محمود خان اچکزئی: افغان طالبان کا نیا وزیر خارجہ


پختون ایک عمرانی معاہدے (پختون ولی) میں بندھی ہوئی مشترکہ زبان کی حامل مختلف نسلوں پر مبنی ایک قومی گروہ کا نام ہے اور بدل (انتقام) ، دشمنی، ننواتی (جرگہ) اور صلح، دوسری اجزا کی طرح پختون ولی کا لابدی حصہ ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے اور طالبان خود بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ماضی میں اپنی قوم اور دوسری گروہوں کے خلاف قتل مقاتلے میں ملوث رہے ہیں، جو آج بھی اپنے اس اعتراف اور عمل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان کے ہاتھ پختونوں کے خون سے رنگے نہیں ہیں، لیکن ان کے مقابل جو ہم جیسے عدم تشدد کے پرچارک ہیں ان کے پاس طالبان سے بدل لینے کے لئے اخلاقی اور عوامی طاقت اور پختون ولی کے اصولوں کے علاوہ کون سا متبادل راستہ اور طاقت موجود ہے؟

کیا دشمنی اور بدل کے ساتھ ننواتی اور صلح لازم و ملزوم نہیں ہوتا؟ کیا زیادتی کرنے والے کو معاف کر کے دوست بنانا اعلیٰ اخلاقی قدر نہیں رہی؟ کیا کوئی لڑائی کسی لڑائی نے ختم کی ہے یا حجرے اور جرگے میں بیٹھ کر لڑائیاں ختم کی جاتی ہیں؟ ہزاروں سالوں پر مشتمل ایسی کوئی تاریخی شہادت بھی میسر نہیں ہے کہ کبھی کسی لڑائی میں سارے مرد ختم ہو گئے ہوں اور فریقین کی عورتوں نے جرگے میں بیٹھ کر آپس میں صلح کر دیا ہو؟ دشمنی اور صلح، قتل مقاتلے اور امن و معافی سب مرد کرتے ہیں، مرد کرتے آئے ہیں، کیونکہ مرد خودمختار ہوتے ہیں، وہ اپنی نسل کی بہتر مستقبل کی خاطر ماضی کو بھلانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

طالبان اقلیت پر مشتمل ایک غیر جمہوری گروہ ہے، کیونکہ ان کی طاقت عوامی مرضی پر مشتمل نہیں تو اشرف غنی نے جن قوتوں کے ساتھ شراکت اقتدار کر کے حکومت حاصل کی تھی وہ قوتیں بھی تو بندوق کی طاقت پر بھروسا کرتے تھے۔ آپ خود سوچیں کہ جب اشرف غنی کی تین لاکھ فوج اور جدید بارودی طاقت طالبان کا سامنا میدان جنگ میں سامنا نہیں کر سکی تو آپ اپنی تقریروں سے کیسے ان سے اختیار یا امن واپس لے سکتے ہیں؟ طالبان جنگ اور بدامنی کے ماہر ہیں اور آپ امن اور آشتی کے طلبگار ہیں، دونوں کا اس میدان میں کوئی مقابلہ نہیں۔

طالبان جن قوتوں نے پیدا کیے تھے ان کے اور مولانا فضل الرحمان کے مقاصد یکساں ہیں۔ دونوں کا مقصد پختون علاقوں اور ذہنوں سے قوم پرستی کو دیس نکالا دینا ہے۔ طارق جمیل اینڈ کمپنی انہی لائن پر کام کرنے والی ان کی ایک اور اختصاصی جماعت ہے۔ آپ کو وقتی طور پر صحیح لگے تو مولانا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جلسہ جلوس مزاحمت اور انتخابی اتحاد کرلیتے ہیں اس وقت آپ یہ نہیں سوچتے کہ پروڈکٹ جس کی بھی تھی لیکن انڈے اور انہیں سینے کے لئے پولٹری فارمز مولانا نے مہیا کیے تھے اور وہی ہیں جو اشرف غنی جیسی حالت بنانے کی دھمکی بھی دیتا ہے۔

