ماسکر آرچرڈز: نیویارک میں سیبوں کے تاریخی باغات میں ایک دن

امریکہ میں ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں سیب کی فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ لہذا انہی مہینوں میں سیبوں کے بڑے بڑے باغات اور فارمز عوام کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت ”ایپل پکنگ“ کا اہتمام کرتے ہیں۔ فیملیز جوق در جوق اپنے بچوں کے ہمراہ سیبوں کے ان باغات میں تازہ سیب توڑنے کے لیے جاتی ہیں۔ امریکہ میں ہر سال اکتوبر 21 ”ایپل ڈے“ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سال 2021 میں امریکہ میں تازہ سیب کی پیداوار 4.9 ملین ٹن تھی۔
گزشتہ دنوں ہمیں بھی موسم خزاں کی شروعات ہوتے ہی فیملی کے ہمراہ نیویارک سٹی سے تقریباً 70 میل دور اپ سٹیٹ نیویارک کی اورنج کا ؤنٹی کی وارویک ویلی میں تاریخی ”ماسکر آرچرڈز“ (Masker Orchards) میں موقع پر جا کر سیب توڑنے اور کھانے کا اتفاق ہوا۔ دو سو ایکڑ اراضی پر محیط سیب کے یہ تاریخی باغات ایک سو سال سے زائد پرانے ہیں۔ دو سو ایکڑ پر مشتمل اس قطعہ اراضی کو 1913 ء میں آرا جے۔ ماسکر (Ora J Masker) اور ان اہلیہ رینا نے نیویارک کی خوبصورت ’وارویک ویلی‘ میں اس نیت سے خریدا تھا تاکہ یہاں کاشتکاری کی جا سکے۔
بعد ازاں انہیں معلوم ہوا ہوا کہ یہ زمین اور اس کا محل وقوع سیب کے باغات کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ لہٰذا انہوں نے دو سو ایکڑ پر سیب کی درجنوں اقسام کے کوئی بیس ہزار سے زائد پودے لگائے۔ اور سیب کی فصل تیار ہونے پر اس کی تجارت شروع کر دی۔ سیبوں کو ہر سال چننے کے بعد بہت سارے سیب پودوں کے ساتھ پھر بھی بچ جاتے، اور بہت سارے پودوں کے نیچے گر جاتے تھے۔ جنہیں اپنی مدد آپ کے تحت توڑنے اور چننے کے لیے ماسکر فیملی نے ارد گرد کے لوگوں کو مدعو کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ اپنے ’سیب خود چنیے، یعنی ”پک اٹ یور سیلف“ کی اصطلاح رواج پا گئی۔
1969 ء میں ماسکر کی وفات کے بعد اس کی اہلیہ رینا نے سیب کے یہ باغات دو دوستوں جارج ورنو اور وکٹر لوڈمرر کو فروخت کر دیے۔ جنہوں نے ”ماسکر آرچرڈز“ کے نام سے معروف ہوئے ان باغات کا نہ صرف نام تبدیل نہیں کیا، بلکہ ہر سال ”ایپل پکنگ“ کی اس روایت کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ اب بھی یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ ستمبر، اکتوبر کے مہینوں میں سیب توڑنے کے لیے آتے ہیں۔
موسم خزاں کے ان مہینوں میں یہاں لوگوں کا خوب رش ہوتا ہے۔ نیویارک، نیو جرسی اور کنکٹی کٹ و دیگر ریاستوں سے لوگ ایک دن کی پکنک منانے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ خصوصاً ویک اینڈ کے اوپر یہاں فیملیز کا خوب رش ہوتا ہے۔ یہاں چونکہ بار بی کیو وغیرہ کی اجازت نہیں ہے، اس لیے لوگ اپنے ساتھ کھانا پکا کر یا فوڈ آئٹمز ساتھ لے کر آتے ہیں۔
’ماسکر آرچرڈز‘ کے اندر بنا ہوا نظام بہت منظم انداز میں کام کرتا ہے۔ یہاں کا سٹاف بہت خوش اخلاق اور مددگار ہے۔ آپ اپنی گاڑی کو پارکنگ لاٹ میں بھی پارک کر سکتے ہیں، بلکہ اگر چاہیں تو سیبوں کے پودوں کے پاس لے جا کر درجنوں اقسام کے سیب توڑ سکتے ہیں۔ باغ میں داخل ہوتے وقت سیب توڑنے کے لیے یہاں آنے والوں بیگز دیے جاتے ہیں۔ باغ کی داخلہ فیس اور پارکنگ فیس تو کوئی نہیں لی جاتی۔ آرچرڈز میں رہتے ہوئے سارا دن جتنے مرضی سیب کھائیں، یہ سب فری ہے۔ البتہ واپسی پر سیب سے بھرا ہوا ایک بیگ گھر لانے کے آپ سے 34 ڈالر چارج کیے جاتے ہیں۔ ایک بھرے ہوئے بیگ کے اندر کم از کم پندرہ سے اٹھارہ کلو سیب آ جاتے ہیں۔ اگر آپ سیب ساتھ نہ لانا چاہیں تو کچھ بھی چارج نہیں کیا جاتا۔
ماسکر آرچرڈز کے اندر ایک گفٹ شاپ بھی ہے۔ جہاں سیب سے بنی ہوئی مختلف قسم کی اشیاء سمیت تازہ پیزا اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء بھی دستیاب ہیں۔ ویسے فیملی کی صورت جانے میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کھانا گھر سے پکا کر ساتھ لے جایا جائے۔ اور باغ کے بیچ بیٹھ کر اس کا لطف اٹھایا جائے۔
ہم نے بھی اپنے کزن طاہر خان کی فیملی کے ہمراہ ماسکر آرچرڈز میں ایک بھرپور دن گزارا۔ سیب بھی خوب توڑے اور کھائے بھی خوب۔ تاہم جیسے گنے کے کھیت میں کھڑے ہو کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سا گنا توڑا جائے، اتنے خوبصورت باغ اور تروتازہ پکے ہوئے رسیلے سیبوں کے بیچ کھڑے ہو کر ہمیں بھی یہ فیصلہ کرنا واقعی مشکل لگا کہ کون سا سیب توڑا جائے اور کون سا چھوڑا جائے!
سیب چننے کے دوران وقفہ ہوا تو چٹائیاں بچھا کر گھر سے پکا کر ساتھ لے جائے گئے کھانوں، بریانی، کباب، چکن پیس، زردہ، پاستہ، دہی بھلوں اور تھرماس میں ساتھ لے جائی گئی چائے سے سبھی خوب لطف اندوز ہوئے۔
ماسکر کے باغات کی سیر کے بعد نیویارک واپسی پر وار ویک ویلی میں ہی آئس کریم کا ایک بہترین سپاٹ ”بیل ویو فارمز کریمری“ بڑا مشہور ہے۔ جہاں وہ اپنے ہی ڈیری فارمز کے دودھ سے بنی ہوئی آئسکریم و دیگر ڈیری اشیاء نہایت سستے داموں فروخت کرتے ہیں۔ یہاں پہنچے تو آئسکریم حاصل کرنے والوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔
یہاں کی آئس کریم کی چونکہ ہم نے بڑی مشہوری سن رکھی تھی۔ اس لیے آئسکریم کے حصول کے لیے کوئی چالیس منٹ لائن میں لگنا پڑا۔ محبی طاہر خان نے ہمیشہ کی طرح یہاں بھی اپنے آپ کو والنٹیر کیا اور لائن میں کھڑے ہو کر سب کے پسندیدہ فلورز کی آئسکریم خریدی۔ جو واقعی اپنے ذائقے میں لاجواب تھی۔
آئسکریم کے علاوہ یہاں کی خاص بات پہاڑوں کے بیچ گھری ہوئی سر سبز و شاداب وادی کا دلفریب منظر ہے جو یہاں آنے والوں کو اپنی جانب خوب کھنچتا ہے۔ خصوصاً غروب آفتاب کا منظر دیکھنے اور اسے فوٹوز اور ویڈیوز کی صورت محفوظ کرنے کے لیے لوگ یہاں جا بجا بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔
نیویارک شہر سے باہر ایک پرسکون، صحت افزاء اور پہاڑوں کے بیچ اس خوبصورت وادی میں واقع سیبوں کے باغات میں ایک بھرپور اور خوشگوار دن گزارنے کے لیے یہ ایک بہترین جگہ ہے۔






