بے بس قوم، کرپٹ حکمران اور سیلاب کی تباہ کاریاں


 

انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قدرتی آفات اور حادثات کا رونما ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے اور ہر قوم اپنے وسائل اور منصوبہ بندی کے مطابق ان آفات اور حادثات سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ ان قدرتی حادثات سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور نقصانات بچا جا سکے۔ قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لئے ایک طویل منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہی اقوام ان قدرتی آفات سے بچ سکتی ہیں جہاں کی حکومتیں اپنے ملک اور عوام سے مخلص ہوا کرتی ہیں۔

آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اپنی کار آمد منصوبہ بندی اور اخلاص کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جس سے نمٹنے کے لئے زلزلے، سیلاب اور سونامی کے بارے میں پیشگی آگاہی اور نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی اور امدادی کارروائیوں میں سرکاری ادارے اور میٹرولوجیکل ایجنسی کی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے کی انتہائی ضرورت ہے اور اپنے عوام کو جانی و مالی نقصانات سے نمٹنے کے لئے بھرپور انداز میں تیار کرنے کی کوشش کرنا۔ جس سے تباہی اور نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

سیلاب ان قدرتی آفات میں سے ایک ہے جو مختلف علاقوں میں بڑی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ جو حکومتیں ان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے تیار ہوتی ہیں اور مخلص ہوتی ہیں وہ کسی حد تک ان سے آنے والی تباہیوں سے بچ جاتی ہیں مگر وہ حکومتیں جو کرپٹ ہوتی ہیں خزانے کی لوٹ مار میں مصروف ہو کر لوٹی ہوئی رقم کو بیرونی ممالک میں رکھ کر عوام کو دھوکہ دینے میں مصروف رہتی ہیں وہ کسی طرح بھی اپنے عوام کو ان قدرتی آفات سے نہیں بچا سکتیں اور وہ اپنے کرتوت بھلا کر خود بھی اور عوام کو اسے خدا کا عذاب کہہ کر کسی غیبی امداد کی منتظر رہتی ہیں جیسا کہ ہم اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات پر عمل کرے۔

موجودہ بددیانت اور کرپٹ حکومت نے اپنے مخالفین اور ٹی وی اینکرز پر مقدمات درج کروا کر اپنا کالا چہرہ اور دو ٹکے کی اوقات دکھا دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عوام کے لئے نہی بلکہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے عوام کے سامنے خود کو ننگا کر رہی ہے۔ نام نہاد اور بھونڈی سیاست اور مار دھاڑ نے ملک کی ایک چوتھائی آبادی اور تین چوتھائی رقبے پہ پھیلی سیلاب کی تباہی اور کروڑوں عوام کی آہ و بقا کو یکسر نظر انداز کر کے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ عوام ان نام نہاد حکمرانوں کی اولین ترجیؔؔؔح نہیں ہے دو ماہ سے جاری طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بروقت نمٹنے اور کھلے آسمان تلے پڑے بے سرو سامان لوگوں کی اشک شوئی کرنے کی کسی کو فرصت ہی نہیں۔

ہوش آیا بھی تو تب جب سیلابی ریلے غریبوں کا سامان، مال مویشی اور پیاروں سمیت سب کچھ بہا کر لے گئے۔ اقتدار کی ہوس نے ان نا بکاروں کے اذہان پر ایسا پردہ ڈالا کہ یہ لوگ ان بے بس اور غریبوں کو بھول ہی گئے جن کے ووٹ لے کر یہ جھوٹے اور مکار لوگ اقتدار میں آئے یہ ہی لوگ ملکی۔ دولت کی لوٹ مار میں مصروف رہتے ہیں یہ بد کردار اپنے محسنوں کو ہی بھلا بیٹھے۔ سیاست کا انتقام اور حکومت کا لالچ ہے کہ اپنی آخری حدوں سے بھی گزر گیا اور عوام کے بارے میں سوچنا شاید ان کی ذمہ داری ہی نہیں۔

قدرتی آفات انسانی تاریخ کا حصہ رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر معمولی بارشیں۔ آسمان سے برستی ہیں تو عذاب الٰہٰی بن جاتی ہیں اور اس سے بننے والا سیلاب انسان، مویشی، گھر بار، مال و متاع سب اسباب تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ اگر کچھ بچ گیا تو ٹھیک ورنہ آسمانی آفات کا نام دے دیا وطن عزیز میں ڈیمز بنانے کی بہت ضرورت ہے مگر کسی بھی حکومت نے اس ضرورت کو ضروری نہیں سمجھا اور اسی وجہ سے ملک میں بجلی اور پانی۔ کی قلت ہمیشہ رہی

ممکنہ آفات اور حادثات کا انتظامی بندوبست حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اگر فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم پر سیاسی اختیار کا نام ہے تو کم از کم 75 برس سے اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر ہی نہیں آئی بھلا وہ قوم بھی قوم کہلانے کی حقدار ہے جو اپنا رہنما ایسا نہ چن سکے جو ملک اور قوم سے مخلص ہو۔ اس کے باوجود اقتدار البتہ موجود ہے۔ اقتدار کے بارے میں ایک خاتون جو امریکی ماہر قانون Mari Matsuda کہتی ہیں کہ ’ایک ہوتا ہے ننگا اقتدار، جو چاہے کرے، اسے تردید یا جواز دینے کی ضرورت نہیں۔

اقتدار کی دوسری صورت نے قانونی لبادہ پہن رکھا ہوتا ہے۔ ایسا اقتدار اپنے افعال کی تردید نہیں کرتا البتہ جواز گھڑتا ہے۔ پھر آتا ہے نقاب پوش اقتدار جسے کسی جواز کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ایسا اقتدار سرے سے اپنے وجود کا اقرار ہی نہیں کرتا۔‘ یہ فیصلہ آپ کا رہا کہ ہمیں اقتدار کی کس صورت کا سامنا ہے۔ یہ البتہ کہتے ہیں کہ آنے والا مورخ وہی لکھے گا جو ہم آج کر رہے ہیں اور شاید کہیں یہ بھی لکھے کہ ہم نے آج کے مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے حقیقی غلطیوں اور مجرموں کی نشاندہی میں کوتاہی کی تھی۔

Facebook Comments HS