جب محدود وقتی مقاصد کے حصول کے لئے آپ شہد کی مکھیوں کی ملکہ کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر یہ بھی نہ سوچیں کہ وہ کون ہیں؟ ان کو لانے والا کون تھے؟ کیونکہ وہ کل کی بات تھی، اگر آج طالبان اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ہر قسم کی حمایت سے محروم ہو گئے ہیں تو آپ کے لئے آگے بڑھ کر ان کے ساتھ بات چیت کرنے اور وسیع تر پختون بہبود کی خاطر ان کو دوست بنانے کے علاوہ کون سی آپشن موجود ہے؟ آپ کی تقریریں ان کو اقتدار سے الگ نہیں کر سکتی ہیں لیکن آپ کی ہم خیال لوگوں کو ان کا شریک اقتدار کر سکتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان، نواز شریف اور ایم کیو بھی آپ کے ساتھ شریک اقتدار رہی ہیں۔ عبد الولی خان مرحوم نے کئی بار حکمت یار کو حمایت دینے کی آفر کی تھی بشرطیکہ وہ ”امریکی جہاد“ چھوڑ کر پختون کاز کے لئے تیار ہو۔

ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور اس کی اثر میں پاکستان نے طالبان کو سپورٹ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ایک بڑی پالیسی شفٹ ایک بار پھر ظہور پذیر ہونے والی ہے۔ جس کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے پختون علاقے ایک بار پھر بدامنی سے دوچار ہونے والے ہیں۔ افغانستان میں رجیم چینج کے بعد پاکستان میں افغان طالبان کے ہمدرد ایک بار پھر اسی قسم کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جس طرح ماضی میں دیکھنے میں آئی تھی۔

کیا آپ ایک بار پھر خالی جسموں کے ساتھ بندوق و بارود کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں؟ کیونکہ لڑنے مرنے کا کام سیکورٹی فورسز کا ہے۔ پچھلی دفعہ تو حکومت دے کر آپ کو ٹریپ کر دیا گیا تھا لیکن اس دفعہ پھر اس قسم کی صورتحال میں پھنسنے کے بعد میں اسے آپ کی سیاسی سٹریٹیجی کا حصہ سمجھنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔

سرحد پار تبدیلی ہونی ہے لیکن اس تبدیلی کے دو متبادل راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ جو گرینڈ جرگہ بلایا گیا تھا اس کے ممبران کو لے کر افغانستان میں طالبان سے بات چیت کی جائے، آخر پاکستان نے بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ یہی کیا ہے اور اب بھی کوششیں جاری ہیں۔ جرگہ مشران طالبان کو پختون قوم کی بہبود اور امن کے نام پر قائل کریں کہ وہ شدت پسندی ترک کر کے جمہوریت، بین الاقوامی قوانین اور پختون ولی کے تحت ہمہ شمول حکومت قائم کر کے افغانستان کو مستقل بنیادوں پر ترقی کے راستے پر ڈالیں تو آپ اور آپ کے ہم خیال ان کی حمایت کریں گے، جس کی وجہ سے افغانستان افغان اور پختون مزید بربادی سے بچ جائیں گے اور پائیدار امن کے لئے راستہ ہموار ہو جائے گا یا پھر وہ امریکی جنگ باز حکمت عملی کا سامنا کرتے ہوئے علاقے خطے اور خصوصی طور پر پختونوں کو ایک بار پھر اور یا شاید آخری بار جنگ کا ایندھن بناتے ہوئے افغانستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش میں شرکت کرے۔

پہلا راستہ جو امن کا ہے وہ محمود خان اچکزئی نے اپنایا ہوا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ اگر طالبان پختون بننے پر تیار ہوں، ماضی کا راستہ ترک کرنے اور اپنے کیے پر شرمندہ ہوں، آپس میں بھائی چارہ قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں، افغانستان اور ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف پختون علاقوں میں امن قائم کرنے کے خواہشمند ہوں، تو دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور پختون ولی کی اعلی اقدار قائم کرنے میں دیر نہ کریں۔ کیونکہ پختونخوا کی امن افغانستان کی امن سے نتھی ہے اور آپ امن اور عدم تشدد کے پرچارک ہیں۔ امن مانگنے سے نہیں ملتا امن کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے پڑتے ہیں اور ٹھوس اقدامات پرانی دشمنیاں ختم کر کے آنے والی نسلوں کے لئے بہترین ماحول پیدا کرنے کا موقع ضائع نہ کرنے کا نام ہے۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani