کیا عمران خان کو لانگ مارچ کے لیے کسی سہارے کی تلاش ہے؟


”میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ میں پاکستان کے آئین کی ہمیشہ پاسداری کروں گا اور یہ کہ میں اس حقیقی آزادی کے لیے اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ اس جہاد میں اس وقت تک کھڑا رہوں گا جب تک حقیقی آزادی حاصل نہیں کر لیتے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو“

یہ ہے وہ حلف جو عمران خان آج کل جلسوں میں اپنے کارکنوں سے لے رہے ہیں لیکن لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے۔ سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ لانگ مارچ ہو گا بھی یا نہیں۔ کارکنوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ عمران خان اپنے جلسوں میں عوام سے لانگ مارچ میں شریک ہونے کا حلف تو لے رہے ہیں لیکن یہ مارچ کب ہو گا اس کے بارے میں کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے۔ پھر سوال تو اٹھیں گے کہ کیا لانگ مارچ کے لیے عمران خان کو کسے اشارے کا انتظار ہے؟

کیا لانگ مارچ عمران خان کا آخر آپشن ہو گا؟ عمران خان کی بے چینی بڑھتی کیوں جا رہی ہے؟ کیا عمران خان دوبارہ سے کسی سہارے کی تلاش میں ہیں؟ کیا نئے سیاسی منظر نامے میں عمران خان ”مائنس“ ہوں گے؟

دوسری طرف عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ کی میری جو پلاننگ ہے اس کی ایک ایک چیز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ہمیں پتا ہے انہوں نے کیا کرنا ہے ان کو نہیں پتا ہم نے کیا کرنا ہے۔ یہ لانگ مارچ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہو گا۔ ہم اسلام آباد کی طرف آئیں گے اور آئین اور قانون میں رہتے ہوئے پر امن احتجاج کریں گے۔ ہم اسلام آباد کی طرف آئیں گے رانا ثناءاللہ اور شہباز شریف الٹے بھی لٹک جائیں تو کچھ نہیں کر سکیں گے۔ ادھر حکومت نے بھی عمران خان کے لانگ مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے کمر کس لی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان 12 سے 17 اکتوبر کے درمیان لانگ مارچ کا ارادہ رکھتے ہیں، عمران خان اسلام آباد پر واردات کرنا چاہتے ہیں، ہمیں پتا ہے عمران خان کیا کرنے جا رہا ہے۔ تحریک انصاف اسلام آباد انتظامیہ سے اجازت لے کر مخصوص جگہ پر آ کر احتجاج کرے۔

رانا ثناءاللہ کے بقول وزیراعظم کے سامنے دو تجاویز رکھی ہیں، وزیراعظم ان تجاویز پر اتحادیوں سے مشاورت کریں گے، اگر اتحادی ان میں سے کسی بھی تجویز پر متفق ہو گئے تو یہ اپنا پروگرام بنانا بھول جائیں گے۔

دوسری طرف وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کو سوچ لینا چاہیے کہ اس بار 25 مئی والا لانگ مارچ نہیں ہو گا۔ عوام ڈنڈے کھانے اور آنسو گیس کے لیے تیار ہیں۔

وفاقی حکومت بھی فرنٹ فٹ پر ہے اطلاعات ہیں کہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پنجاب میں گورنر راج اور صوبائی حکومت گرانے پر پر سوچ بچار شروع کر دیا گیا۔ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام لانگ مارچ ہونے سے ختم ہو گا یا نہ ہونے سے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ تاہم صدر مملکت نے حکومت اور حزب اختلاف پر زور دیا ہے کہ وہ پولرائزیشن ختم کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے تمام جماعتوں سے درخواست کی کہ پولرائزیشن کو خدا کے واسطے اس ملک میں ختم کریں، ضد کو چھوڑے بغیر پولرائزیشن ختم نہیں ہوتی۔ پاکستان میں فری اینڈ فیئر الیکشن کی مانگ رہتی ہے۔

عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بیرونی سازش کا بیانیہ اپنایا اور یہ بیانیہ عوام میں مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا لیکن آڈیو لیکس سے یہ بیانیہ بھی متاثر ہوا کیا عمران خان مقبولیت کم ہونے کی وجہ سے ایک اور لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں آڈیو لیکس کے بعد بیرونی سازش والے بیانیے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ عمران خان لانگ مارچ سے کر پائیں گے؟ لانگ مارچ کے باوجود اگر نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوتا تو عمران خان کے پاس پھر کیا آپشن ہے؟ عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ کے نتیجے کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ایک بات تو ضرور ہے کہ اس سے ملک میں سیاسی غیر یقینی مزید بڑھ جائے گی۔

Facebook Comments HS