سیلاب متاثرین کی حالت زار

جون کے آگ اگلنے والے دنوں کی تپش ابھی باقی تھی کہ وطن پاکستان میں بارشوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ہر طرف سے باران رحمت کے منتظر ذی روح بھی اسے باران زحمت خیال کر کے امان کی دعا مانگنے لگا۔ تاہم کسی کو یہ گمان پھر بھی نہیں تھا کہ یہ سلسلہ قیامت ڈھا کر ہی دم لے گا۔ بلوچستان، سندھ، کے پی اور پنجاب کے جنوبی علاقوں میں ہونے والی بارشوں نے قیامت ڈھا دی لیکن سلسلہ یہاں پھر بھی نہیں رکا پہاڑوں پر جب بارشیں جم کر برسیں تو پہاڑوں کے ندی نالے بھی بپھر کر میدانی علاقوں میں تباہی کا سبب بن گئے۔
پھر ہر طرف خلق خدا تھی، تباہی ہی تباہی تھی اور جہاں نظر جاتی پانی ہی پانی تھا۔ حالیہ بارشوں اور دریاؤں کے سیلاب نے ملک میں لگ بھگ دو ہزار افراد کو لقمہ اجل بنایا، کئی افراد زخمی ہوئے، مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد جن میں عورتیں، بچے، بزرگ اور دیگر شامل تھے متاثر ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تل بھگ تیس سے چالیس لاکھ کچے پکے مکان کلی یا جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ کئی ہزار کلومیٹر پر محیط سڑکیں متاثر ہوئیں، ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے برے جانور اس سیلاب کی نظر ہوئے، لاکھوں ایکڑ پر موجود فصلیں تباہ ہو گئیں۔
سیلاب سے ہونے والی تباہی پر پوری دنیا افسردہ دکھائی دی لیکن افسوس کہ وطن عزیز کے ارباب اقتدار نے اس معاملے پر بھی حسب عادت سیاست ہی کی۔ صوبائی حکومتیں وفاق سے اور وفاقی حکومت صوبوں کو موردالزام ٹھہراتے رہے بیان بازی کا مقابلہ تھا جو تین ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود بھی جاری ہے جبکہ سیلاب زدہ علاقوں کی حالت زار آج بھی دگرگوں ہی ہے۔ سیاستدانوں سیلاب کے نام پر لوگوں کی مجبوریوں کو خوب کیش کرنے کی کوشش کی اور ایسے دلخراش موقع پر بھی اپنوں کو نوازے اور مستحقین کو محروم رکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔
چند روز قبل ضلع راجن پور مین سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ہر طرف تباہی، محرومی، مایوسی اور متاثرین کی بے بسی کے مناظر ہماری صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی کارکردگی کا منہ چڑا رہی تھی۔ سیلاب کو گزرے تین ماہ سے زائد کا عرسہ ہو گیا لیکن انتظامیہ کی نا اہلی کا یہ عالم تھا کہ سیلاب زدہ بیشتر علاقوں سے تاحال پانی کے اخراج کے لئے ہی کوئی اقدامات اٹھائے گئے۔ تحصیل روجھان میں میونسپل کمیٹی روجھان کے وارڈ نمبر ایک، دو ، تین اور چار میں جو شہری علاقے ہی مین شمار ہوتے ہیں تاحال کئی فٹ سیلاب کا پانی موجود ہے۔
وہاں کے علاقہ مکین مقامی انتظامیہ کو منتیں کر کر کے تھک گئے لیکن کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح راجن پور کے مشرقی علاقوں کی صورتحال ہے وہاں بھی کئی گاؤں تاحال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، فاضل پور کو ٹمٹھن اور ضلع کے دیگر علاقوں مین سیلاب زدہ علاقوں کی حالت دیکھ کر دل گرفتہ سا ہو جاتا ہے۔ لیکن وہاں کے افسران ہین کہ جو کاغذوں کا پیت بھر کر سب اچھا کی رپورٹ دینے میں برا فخر محسوس کرتے ہیں۔ سیلاب متاثرین کی اگر بات کی جائے تو ان کی حالت دیکھ کر خشک انکھوں سے بھی آنسوؤں کی لڑیاں رواں ہو جاتی ہیں کیونکہ وہاں کی کلچر کے مطابق باعزت اور باپردہ خواتین چار پایوں کے اوٹ بنا کر سورج کی تپش سے خود کو بچاتی ہیں، ان کے پاس نہ چھت باقی رہی ہے نہ سامان، یہاں تک کہ اس وقت بھی سینکڑوں خاندان ایسے ہیں جن تک حکومت امداد تو ویسے ہی نہیں پہنچنی تھی بدقسمتی سے وہاں تک کوئی فلاحی ادارہ یا کوئی صاحب ثروت شخص بھی نہیں پہنچ پایا جو اس مصیبت کے وقت میں ان کی تھوڑی ہی سہی کچھ مدد کر دیتا۔
ہماری آنکھوں کے سامنے متاثرین میں ایسے ایسے کردار اور خاندان بھی آئے جو دوسروں کی مدد کرنے والے تھے لیکن اس سیلاب نے انہیں خود خیمے اور راشن تک کا محتاج کر دیا۔ میں اگر ایسے افراد میں بلوچی زبان کے بہترین شاعر دو کتابوں کے مصنف اور کچھ ہی عرصہ قبل صدر عارف علوی صاحب سے صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والے سعید تبسم مزاری ( یہ شخصیت راقم الحروف سعید مزاری نہیں ہے ) کا نام نہ لوں تو اس تحریر کے ساتھ انصاف نہ ہو گا۔
بلوچی شاعر سعید تبسم مزاری روجھان کے موضع مٹ واہ کا رہائشی تھا ایک پڑھا لکھا اور باہمت شخص لیکن غربت کے باوجود باضمیر مزاج کا حامل شخص تھا۔ لیکن اس تباہ کن سیلاب نے اس کو بھی نہ بخشا۔ رود کوہی سیلاب اور بارشوں کے پانی نے اس کے گھر کو بری طرح متاثر کیا تو یہ خود دار شخص بھی اپنے بچوں اور گھرانے کے دیگر افراد کو لے کر سڑک کنارے چار پائی کی اوٹ بنا کر رہنے پر مجبور ہو گیا۔ ابتداء مین کسی حکومتی یا فلاحی ادارے یا شخص نے سعید تبسم کی حالت زار دیکھ کر بھی مدد نہ کی کئی روز وہ بغیر کسی خیمے یا امداد کے وہ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور رہا پھر چند دو ستون نے کوشش کر کے اس تک خیمہ اور راشن وغیرہ پہنچانے کی کوشش کی۔
تاہم اس کے گھر کی حالت اب بھی ناقابل استعمال ہے اور وہ بے سروسامانی کی حالت ہی میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مل کر زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اسی طرح اور بے شمار ایسے خاندان اور لوگ ہیں جو انتہائی مشکل حالات میں اس آفت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مقامی سیاستدانوں کا کردار اس مشکل وقت میں بدقسمتی کے ساتھ انتہائی شرمناک ہی رہا۔ چند ایک کے علاوہ اکثریت نے اپنے ہی لوگوں کو نوازنے کو ترجیح دی۔ جہاں سیاسی مفاد دیکھا وہاں مختلف فلاحی تنظیموں سے سامان غلط بیانی کر کے لے کر اپنے ڈیروں پر سٹاک کرنے کے بعد مخصوص لوگوں کو دے دیتے ہیں۔
تاکہ ووٹ بنک میں کسی طرح اضافہ کیا جائے اور آمدہ الیکشن میں اس امداد کے نام پر لوگوں سے حمایت لی جائے۔ جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے فلاحی اداروں، تاجروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے کردار کو سراہنا بھی ضروری ہے کیونکہ سیلاب متاثرین کے لئے حقیقی معنوں میں انہی فلاحی تنظیموں، تاجروں، سول سوسائٹی کے صاحب ثروت لوگوں اور نجی اداروں نے دل کھول کر کام کیا اور جہاں تک ممکن ہوا سیلاب متاثرین کو روزمرہ استعمال کی اشیاء سمیت کھانے پینے کا سامان، خیمے، برتن، کپڑے اور دیگر ضروری سامان پہنچایا۔
جس پر ان تمام اداروں کو جن میں الخدمت فاؤنڈیشن، زمان فاؤنڈیشن سمیت لاہور، فیصل آباد، ملتان، صادق آباد، بہاولپور سمیت دیگر شہروں کے کاروباری شخصیات، صنعتکاروں، ڈاکٹروں صحافیوں وغیرہ کو ان کی کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ افواج پاکستان نے بھی سیلاب زدہ علاقوں میں بھرپور کام کیا۔ جس پر ان کے کردار اور کام کی بھی تعریف کرنی چاہیے۔ لیکن چونکہ ان فلاحی اداروں اور دیگر افراد کے پاس سیلاب زدہ تمام علاقوں اور ان میں موجود ناقابل رسائی دیہاتوں مین جانے کے لئے وسائل کی کمی اور علاقوں سے پوری طرح واقف نہ ہونے کی وجہ سے بے شمار خاندانوں تک تاحال کوئی امداد نہ پہنچ سکی۔
سیلاب کے دوران حکومت اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے تباہ کاریوں سے بچنے اور نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہ ہونے کمزوری بھی سامنے آئی۔ کئی علاقوں میں انتظامی نے حفاظتی بندوں اور سڑکوں کو غلط انداز میں کٹ لگائے جس سے بجائے نقصان کم ہونے کے بہت زیادہ لوگوں کا نقصان ہوا۔ سیلاب کے بعد بھی لوگوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانے میں بھی سرکاری مشینری نے بدقسمتی سے ایمانداری اور پوری توجہ سے کام نہیں کیا۔
جس کی وجہ سے سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد سرکاری امداد سے محروم رہ گئی۔ سیلاب کے دوران چند علاقوں سے ایسی شکایات بھی آئیں کہ متاثرین نے امدادی سامان لے کر جانے والے افراد اور تنظیموں سے چھینا جھپٹی کی۔ یہ عمل بظاہر تو غیر اخلاقی اور انتہائی غلط ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی ہے کہ جب لوگ یہ دیکھ رہے ہوں کہ سرکاری مشینری اور سیاسی لوگ فقط اپنے لوگوں کو نواز رہے ہوں اور اصل مستحقین کی حق تلفی کی جا رہی ہو تو ایسے میں کئی کئی روز کی بھوک پیاس کے ستائے لوگوں کی طرف سے ایسے حرکت کا امکان ہی ہوتا ہے۔
اب آگے سردیاں شروع ہو رہی ہیں کئی علاقوں مین رات کے اوقات میں موسم میں کافی حد تک خنکی آ گئی تو سیلاب زدہ علاقوں کے تمام متاثرین کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ کیونکہ جو لوگ تاحال خیموں وغیرہ میں یا کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں ان کے لئے تو رات گزارنا مشکل ہے ہی وہ متاثرین جو سیلاب کا پانی کم ہونے پر اپنے ٹوٹے پھوٹے تباہ حال گھروں کو لوٹ گئے ہیں مشکلات ان کی بھی کم نہیں ہوئیں کیونکہ جن کے گھر سیلاب کی نظر ہو گئے ان کے لئے دوبارہ گھروں کی تعمیر ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔
اور اگر وہ کسی طرح اپنے لیے چھت کا انتظام کر بھی لیں تو بھی ان کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کے لئے کھانے پینے کے سامان سمیت بستروں، چار پایوں کھانا پکانے کے لئے برتنوں کی ضرورت موجود رہے گی۔ سیلاب کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبے کے فرد کا عام طور پر جبکہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا ذریعہ روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے اس سے بھی نمٹنے کے لئے حکومت سمیت فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر آنے والے وقتوں مین بے روزگاری کے سبب جرائم مین اضافے سمیت بھوک افلاس کے سبب لوگوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ سیلاب متاثرین کی حقیقی معنوں میں بحالی کا کام بلاتفریق شروع کرے اور اس کے ساتھ ان علاقوں مین بچوں کی تعلیم، صحت، اخلاقی اقدار کی تربیت سمیت مستقبل میں پھر ایسی تباہی نہ ہو اس کی موثر منصوبہ بندی کرے۔ کیونکہ ہم سند سال محنت کر کے جو تھوڑی بہت ترقی کرتے ہیں وہ ہر چند سال بعد کسی نا کسی آفت کی نظر ہو جاتی ہے اور ہم واپس لگ بھگ پتھر کے دور مین چلے جاتے ہیں۔ پھر کئی سال ہمیں سنبھلنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس لیے ایسے حالات سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
