سفر الوقت (ٹائم ٹریول) بنیادی معلومات
سفر الوقت (انگریزی: Time travel) وقت یا زمان کے مختلف نقاط پر مستقبل یا ماضی کی جانب سفر یا حرکت کرنے کے تصور کو کہا جاتا ہے، جو فضا یا مکان میں سفر یا حرکت کے مشابہ ہے۔ مزید برآں، سفر الوقت کی کچھ توجیہات و تشریحات کی رو سے اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ متوازی حقائق و کائناتوں میں سفر کیا جا سکے اور اسی طرح وقت میں آپ خود کو روک بھی سکتے ہیں۔ یہ نظریہ آئن سٹائن کا نظریہ وقت سے ماخوذ ہے۔
بیسویں صدی بجا طور پر ایک انقلابی دور ہے۔ اس صدی میں ہماری نظروں کے سامنے وہ کائناتی راز عیاں ہوئے جن کا تصور بھی آج سے سو سال پہلے کرنا محال تھا لیکن آسمانی مذاہب اس دور میں بھی سائنس کے کئی دعوؤں کا علی الاعلان انکار کرتے دکھائی دیتے تھے جن کو سائنس میں سند کی حیثیت حاصل تھی۔ کائنات کا پھیلاؤ انہی دعوؤں میں سے ایک دعویٰ تھا جس کی تصدیق آسمانی مذاہب کرتے دکھائی دیتے تھے مگر سائنسدان ساکن کائنات کے نظریے پر ڈٹے نظر آتے تھے اس دور میں جب بھی ان کے سامنے کائنات کے پھیلاؤ کے متعلق بات کی جاتی تو اس شخص کو جاہل قرار دے کر اس پر ہنس دیا جاتا تھا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی سائنسدان بعد میں کائنات کے پھیلاؤ کے بھی قائل ہوئے۔
وقت یا زمان میں سفر کا مفہوم یہ ہے کہ مکان کی طرح زمان میں بھی زمان کے مختلف نقاط میں آگے یا پیچھے منتقل ہوا جائے، وقت میں سفر کے بعض تصورات میں متوازی کائناتوں تک منتقلی کو بھی ممکن قرار دیا گیا ہے، انیسویں صدی کی سائنس فکشن کہانیوں میں بھی وقت میں سفر کو ممکن قرار دیا گیا، ماضی میں نظریہ اضافیت کے پیش نظر وقت میں سفر صرف مستقبل کی طرف ہی ممکن سمجھا گیا تاہم بعض جدید اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر تحقیق سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ وقت میں ماضی کی طرف سفر ممکن نہیں ہے۔
وقت میں سفر کے خیال نے علما کو مدتوں تک اپنی طرف متوجہ کیے رکھا جو خیال سے زیادہ پاگل پن معلوم ہوتا تھا تاہم نظریہ اضافیت کی آمد کے بعد یہ خیال سنجیدگی سے لیا جانے لگا اور ہر کس و ناکس نے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تاہم اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی وقت میں سفر کر سکتے ہیں؟ نظریاتی و طبیعیاتی طور پر یہ خیال بالکل درست ہے، یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جو گھڑیاں تیزی سے حرکت میں ہوں ان میں وقت کا فرق گھڑی کی ترکیب کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا، جیسے خلاء نورد جب زمین پر واپس آتے ہیں تو خلاء میں ان کے رہنے کے مدت اس زمانی مدت سے کم ہوتی ہے جو ہم زمین پر ریکارڈ کرتے ہیں مگر یہ فرق انتہائی کم ہوتا ہے۔
اسی طرح بہت سے دعوے ایسے ہیں جو مذاہب بہت پہلے کر چکے تھے مگر سائنسدان ان پر مہر تصدیق آج ثبت کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کی زمین پر آمد کا ذکر کیا جائے یا پھر بگ بینگ کی حقیقت، یہ سب دعوے اسلام 1400 سال پہلے کرچکا ہے۔ اسی طرح اسلام سمیت دیگر مذاہب کچھ حیران کن دعوے کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں ٹائم ٹریول انہی دعوؤں میں سے ایک دعویٰ ہے۔ ٹائم ٹریول سفر کی وہ قسم ہے جس میں مسافر کسی ایسے سفر کا دعویٰ کرے جس کے تحت وہ زمان و مکاں کی حدود و قیود سے آزاد ہو جائے۔
اس سے متعلق تاریخ میں کافی واقعات ملتے ہیں ان کی تین اقسام ہیں پہلی قسم وہ ہے جس میں مسافر اپنے وقت سے کئی صدیاں آگے نکل جائے جبکہ دوسری قسم وہ ہے جس میں مسافر کئی صدیاں پیچھے چلا جائے اس کے علاوہ تیسری قسم وہ ہے جس میں مسافر کئی صدیاں کسی اور زمانے میں گزار کر واپس اسی وقت پر آ جائے جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔ (واقعہ معراج)
کچھ نظریات، بطور خاص عمومی و خصوصی نسبیت، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زمان و مکاں (اسپیس ٹائم) کی مخصوص اش۔ کال (جیومیٹری) اور فضاء (مکاں ) کی چند خاص حرکات، ماضی یا مستقبل کی جانب س۔ ف۔ ر کو ممکن بنا سکتی ہیں بشرطیکہ یہ اش۔ کال و مکاں حاصل کیے جاسکیں۔
زمان مکانی کی مخصوص اشکال (Geometry) کا ”وقت / زمان“ میں سفر کا مفہوم یہ ہے کہ مکان کی طرح زمان میں بھی زمان کے مختلف نقاط میں آگے یا پیچھے منتقل ہوا جائے، وقت میں سفر کے بعض تصورات میں متوازی کائناتوں تک منتقلی کو بھی ممکن قرار دیا گیا ہے، انیسویں صدی کی سائنس فکشن کہانیوں میں بھی وقت میں سفر کو ممکن قرار دیا گیا،
وقت میں سفر ایک کلاسیکی خیال تھا جو سائنس فکشن کہانیوں میں پیش کیا گیا تھا، اس سلسلہ میں انگریز ادیب ایچ جے ویلز کی 1895 ء میں شائع ہونے والی کہانی ”ٹائم مشین“ کافی شہرت رکھتی ہے، اس حوالہ سے سب سے اچھی کہانی جو میں نے پڑھی تھی وہ مستقبل کی ایک ٹریول ایجنسی کے گرد گھومتی ہے جو ماضی کے سیاحتی سفر منظم کرتی ہے تاکہ سیاح ماضی میں زمین پر پیش آنے والے تاریخی واقعات اور حادثات کا براہ راست مشاہدہ کر سکیں، چنانچہ سیاح کو ماضی میں لے جاکر براہ راست امریکا کی سول جنگ (American Civil War) دکھائی جاتی ہے، پھر تھوڑا سا آگے لے جاکر ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے کا واقعہ دکھایا جاتا ہے، پھر سیاح ساٹھ کی دہائی میں منتقل ہوتے ہیں تاکہ صدر کینیڈی کو قتل ہوتا دیکھ سکیں!
ٹائم مشین سمیت ایسی بہت ساری کہانیوں پر فلمیں بھی بنیں۔
ماضی میں نظریہ اضافیت کے پیش نظر وقت میں سفر صرف مستقبل کی طرف ہی ممکن سمجھا گیا تاہم بعض جدید اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر تحقیق سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ وقت میں ماضی کی طرف سفر ممکن نہیں ہے۔ خصوصی نظریہ اضافیت یہ فرق اس مساوات سے واضح کرتا ہے :
∆t
∆t ’=۔
√ 1۔ v 2 /c 2
جہاں t∆ مشاہدہ کار کی گھڑی کے مطابق دو واقعات کے درمیان وقت، t∆ دو واقعات کے درمیان کا وقت جو خلائی جہاز میں سفر کرنے والا خلاء نورد نوٹ کرتا ہے جو v کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور c روشنی کی رفتار ہے۔
اس مساوات سے واضح ہوتا ہے کہ خلائی جہاز کی گھڑی سست روی سے چل رہی ہے۔
زمین پر ہماری رفتاریں یہ فرق واضح کرنے کے لیے انتہائی کم ہیں، یہ ہم تبھی نوٹ کر سکتے ہیں جب ہم روشنی کی 1 / 10 رفتار سے سفر کریں۔
1971 ء میں علما نے زمان کی اضافیت پر ایک تجربہ کیا، انہوں نے سیزیم (Caesium) کی چار گھڑیاں ایسے جیٹ جہازوں پر رکھ دیں جو دنیا کے گرد مسلسل سفر پر رہتے تھے اور جب ان گھڑیوں کے ریکارڈ کردہ وقت کا موازنہ امریکی بحریہ کی رصدگاہ کی گھڑی سے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جہازوں پر وقت معمولی سے فرق کے ساتھ زمین کے وقت کی نسبت سست تھا جو خصوصی اضافیت کے قوانین کے بالکل مطابق تھا۔
1976 ء میں ایک آبساز گھڑی ایک راکٹ میں رکھ کر اسے زمین کی سطح سے 10000 کلو میٹر کی اونچائی تک بھیجا گیا جہاں زمین کی سطح کی نسبت کشش کم ہوتی ہے، پھر راکٹ کی آبساز گھڑی کے اشاروں (سگنل) کا موازنہ زمینی گھڑیوں سے کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ زمینی گھڑی راکٹ پر موجود گھڑی کی نسبت ثانیہ کے دس ہزار ملین کے ایک حصہ کے 4.5 حصہ تیز ہے جو عمومی اضافیت کے پیش گوئیوں کے عین مطابق تھا، یاد رہے کہ جدید آبساز گھڑیوں میں غلطی کا تناسب تین ملین سالوں میں ایک ثانیہ ہے، یہ قیاس بلا شبہ زمان کے پھیلاؤ کا ثبوت ہیں جو اضافیت کی اہم پیشگوئیاں ہیں۔
1916 ء میں جب عمومی اضافیت پیش کی گئی اور زمان۔ مکان کے خم کا تصور سامنے آیا، اسی سال جرمن فلکیات دان کارل شوارز چائلڈ (Karl Schwarzschild) نے ثابت کیا کہ اگر (x) کی قیمت کو اس کے نصف قطر تک دبا دیا جائے تو زمان۔ مکان کا خم اتنا بڑھ جائے گا کہ کسی قسم کا کوئی بھی اشارہ چھوٹ نہیں پائے گا جس میں روشنی بھی شامل ہے اور ایک ایسا علاقہ تشکیل پائے گا جو نظر نہیں آ سکے گا جسے بعد میں سیاہ شگاف (black hole) کا نام دیا گیا، یہ تب ہوتا ہے جب سورج سے دگنی قیمت رکھنے والا کوئی ستارہ ڈھیر ہو کر اپنی کشش کے تحت بھنچ کر اس قدر دب جائے کہ ستارے کا سارہ مادہ ایک لامتناہی کثافت کے نقطہ پر جمع ہو جائے، چنانچہ روشنی کی کوئی بھی لہر یا کوئی جسم جو اس کے واقعاتی افق کی طرف بھیجا جائے تو وہ سیاہ شگاف کے مرکز تک کھینچ لیا جائے گا، نظریاتی طور پر لگتا ہے کہ سیاہ شگاف کے نزدیک جانے پر زمان۔
مکان کا خم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ اس کے واقعاتی افق تک پہنچا دیتا ہے جس کے ماوراء کچھ نہیں دیکھا جاسکتا، اگرچہ اس قسم کی صفات کے حامل ستارے کا خیال جون مچل (John Michell) کو جاتا ہے جس نے اسے 1783 ء میں پیش کیا تھا تاہم شوارز چائلڈ نے ڈھیر ہو کر سیاہ شگاف بننے والے ستاروں کے نظریہ اضافیت کی بنیاد پر ریاضیاتی حل پیش کیے، بعد میں پتہ چلا کہ شوارز چائلڈ نے سیاہ شگاف کا ایک ہی حل دریافت نہیں کیا تھا بلکہ دو حل دریافت کیے تھے، جو مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ سیاہ شگاف میں داخل ہونے والا جسم کس طرح ڈھیر ہو گا وہی مساواتیں متبادل کے طور پر یہ بھی بتاتی ہیں کہ سیاہ شگاف سے نکلنے والے جسم کے ساتھ کیا ہو گا (اس صورت میں اسے سفید شگاف کہا جاتا ہے ) ، اس طرح لگتا ہے کہ اگر ہم سیاہ شگاف کے اندر زمان۔
مکان کے خم کا پیچھا کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک بار پھر کسی دوسرے زمان۔ مکان میں کھل رہا ہے، گویا سیاہ شگاف ہماری کائنات کے زمان۔ مکان کو کسی دوسرے زمان۔ مکان سے باندھ رہا ہو، شاید کسی دوسری کائنات کا زمان۔ مکان جیسے (مارول۔ Marvel) کی کئی فلموں میں انسان کا ٹائم مشین میں داخل ہوتے ہی دوسری جانب کسی نئی دنیا میں قدم رکھ لینا لیکن وہ سارا (concept) تصور ابھی تک محض فرضی ہے سیاہ شگافوں اور کائنات کی تخلیق پر تحقیق کے حوالے سے مشہور عالم سٹیفن ہاکنگ کا خیال ہے کہ ماضی کا سفر دقیق تر درجہ پر ممکن ہے تاہم کسی کائناتی خم سے استفادہ کرتے ہوئے کسی ٹائم مشین کے ذریعہ ماضی کے سفر پر جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، وہ اسے زمانی تسلسل کی حفاظت کا نام دیتے ہیں جس کے مطابق طبیعیاتی قوانین وقت میں سفر کے خلاف سازش کرتے ہیں، درحقیقت وقت میں سفر کے امکان پر علما میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور زیادہ تر کا خیال ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے، سٹیفن ہاکنگ کہتے کہ کیپ تھورن (Kip Thorne) پہلے سنجیدہ عالم ہیں جو وقت میں سفر کے علمی امکانات پر تحقیق کر رہے ہیں، ان کا خیال ہے کہ بہر صورت اس کا فائدہ ہی ہے، کم سے کم ہم یہ تو جان سکیں گے کہ وقت میں سفر کیوں ممکن نہیں ہے؟ اس حوالے سے قابل ذکر اعتراضات بیان کرتا چلو تو ہیں کہ
اگر کوئی ماضی میں پہنچ جائے تو یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے وقت میں جا موجود ہو جس میں اس کا باپ نہیں تھا جو منطقی اور فلسفی دونوں طور پر نا ممکن امر ہے کیونکہ معلول علت سے پہلے نہیں آ سکتا بالکل جس طرح بیٹا باپ سے پہلے نہیں آ سکتا؟
اگر وقت میں سفر ممکن ہے تو آج تک کوئی مستقبل سے کیوں نہیں آیا؟ جبکہ وہ ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہوچکے ہوں گے۔ ؟
کیا کوئی اپنے پوتوں پڑپوتوں کے وقت میں زندہ رہ سکتا ہے جبکہ وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے؟ یا اپنے باپ داداؤں کے زمانے میں جاسکتا ہے جبکہ وہ خود ابھی پیدا ہی نہیں ہوا؟
کیا کوئی مادی جسم ایک ہی وقت میں دو مقامات پر موجود ہو سکتا ہے؟
کیا ہو اگر کوئی شخص اپنے بچپن میں جاکر اپنے آپ سے ہی ملاقات کر لے؟
بہرحال یہاں درپیش مسئلہ یہ تھا کہ سیاہ شگاف میں گرنے والا کوئی بھی مادہ اس کی اکائی میں گر کر اس طرح تباہ ہو گا کہ ہم اسے سمجھ ہی نہیں پائیں گے، مگر تحقیق کے آگے بڑھنے سے اس مسئلہ کا حل بھی دریافت کر لیا گیا، یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کائنات کے تمام اجسام گھومتے ہیں چاہے وہ کہکشائیں ہوں، ستارے ہوں یا سیارے، چنانچہ ہم امید کر سکتے ہیں کہ سیاہ شگاف بھی اسی طرح گھومتے ہوں گے، چنانچہ سیاہ شگاف کے گھومنے کے اثر سے اس میں داخل ہونے والا کوئی بھی جسم اس کی اکائی سے ٹکرا کر تباہ ہوئے بغیر دوسری طرف نکل سکتا ہے، اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات بالکل ایسی ہے جیسے حضور پاک (اللھم صل و سلم وبارک وانعم علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) معراج کی شب سفر معراج پہ گئے اور ہر آسمان پہ داخل ہونے سے پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اجازت طلب فرمائی مکمن ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کا ۔
سفر ان سیاہ شگافوں (بلیک ہول) میں کیا گیا ہو ( واللہ اعلم۔ اللہ اور ان کے ﷺ بہتر جانتے ہیں ) 1963 ء میں روئے کر (Roy Kerr) نے آئن سٹائن کے گھومتے سیاہ شگافوں کی مساواتوں کے کچھ حل پیش کیے جن میں واضح کیا گیا کہ اصولی طور پر ایک گھومتے سیاہ شگاف میں داخل ہو کر ایک راستے کے ذریعہ اس کی تباہ کن اکائی سے ٹکرائے بغیر دوسری طرف نکلنا ممکن ہونا چاہیے جو بظاہر کسی دوسری کائنات یا ہماری ہی کائنات کے کسی دوسرے زمان۔ مکان میں جا نکلے گا، سیاہ شگاف ایک راستہ تشکیل دیتے ہیں جسے ورم ہول کہا جاتا ہے چنانچہ سیاہ شگاف کو استعمال کرتے ہوئے کائنات اور زمان کے مختلف حصوں میں ماضی کی طرف سفر کرنے کے کافی امکانات ہیں
دین اسلام میں اگرچہ ٹائم ٹریول کے کئی واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں مگر ٹائم ٹریول سے متعلق سب سے حیران کن سفر حضور اکرم ﷺ کا سفر معراج ہے جس پر ملحدین/ Atheist بے پناہ اعتراضات اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ واقعہ معراج میں مستقبل (Future) کی طرف سفر کو جاری رکھا گیا۔ بیسویں صدی میں سائنسی انقلاب برپا کر کے دنیا کو بدل دینے والوں میں البرٹ آئن سٹائن کا نام سر فہرست ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کو ان کے نظریہ اضافت خصوصی اور نظریہ اضافت عمومی کے باعث بے پناہ شہرت ملی۔
نظریہ اضافت کے پہلے حصے میں یہ کہا گیا کہ اگر کوئی شے روشنی کی رفتار کو حاصل کر لیتی ہے تو ”اس چیز“ کے لئے وقت تھم جائے گا ور وہ شے جب سفر کر کے واپس آئے گی تو زمین پر کئی سو سال گزر چکے ہوں گے اس نظریے کو Twin paradox کہا جاتا ہے۔ اسی calculations اور اندازوں کے ذریعے مشہور زمانہ سائنسدان کارل ساگان نے بتایا کہ اگر روشنی کی رفتار کا دس فیصد حصہ بھی حاصل کر لیا جائے تو کوئی بھی شخص 21 سال میں ہماری کہکشاں ملکی وے کا چکر لگا کر واپس آ سکتا ہے لیکن اس دوران زمین پر ہزاروں سال گزر چکے ہوں گے۔
اس ضمن میں ایک تجربہ اکتوبر 1971 ء کو کر کے دیکھا گیا جب چار Cesium clocks کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا گیا اور طیارے میں سفر کرایا گیا۔ یاد رہے یہ گھڑیاں اس حد تک accurate ہوتی ہیں کہ 14 لاکھ سال بعد جا کر ان میں صرف ایک سیکنڈ کا فرق آ سکتا ہے۔ جب سفر کرنے کے بعد طیارے میں موجود گھڑیوں کا موازنہ زمین پر موجود Cesium clock کے ساتھ کیا گیا تو دونوں میں فرق تھا۔ اسی طرح میدانی علاقوں پر رہنے والے افراد کے لئے وقت آہستہ ہوتا ہے جبکہ پہاڑوں پر رہنے والے افراد کے لئے وقت کی رفتار تیز ہوتی ہے یہ بھی تجربے سے ثابت کیا جا چکا ہے لیکن یہ فرق اس قدر کم ہے اس کا اندازہ ہمیں عام زندگی میں نہیں ہو پاتا یہی وہ مقام ہے جہاں آ کر واقعہ معراج پر سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں کیونکہ ان سائنسی تجربات میں وقت تیز ہوجاتا ہے جبکہ واقعہ معراج یہ دعویٰ کرتا ہے کہ زمین پر وقت تھم گیا تھا اور کنڈی ہل رہی تھی۔ اسی وجہ سے اکثر مسلمان بھی trap ہو جاتے ہیں اور واقعہ معراج کو ایک خواب مان لیتے ہیں حالانکہ واقعہ معراج ایک حقیقت ہے۔
حدیث پاک (اللھم صل و سلم وبارک وانعم علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) میں آیا ہے۔
براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ جہاں تک نظر کی حد تھی، وہاں وہ قدم رکھتا تھا۔ براق کا سفر اس قدر تیزی کے ساتھ ہوا جس تک انسان کی عقل پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ایسا لگتا تھا ہر طرف موسم بہار آ گیا ہے۔ چاروں طرف نور ہی نور پھیلتا چلا گیا۔
اس سفر کے دوران آپ ﷺ مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ ﷺ آسمانوں میں اللہ تعالٰی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔ وہاں اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ کو جنت اور دوزخ دکھایا۔ وہاں آپ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔ [ 2 ] معراج جسمانی اور روحانی ایک اختلافی مسئلہ رہا ہے مگر احادیث صحیحہ اور تفاسیر معتبرہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ معراج جسمانی تھی اور خدا کے رسول نے فرش سے عرش تک بلکہ قاب قوسین او ادنیٰ تک کی منزل اپنے اسی جسم نازنین خاکی کے ساتھ طے کی تھیں مادہ اور مجرد میں ارتباط کیسے ہوا؟ یہ ایک فلسفی بحث ہے جس کو فلسفہ میں حل ہونا چاہیے۔
قرآن کریم میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشاد خداوندی ہے کہ
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ [ 1 ]
آپﷺ نے تمام ان واقعات کا نظارہ کیا جو قیامت تک وقوع پذیر ہوں گے بلکہ قیامت کے بعد کے وقوع پذیر ہونے والے واقعات مثلاً جنت اور دوزخ کے حالات اور ان کی سیر بھی کی۔ یہاں تک تو جدید سائنس بھی گواہی دیتی دکھائی دیتی ہے کہ مستقبل میں سفر کرنا ممکن ہے، آپ ﷺ نے مستقبل کا ایسا سفر کیا جس میں آپ ﷺ کے لئے وقت رکا رہا لیکن ساتھ آپ ﷺ نے مستقبل کا مشاہدہ بھی کیا۔ اس سفر کے دوسرے حصے کا جواب ہمیں نظریہ اضافت کے دوسرے حصے میں ملتا ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ نظریہ اضافت کا دوسرا حصہ کہتا ہے کہ ہماری کل کائنات دراصل سپیس ٹائم فیبرک (زمان و مکاں کی چادر) کا مجموعہ ہے اس مثال کو سمجھانے کے لئے کارل ساگان یہ مثال دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ فرض کیجئے کہ ایک صفحے پر زندہ انسان قید ہے چونکہ صفحہ x اور y ایکسز (یعنی لمبائی اور چوڑائی) پر مشتمل ہوتا ہے سو یہ انسان دو جہتی دنیا میں قید ہے۔ بالکل اسی طرح ہماری کائنات کی چادر سپیس ٹائم سے بنی ہے اس چادر میں لمبائی، چوڑائی، اونچائی اور وقت موجود ہے۔
بالکل اسی طرح ہماری کائنات کی چادر سپیس ٹائم سے بنی ہے اس چادر میں لمبائی، چوڑائی، اونچائی اور وقت موجود ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کے دور میں یہ کہا جاتا تھا کہ مستقبل میں سفر ممکن ہے مگر ماضی میں نہیں مگر مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے بتایا کہ اگر آپ اس کائناتی چادر پر قابو پالیں اور اس کو موڑ لیں تو آپ ورم ہول بنا کر ماضی کے دریچوں میں بھی گھس سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سپیس ٹائم فیبرک لچکدار بھی ہے اور اس کو موڑا بھی جاسکتا ہے۔
لہٰذا اب آپ اگر اس کاغذی انسان والی مثال سامنے لیجیے اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ حضور اکرمﷺ اپنا سفر معراج مکمل کر کے جب واپس ہماری کائنات میں پہنچے تو آپ ﷺ کو کائناتی چادر میں بالکل اسی پوائنٹ پر واپس پہنچا دیا گیا جہاں سے آپﷺ معراج کے لئے تشریف لے گئے تھے کیونکہ وقت اس کائناتی چادر کی ہی چوتھی جہت ہے۔ اسی خاطر آپﷺ جب واپس آئے تو کنڈی ہل رہی تھی اور بستر گرم تھا۔ واقعہ معراج کو اس وقت کے لوگوں کے لئے سمجھنا انتہائی مشکل تھا اور ان کو سمجھانا بھی ناممکن تھا بالکل ایسے ہی جیسے کاغذ میں قید انسان اپنے دوستوں کو اونچائی جیسی چیز کے متعلق نہیں سمجھا سکتا۔
واقعہ معراج کی تصدیق کے لئے اسلام نہ سائنس کا پہلے کبھی محتاج تھا نہ کبھی ہو گا، ماننے والوں نے اس دور میں جب سائنس کا وجود تک نہیں تھا تب بھی اس واقعے پر مکمل ایمان لایا اور نہ ماننے والے آج کے سائنسی دور میں اس واقعے کی سچائی کے شواہد دیکھ کر بھی اس کے انکاری ہیں۔ یہ ایک کائنات سے دوسری کائنات کا سفر تھا جہاں لامتناہی جہتیں تھیں۔ چار جہتوں میں قید رہنے والا انسان اس واقعہ کو اتنی آسانی سے اسی خاطر ہضم نہیں کر پاتا کیونکہ وہ دراصل کائناتی صفحے میں قید ہے اور اس کی عقل صفحے سے باہر موجود جہتوں کا گمان بھی نہیں کر سکتی۔ انسان ٹائم ٹریول، دوسرے سیارے پر زندگی بسر کرنے کے خواب یا پھر خلائی مخلوقات کو ڈھونڈنے اور ان سے بات چیت کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے لیکن اسی حوالے سے کسی شاعر نے کیا خوب لکھا تھا۔
اس کو مل نہ سکیں کبھی منزل معراج کی راہیں
جو آپ ﷺ کے نقش کف پا تک نہیں پہنچا


