یہودی نے مرتے وقت اپنے سات باغ آں حضرت ﷺ کے نام بطور ہبہ وصیت کیے ۔ جو آں حضرت ﷺ نے قبول فرمائے۔ ( روض الانف جلد 2 صفحہ 143 ) ٖ
v۔ عیادت: آں حضرت ﷺ بیماروں کی عیادت کرنے میں مسلم و غیر مسلم میں کوئی فرق نہ کرتے تھے۔ جیسا کہ مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سلیمان ندوی نے سیرت النبی ﷺپر اپنی کتاب میں لکھا ہے :
’بیماروں کی عیادت میں دوست و دشمن، مومن و کافر کسی کی تخصیص نہ تھی‘ ۔ ( سیرۃ النبی ﷺ جلد دوم صفحہ 259 مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاہور طبع چہارم )
صحیح بخاری میں غیر مسلموں کی عیادت کا ایک واقعہ یوں لکھا ہے : ’ایک دفعہ مدینہ میں ایک یہودی نوجوان بیمار ہو گیا۔ آں حضرت ﷺ کو اس کا علم ہوا تو عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ اس کی حالت کو نازک پا کر اسے تبلیغ فرمائی اور فرمایا :خدا کا شکر ہے کہ ایک روح آگ کے عذاب سے نجات پا گئی‘ ۔ (بخاری کتاب الجنائز باب عیادت المشرک)
vi۔ جنازہ کا احترام :آں حضرت ﷺ جنازوں کے احترام میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ کرتے۔ چنانچہ بخاری میں درج ہے :
شام کی فتح کے بعد دو صحابہ ایک جنازہ کو دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ ایک نئے مسلمان نے تعجب کیا اور کہا یہ تو ایک عیسائی کا جنازہ تھا۔ انہوں نے جواب دیا ہاں ہم جانتے ہیں مگر آں حضرت ﷺ کا یہی طریق تھا۔ ایک بار ایک جنازہ کے احترام میں آپ کھڑے ہو گئے تو کسی نے کہا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا تو فرمایا: ’کیا یہودی انسان نہیں ہوتے! اور کیا ان میں خدا کی پیدا کی ہوئی جان نہیں؟ ( بخاری کتاب الجنائز۔ باب من قام لجنازۃ لیھودی ) (مسند احمد بن حنبل جلد 6)
vii۔ مردوں کا احترام: انسانی لاشوں کے احترام میں بھی آپ ﷺ مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تمیز نہ فرماتے۔ جیسا کہ درج ذیل واقعات سے ظاہر ہے ’ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کئی سفر کیے ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے کسی انسان کی نعش پڑی دیکھی ہو اور اسے دفن نہ کروایا ہو۔ کبھی یہ نہیں پوچھا کہ یہ مسلمان ہے یا کافر‘ ۔ ( مستدرک حاکم جلد 1)
’بدر میں ہلاک ہونے والے 24 مشرک سرداروں کو بھی آپ ﷺ نے خود میدان بدر میں ایک گڑھے میں دفن کروایا تھا‘ ۔ ( بخاری کتاب المغازی)
’غزوہ احزاب میں ایک مشرک سردار نوفل بن عبداللہ خندق میں گر کر ہلاک ہو گیا۔ مشرکین مکہ نے اس کی لاش کے بدلے دس ہزار درہم کی پیش کش کی۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:‘ ان کا مردہ واپس لوٹا دو، ہمیں نہ اس کے جسم کی ضرورت ہے اور نہ قیمت کی ’۔ (ابن ہشام جلد 3 صفحہ 273 )
viii۔ پڑوسی کے حقوق:پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی روشن تعلیم ہے کہ: ترجمہ: رشتہ دار ہمسائیوں اور بے تعلق ہمسائیوں پر احسان کرو۔ ( نساء 4 : 37)
یہ تعلیم مسلم اور کافر میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ آں حضرت ﷺ نے بھی مومنوں کو پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی۔ اور خود بھی مسلم اور غیر مسلم میں کسی فرق کے بغیر پڑوسیوں سے حسن سلوک کیا۔ ویسے بھی مکہ میں آں حضرت ﷺ اور صحابہ ؓ کے بیشتر پڑوسی مسلمان نہ تھے۔ پھر آں حضرت ﷺ کے اسوہ کے مطابق یہ تعلیم ایسے پڑوسی کے لئے بھی ہے جو غیر ہونے کے ساتھ مخالف اور بد سلوکی کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ درج ذیل واقعہ سے ظاہر ہے :
’ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک بار آں حضرت ﷺ نے فرمایا:‘ ابو لہب اور عتبہ میرے پڑوسی تھے اور میں ان کی شرارتوں میں گھرا ہوا تھا۔ یہ لوگ مجھے تنگ کرنے کے لئے غلاظت کے ڈھیر میرے دروازے پر ڈال دیتے۔ میں باہر نکلتا تو خود اس غلاظت کو راستہ سے ہٹاتا اور صرف اتنا کہتا :اے عبدالمناف کے بیٹو! کیا یہی حق ہمسائیگی ہے؟ ’ (طبقات ابن سعد جزو اول)
ix۔ چھینک پر دعا: آں حضرت ﷺنے چھینک پر دعا کی تعلیم فرمائی۔ (بخاری کتاب الادب) اور اس پر عمل میں کوئی تفریق نہ کی۔ چنانچہ اس تعلیم پر یہودیوں کے حق میں آپ ﷺ کے عمل کا ایک واقع یوں ملتا ہے :
’کسی یہودی کو حضور ﷺ کی مجلس میں چھینک آ جاتی تو آپ اسے یہ دعا دیتے۔ کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال اچھا کر دے‘ ۔ ( سیوطی)
x۔ لین دین: لین دین رکھنے اور معاملہ کرنے میں بھی آں حضرت ﷺ نے مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کیا۔
مدینہ کے یہود سے آخر وقت تک آپ ﷺ کا لین دین اور معاملہ رہا۔ بوقت وفات بھی آں حضور ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس 30 صاع غلے کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری کتاب المغازی)
2۔ بلا امتیاز خدمت: آں حضرت ﷺ بنی نوع انسان سے عام محبت کرتے اور آپ کا دامن شفقت سب کے لئے پھیلا رہتا۔ آپ کے اس لطف و کرم سے اپنے اور غیر سب فیض اٹھاتے۔ دوسروں کے کام آنے کے لئے آپ ﷺ مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ کرتے۔
آپ ﷺ کا مکہ میں ایک بوڑھی عورت کا بوجھ اٹھا کر اس کی مدد کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو بچہ بچہ کے علم میں ہے۔ یہ عورت غیر مسلمہ تھی اور آپ ﷺ کو جادو گر جان کر ڈر کر اپنا گھر چھوڑ کر جا رہی تھی۔
اسی طرح ایک اور واقعہ عام ہے۔ جس میں آپ نے مکہ میں نو وارد اراشی نامی ایک شخص کا حق دلانے کے لئے اپنے ایک جانی دشمن ابو جہل کے در پر دستک دی۔ یہ نو وارد غیر مسلم بھی تھا اور اجنبی بھی۔ (ابن ہشام۔ جلد 2 صفحہ 123۔ 124، دارالفکر بیروت )
3۔ بلا امتیاز عدل و انصاف: اختلاف عقیدہ انصاف کرنے کی راہ میں روک نہ بنے۔ یہ قرآنی حکم ہے جس پر آں حضرت ﷺ نے حیرت انگیز طور پر عمل فرمایا۔ درج ذیل چند واقعات اس کا نمونہ ہیں :
i۔ یہودی قرض خواہ: ایک موقع پر ایک یہودی قرض خواہ نے آں حضرت ﷺ سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے گستاخی کے کلمات کہے اور آں حضور ﷺ کے گلے میں چادر ڈال کر اتنے بل دیے کہ چہرہ مبارک کی رگیں ابھر آئیں۔ حضرت عمر ؓ نے جو اس موقع پر موجود تھے سختی سے اس یہودی کو ڈانٹ کر روکا۔ آں حضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا: ’عمر! تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ اس کو نرمی سے سمجھاتے اور تمہیں مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں قرض وقت پر ادا کروں‘ ۔
بعد ازاں قرض کی ادائیگی کے ساتھ کچھ زائد کھجور اس سخت کلام کو تاوان کے طور پر ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ (مستدرک حاکم)
ii۔ خیبر کے یہود کے حق میں فیصلہ: آپ کے ایک صحابی محیصہ خیبر میں شہید کر دیے گئے۔ ان کے ورثا ء حضور ﷺ کے پاس قصاص کا دعویٰ لے کر آئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم قسم کھا کر قاتل کا تعین کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! ہم تو وہاں پر موجود نہ تھے اس لئے ہم کیسے قسم کھا سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ثبوت کے بغیر قصاص کیسے ممکن ہے؟ اب صرف یہی صورت ہے کہ خیبر کے یہودی جن پر تمہیں شبہ ہے قانون کے مطابق پچاس قسمیں کھائیں کہ انہیں قاتل کا علم نہیں۔ ورثاء نے کہا کہ ان یہودیوں کا کیا اعتبار؟ آپ نے فرمایا کہ اس سے زیادہ باز پرس کی اجازت نہیں۔ کیونکہ قانون میں کسی امتیاز کی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے پاس سے دیت ادا کر دی۔ ( بخاری کتاب الجہاد )
iii۔ یہودی قبیلہ بنو نضیر کو بچوں کو ساتھ لے جانے کی اجازت: جب بنو نضیر کو ان کی غداری اور فتنہ انگیزی کی سزا میں مدینہ سے جلا وطن کیا گیا اور انہوں نے اپنے ساتھ ان لوگوں کو بھی لے جانا چاہا جو انصار کی اولاد تھے مگر زمانہ جاہلیت میں منت ماننے کے نتیجہ میں یہودی بنا دیے گئے تھے۔ تو انصار نے انہیں مدینہ میں روک لینا چاہا۔ معاملہ پیش ہونے پر آں حضرت ﷺ نے انصار کے خلاف فیصلہ فرمایا۔ اور یہ فرما کر بنو نضیر کو مسلمان انصار کے قبل اسلام کے ان بچوں کو اپنے ہمراہ لے جانے کی اجازت دے دی۔ کہ ’جو شخص بھی یہودی ہے اور جانا چاہتا ہے ہم اسے روک نہیں سکتے‘ ۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد)
iv۔ خیبر کے یہود کے گلہ کی واپسی: جنگ خیبر کے محاصرہ کے دوران ایک یہودی رئیس کا گلہ بان مسلمان ہو گیا۔ یہودی رئیس کا گلہ اس کے ہمراہ تھا جس کے بارے میں اس نے آں حضرت ﷺ سے پوچھا! یا رسول اللہ ﷺ ان بکریوں کا میں کیا کروں؟ فرمایا: ’ان کا منہ قلعہ کی طرف کر کے ہانک دو‘ ۔ ایسا ہی کیا گیا۔ ( سیرت حلبیہ اردو جلد سوئم نصف اول صفحہ 138۔ 137 دارالاشاعت کراچی 1999 )
یہ حالت جنگ میں غیر مسلم دشمن کے لئے خوراک کے ذخیرہ کی فراہمی تھی لیکن چونکہ انصاف کا تقاضا یہی تھا اس لئے آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔
4۔ غیروں کی جان و مال کا تحفظ: غیروں کی جان و مال کے آپ ہمیشہ محافظ رہے۔ ایسے چند واقعات درج ذیل ہیں :
1۔ فتح خیبر کے موقع پر یہود نے شکایت کی کہ بعض مسلمانوں نے ان کے جانور لوٹے اور پھل توڑے ہیں۔ آں حضرت ﷺ ناراض ہوئے اور تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ’اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ تم بغیر اجازت کسی کے گھر گھس جاؤ اور پھل وغیرہ توڑو‘ ۔ ( ابو داؤد جزو ثانی صفحہ 424 )
2۔ ایک سفر کے دوران کھانے کو کچھ نہ تھا کہ کافروں کی کچھ بکریاں نظر آئیں بعض اصحاب نے انہیں پکڑ کر ذبح کر لیا اور ہنڈیا چڑھا دی۔ آں حضرت ﷺ کو علم ہوا تو آپ ﷺ تشریف لائے اور کمان سے ہانڈیاں الٹ دیں اور فرمایا : ’لوٹ کی چیز مردار سے زیادہ حلال نہیں‘ ۔ (ابن ہشام جزو ثانی صفحہ 188 )
3۔ ایک غزوہ میں مشرکین کے چند بچے لپیٹ میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ حضور ﷺ کو پتہ لگا تو فرمایا یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے معصوم بچوں کو بھی قتل کر ڈالا؟ ایک صحابی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ وہ مشرکین کے بچے ہی تو تھے۔ فرمایا: ’مشرکین کے بچے بھی تمہاری طرح کے انسان ہیں اور بہترین انسان بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ ۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 24 )
5۔ غیروں سے معاہدات کی پابندی : صلح حدیبیہ کا معاہدہ جہاں اور کئی روشن پہلوؤں کا حامل ہے۔ وہیں آں حضرت ﷺ کے غیروں سے معاہدات کے احترام کی ایک حیرت انگیز مثال بھی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل سے ظاہر ہے :
واقعات کے مطابق صلح حدیبیہ کے موقع پر شرائط طے پا گئی تھیں گو ابھی معاہدہ لکھا نہ گیا تھا کہ کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو کا اپنا بیٹاجو مکہ میں مسلمان ہونے کے جرم میں قید و بند جھیل رہا تھا۔ مسلمانوں کے حدیبیہ پہنچنے کی خبر سن کر یہ حضرت ابو جندل ؓ گرتے پڑتے اس حال میں وہاں آن پہنچے کہ پاؤں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر زخموں کے نشان۔ آ کر پناہ کے طالب ہوئے۔ مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ لیکن سہیل معترض ہوا اور کہا کہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔ آں حضرت ﷺ نے اس سے اتفاق کیا۔ اس پر حضرت ابو جندل ؓ نے عرض کیا : ’کیا آپ مجھے پھر ان کافروں کے حوالے کر دیں گے۔ جنہوں نے مجھے اتنی تکلیفیں پہنچائی ہیں اور ظلم کیے ہیں؟‘
آں حضرت ﷺ نے فرمایا: ’ابو جندل! صبر کرو اللہ تمہارے اور دیگر مظلوموں کے لئے کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔ اب صلح ہو چکی ہے اور ہم ان لوگوں سے اپنا عہد نہیں توڑ سکتے۔ ‘ (سیرت ابن ہشام اردو جلد دوم صفحہ 378 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور)
6۔ دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام: آں حضرت ﷺ غیر مسلموں کے مذہبی جذبات کا بہت احترام فرماتے اور حتی الامکان ان کی دل شکنی سے احتراز فرماتے۔ ایسے چند واقعات درج ذیل ہیں :
i۔ معاہدہ صلح حدیبیہ :
1۔ معاہدہ لکھا جانے لگا تو ابتداً فرمایا لکھو! بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سہیل بن عمرو نے کہا : یہ رحمان کا لفظ کیسا ہے ہم اسے نہیں جانتے اس طرح لکھا جائے جس طرح عرب لکھتے ہیں : با سمک اللٰھم
آں حضرت ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں
2۔ پھر فرمایا۔ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ نے کیا ہے
سہیل نے جھٹ اعتراض کی اور کہا : رسول اللہ کا لفظ ہم نہیں لکھنے دیں گے۔ محمد بن عبداللہ لکھو۔
یہ لفظ لکھا جا چکا تھا۔ فرمایا۔ ’کاٹ دو‘ ۔
حضرت علیؓ نے جو معاہدہ لکھ رہے تھے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں تو آپ کے نام کے ساتھ یہ لفظ کبھی نہیں مٹاؤں گا۔ اس پر آں حضرت ﷺ نے نشان دہی کروا کریہ لفظ خود کاٹ دیے۔ (بخاری کتاب المغازی)
ii۔ دوسروں کے جذبات کے احترام میں مقام کے اظہار میں کمی:
ایک دفعہ ایک صحابی نے کسی یہودی کے سامنے آں حضرت ﷺ کی حضرت موسیٰ ؑ پر ایسے رنگ میں فضیلت بیان کی جس سے اس یہودی کو صدمہ پہنچا تو آں حضرت ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ ٹھیک ہے میں افضل الانبیاء اور خاتم النبیین ہوں لیکن دوسروں کی دلداری کی خاطر میرے حق کے باوجود لا تخیر و نی علیٰ موسیٰ (بخاری کتاب التفسیر سورہ اعراف ) یعنی مجھے موسیٰ ؑ پر فضیلت نہ دیا کرو۔
iii۔ حضرت یونس ؑ کو اپنا بھائی کہنا:
دوسروں کے جذبات کے احترام کی خاطر ایک اور موقع پر فرمایا: ’مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت نہ دیا کرو‘ ۔ (بخاری)
پھر طائف سے واپسی پر نینوا کے عیسائی غلام عداس کے سامنے بھی حضرت یونسؑ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ ( ابن ہشام و طبری )
iv۔ زبانی اظہار عقیدہ کو کافی جاننا:
مذہبی جذبات کے احترام کا ایک انتہائی اعلیٰ رخ آپ ﷺ کا یہ اسوہ تھا کہ آپ کسی بھی فرد کے اپنے عقیدہ کے اس کے اپنے اظہار کو حتمی جانتے اور اس بات کو سخت ناپسند فرماتے کہ کسی عقیدہ کے اظہار پر اس بناء پر شک کیا جائے کہ یہ کسی اور غرض کے تحت ہے اور اظہار کرنے والے کے دل میں کچھ اور ہے۔
ایک لڑائی میں حضرت اسامہ بن زید ؓ نے ایک کافر کو باوجود یہ کہنے کے کہ میں مسلمان ہوتا ہوں، قتل کر دیا۔ یہ واقعہ جب آپ ﷺ کے سامنے ذکر ہوا تو آپ ﷺ حضرت اسامہ ؓ پر سخت ناراض ہوئے اور ان کے اس عذر پر کہ وہ شخص دل سے مسلمان نہ ہوا تھا۔ آپ ﷺنے تکرار سے فرمایا
’یا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟‘ ۔ آپ کی ناراضگی اس قدر تھی کہ حضرت اسامہ ؓ نے تمنا کی کہ ’کاش میں اس واقعہ سے پہلے مسلمان ہی نہ ہو ا ہوتا‘ ۔ ( مسلم کتاب الایمان )
7۔ مسجد نبوی ﷺ کا غیر مسلموں کے لئے کھلا رکھنا:
مذہبی رواداری کا ایک اور حسین پہلو آں حضور ﷺ کا اپنی مسجد کو غیر مسلموں کے لئے کھلا رکھنا تھا۔ جیسا کہ درج ذیل دو واقعات سے ظاہر ہے :
i۔ نجران کے عیسائی : فتح مکہ کے بعد دس ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا 60 افراد پر مشتمل ایک وفد مدینہ آیا۔ دوران گفتگو ان کی عبادت کا وقت آ گیا۔ آں حضرت ﷺ نے ان کو مسجد میں اپنے طریق کے مطابق عبادت کی اجازت دی۔ چنانچہ عیسائیوں نے مسجد نبوی ﷺ میں مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کی۔ ( زرقانی جلد 2 صفحہ نمبر 135)
ii۔ طائف کا مشرک سردار: فتح مکہ کے بعد طائف سے بنو ثقیف کے مشرکین کا ایک وفد آں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کی سربراہی عبد یالیل نامی وہی سردار کر رہا تھا۔ جس نے آں حضرت ﷺ کے سفر طائف کے دوران آپ کو انتہائی دکھ دیا تھا۔ اس وفد کے قیام کے لئے حضور ﷺ نے مسجد نبوی میں خیمے نصب کروائے۔ بعض صحابہ نے یہ بھی کہا کہ: ’آپ ان کو مسجد میں ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ مشرک ہیں اور مشرک نجس ہوتے ہیں‘ ۔ آپ نے فرمایا کہ ’یہ ارشاد الٰہی دلوں کی گندگی کے لئے ہے اور شرک کی نجاست خدا کی زمین کو ناپاک نہیں کیا کرتی‘ ۔
(احکام القرآن جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 109 )
8۔ بلا لحاظ عقیدہ باہمی تعاون: اختلاف عقیدہ کے ساتھ باہم تعاون کی سب سے اعلیٰ مثال وہ میثاق مدینہ ہے جو آں حضرت ﷺ نے مدینہ کی پہلی مسلم حکومت کے آئین کے طور پر منظور فرمایا اور جس کے فریق، مسلمان، یہود اور مشرکین تھے۔ اس معاہدے میں غیر مذاہب کے لوگوں کو مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم قرار دیا گیا۔ اور سب کو اپنے عقائد پر رہنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی آزادی کا حق تسلیم کیا گیا۔ چند شقیں درج ذیل ہیں :
i۔ تمام مذاہب کے لوگ اور تمام اقوام و قبائل ایک امت مانی جائیں گی۔
ii۔ کسی فریق کی جنگ کی صورت میں مسلمان غیر مسلموں کی مدد کریں گے اور غیر مسلم، مسلمانوں کی اعانت کریں گے۔
iii۔ یہود کے تعلقات جن قوموں سے دوستانہ ہوں گے ان کے حقوق مسلمانوں کی نظر میں یہود کے برابر ہوں گے۔
(سیرت ابن ہشام اردو جلد اول صفحہ نمبر 442۔ 439 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )
9۔ حیرت انگیز مذہبی آزادی کا قیام: آں حضرت ﷺ نے حیرت انگیز مذہبی آزادی کو قائم فرمایا۔ اس آزادی کے تین تابناک رخ درج ذیل ہیں۔
i۔ اپنے دین پر قائم رہنے کی آزادی :
دین حق میں جبر نہیں اس لئے آپ ﷺ کی زندگی میں جہاں بھی غلبہ ہوا۔ وہاں رہنے والے غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی مکمل آزادی دی گئی جیسے :
1۔ پہلی اسلامی ریاست مدینہ میں بسنے والے یہود و مشرکین
2۔ خیبر کے یہودی
3۔ فتح مکہ کے بعد وہاں کے مشرکین
سب کو مکمل مذہبی آزادی رہی۔
نجران کے عیسائیوں سے جو معاہدہ ہوا اس میں انہیں مکمل مذہبی آزادی دی گئی۔ اس میں منجملہ اور باتوں کے لکھا گیا :
’مسلمان ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے۔ ان کا کوئی گرجا گرا یا نہیں جائے گا۔ نہ ہی کسی اسقف یا کسی پادری کو بے دخل کیا جائے گا۔ اور نہ ہی ان کے حقوق میں کوئی تبدیلی یا کمی بیشی ہو گی۔ نہ انہیں ان کے دین سے ہٹایا جائے گا۔ اور ان پر کوئی ظلم یا زیادتی نہیں ہو گی‘ ۔ (ابو داؤد کتاب الخراج)
ii۔ بلا شرط ایمان عام معافی :
فتح مکہ کے موقع پر بلا شرط ایمان مخالفین کو عام معافی دی گئی۔ ان معافی پانے والوں میں دین حق کے کئی بڑے بڑے دشمن بھی شامل تھے جیسے :
ابو سفیان، ہندہ، عکرمہ، حضرت حمزہ ؓ کا قاتل وحشی اور آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کا قاتل ہبار
iii۔ مسلمان نہ ہونے کے علانیہ اظہار کے باوجود دشمن کو معافی:
مشرک سردار صفوان بن امیہ نے جنگ بدر کے بعد عمیر بن وہب کو زہر میں بجھی تلوار کے ساتھ آں حضرت ﷺ کو نشانہ بنانے کے لئے مدینہ بھیجا۔ فتح مکہ کے بعد بھاگ کر جدہ چلا گیا۔ اس کے چچا زاد نے امان کی درخواست کی۔ آں حضور ﷺ نے امان دی اور اپنا عمامہ بطور نشانی عطا فرمایا۔ جس پر صفوان لوٹ آیا۔ لیکن بجائے ایمان لانے کے یہ کہا :
’ میں تمہارا دین ابھی قبول نہیں کروں گا مجھے دو مہینے کی مہلت دو‘ ۔
آپ ﷺ نے جواباً فرمایا : ’دو نہیں تم چار مہینہ لے لو‘ ۔
یوں یہ ایک دشمن کو ایمان نہ لانے کے علانیہ اظہار کے باوجود معافی تھی۔
(سیرت حلبیہ اردو جلد سوم نصف اول صفحہ 287۔ 286۔ مطبوعہ دارالاشاعت کراچی 1999 )
حاصل کلام: آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مذہبی رواداری کی یہ حیرت انگیز تعلیم اور اس کے مطابق آپ ﷺ کا روشن اسوہ حسنہ، تنگ نظری، تعصب اور انسانی بھائی چارے کو کچلنے والے تمام محرکات کی موثر نفی کرتا ہے۔ اور یوں یہ انسانیت پر آپ ﷺ کا ایک عظیم احسان ہے۔ جس کا احساس کر کے ہر دل آپ ﷺ کی محبت سے بھر جاتا ہے اور زبانوں پر بے اختیار یہ الفاظ آ جاتے ہیں الھم صلے علی محمد و علی آل محمد۔
آج ہر طرف تعصب اور تنگ نظری کے اندھیرے پھیلے ہوئے ہیں۔ جنہیں روشنی میں بدلنے کی خاطر آں حضرت ﷺ کے اس مبارک اسوہ کا خوب پرچار کرنے کی ضرورت ہے۔ تا لوگوں کے علم میں آئے کہ قرآنی تعلیم کی رو سے ہر شخص کو ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ تمام مذاہب کے بانی اور پیشوا عزت اور احترام کے مستحق ہیں۔ اور باہمی اچھے تمدنی اور معاشرتی تعلقات کے قیام اور معاملات کے کرنے میں مذہبی عقیدہ کا فرق بے تعلق بات ہے۔






