جنسی تشدد اور ہراسمنٹ کے ’فروغ‘ کے لیے کیا شو بز بھی ذمہ دار ہے؟


جب ابرار الحق کا گانا پروین ریلیز ہوا تھا تو مجھے یاد ہے کہ پروین نامی ایک لڑکی کی کہانی کہیں چھپی تھی جس نے یونیورسٹی چھوڑ دی تھی کیونکہ اس کے پیچھے لڑکے یہ کہتے ہوئے چلتے تھے

پروین، توں بڑی نمکین اتوں مسکین اندروں بڑی شوقین۔
(پروین تم بہت نمکین ہو، اوپر سے مسکین ہو مگر اندر سے شوقین ہو)

اسی طرح نعیم ہزاروی کا ایک گانا تھا
ساڈے نالوں کتاب چنگی جیہڑی دل نال لائی ہوئی اے، نی کڑیے سکول دیے۔
(اے سکول کی لڑکی! ہم سے تو کتاب بہتر ہے جو تم نے دل کے ساتھ لگائی ہے )

ایک بھارتی گانا ہے۔
کڑیاں نوں ٹھگ لئے۔
(لڑکیوں کو لوٹ لو)
اسی طرح ایک اور
اے میری کالج کی نٹ کھٹی لڑکیو!

یہ اور ان جیسے دوسرے گانے کس طرح کی انٹرٹینمنٹ فراہم کرتے ہیں یہ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ پیسہ کمانے کی خاطر نوجوان لڑکوں کے لبوں پہ یہ بول جاری کروا دیے جاتے ہیں اور اس بات کا کبھی نہیں سوچا گیا کہ یہی بول کتنے کمزور افراد کے لیے اذیت کا سامان بن رہے ہیں۔ کیوں کہ اعتراض کرنے پہ یہی سننے کا ملتا ہے کہ ہم تو بس گانا گا رہے تھے۔

اسی طرح اگر فلموں اور ڈراموں کا تذکرہ کیا جائے تو بہت سا مواد بجائے تشدد کی روک تھام کے الٹا تشدد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

پاکستانی ڈرامہ ”مقدر“ میں ایک بڑے زمیندار ایک لڑکی کو اغوا کر کے شادی کر لیتا ہے۔ اور بعد میں لڑکی کو بھی شوہر سے پیار ہو جاتا ہے۔ اغوا کے ذریعے شادی تک تو ٹھیک ہے۔ مگر لڑکی کا پیار دکھانے کا مطلب ہے کہ مرد یہ سوچیں کہ آخر پہ لڑکیاں مان ہی جاتی ہیں۔

اسی طرح کئی اور ڈرامے ہیں جن میں ایک ٹاکسک قسم کے امیر لڑکے کو ایک غریب لڑکی سے پیار ہو جاتا ہے۔ وہ امیر لڑکا غریب لڑکی کو طرح طرح سے تنگ کرتا ہے یا تو پیار کرنے سے پہلے اسے تنگ کرتا ہے اور بعد میں پیار ہو جاتا ہے یا پیار کرنے کے بعد اسے تنگ کرتا ہے اور خاندان کو بھی ذلیل کرنے کے ساتھ ساتھ رشتہ مانگتا ہے۔ یہ جنون والا پیار ہوتا ہے ہے جس میں خودکشی کی دھمکیوں اور قتل کی دھمکیوں اور لڑائی جھگڑے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ لیکن آخر میں اسی لڑکے کو ہادی دکھایا جاتا ہے جو کہ کہ تمام عوامل کے نتائج کسی نہ کسی صورت میں اپنے حق میں کر لیتا ہے۔ اور لڑکیاں بھی مان جاتی ہیں۔

فلم ”کبیر سنگھ“ پہ بھی انہی وجوہات کی بنا پہ تنقید ہوتی رہی ہے۔
فلم ”365 ڈیز“ میں بھی زبردستی کا پیار یہی پیغام دیتا ہے کہ سختی سے بھی پیار کروایا جا سکتا ہے۔

اگر موضوع سے ذرا ہٹ کے پاکستانی ڈراموں کا طلاق وغیرہ کا تصور بھی دیکھا جائے تو بجائے اس کے کہ وہ طلاق کے معاملات پہ قوم کو ایجوکیٹ کریں وہ سماج کی عکس بندی کے نام پہ محض تشدد اور جہالت ہی پھیلاتے نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب قدامت پسند طبقوں کا سب سے بڑا اعتراض شوبز پہ یہ ہے کہ شوبز فحاشی پھیلاتا ہے عریانی پھیلاتا ہے جبکہ معاشرے کو فحاشی اور عریانی سے کہیں بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ لیکن مذکورہ طبقے ان خطرات کو شاید اتنا بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے۔

ہماری تنقید کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ شوبز میں کوئی اچھا کام نہیں ہوا بلا شبہ بہت سا اچھا کام بھی شوبز میں ہوا ہے اور ہو رہا ہے لیکن بدقسمتی سے ایسے کام کی بھی کمی نہیں جس نے سوسائٹی کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔

مختلف ممالک کے سینسر بورڈز عموماً یہی دیکھتے ہیں کہ کہ فحاشی اور عریانی کے لحاظ سے سے کسی معاشرے کی حدود و قیود کب اور کیسے توڑی جا رہی ہیں جبکہ اس کے علاوہ بہت سی اہم باتوں پر سنسر بورڈ بھی توجہ نہیں دیتے۔ ان اہم باتوں میں سکرین کے ناظرین پہ نفسیاتی اثرات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی بگاڑ بھی شامل ہے۔

کتنی ہی فلمیں اور ڈرامے سکول اور کالج کے بچوں میں گینگسٹر روح بھر دیتے ہیں جب کہ لڑکیوں میں خوف کی۔
کتنی ہی فلمیں اور ڈرامے اور گانے ایسے ہیں جو تشدد کو ہیرو ازم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس سارے عمل کے نتائج معاشرے بھگت رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے اخلاقی حدود پہ ہی اپنی حد مقرر نہ کریں اور شوبز کے دوسرے پہلوؤں پہ بھی توجہ دیں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments