خواتین کو چاہیے اپنی چھاتی کا باقاعدگی سے خود معائنہ کیا کریں
آپ سب یہ تحریر لازمی پڑھیں، خصوصی طور پہ خواتین!
*اگر چھاتی یا بغل میں کوئی گلٹی بنی محسوس ہو
*کوئی بڑا دانہ بنا ہوا محسوس ہو
* چھاتی کی جلد سرخ رہنے لگے
* چھاتی کی جلد میں کوئی خرابی محسوس ہونے لگے
*چھاتی کی جلد موٹی یا چھاتی سوجی ہوئی محسوس ہو
*چھاتی میں کہیں مسلسل درد ہونے لگے
* چھاتی سے دودھ کے بجائے خون یا کوئی اور مادہ خارج ہونے لگے
* چھاتی کی شکل یا سائز میں فرق محسوس ہونے لگے
* چھاتی میں کوئی بھی تبدیلی محسوس ہونے لگے
اگر ان میں سے کوئی بھی علامت آ رہی ہو تو کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس جا کر اپنا معائنہ ضرور کروائیں۔
یہ ساری باتیں شروع میں بے ضرر لگتی ہیں لیکن یہ خدانخواستہ بریسٹ کینسر کی علامت ہو سکتی ہیں۔ بریسٹ کینسر کا بروقت پتا چل جائے تو اس کا علاج ممکن ہے ورنہ یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
شرم اور حیا اپنی جگہ لیکن بروقت علاج بہت ضروری ہے۔ ذرا سی سستی آپ کی جان کے درپے ہو سکتی ہے اور آپ کے پورے گھر والوں کے لیے شدید تکلیف اور پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہو رہی ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے، اس لیے اس بات کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے گھر کی خواتین کو یہ ساری باتیں ضرور بتائیں، اگر بتا نہیں سکتے تو میسج کر کے انھیں آگاہ کر دیں۔ انھیں ان سب باتوں کا لازمی طور پہ علم ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ اپنے گھر کی خواتین کو اتنا اعتماد دیں کہ خدانخواستہ انھیں ایسی کوئی بات محسوس ہو تو وہ فوراً شرم اور جھجک کے بغیر آپ کو بتا سکیں۔
یاد رہے چھاتی یا بغل میں بننے والی ہر گلٹی یا پیدا ہونے والی ہر گڑبڑ بریسٹ کینسر نہیں ہوتی۔ لیکن ایسی ہر علامت کا کسی اچھے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا بہت ضروری ہے۔ اگر کسی عام ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا ہو اور وہ تشخیص نہ کر پائے یا علاج کے باوجود ایسا مسئلہ موجود رہے تو فوراً کسی بہتر ڈاکٹر کے پاس جائیں اور اس سے پوچھیں کہ یہ بریسٹ کینسر کی علامت تو نہیں۔
اگر آپ سمجھداری کا مظاہرہ نہیں کریں گے، وقت پہ توجہ نہیں دیں گے تو یہ معاملہ خدانخواستہ بہت پریشانی کا باعث بنے گا۔ جتنی دیر ہو گی، اتنا کینسر پھیلتا جائے گا اور آپ کے اوپر اتنا ہی زیادہ مالی طور پہ اخراجات کا بوجھ آئے گا۔
اپنے سے منسلک ہر عمر کی خاتون کو آگاہی دیں۔ ان معلومات کو اس تحریر کی صورت میں یا کسی بھی صورت میں دوسروں تک پہنچائیں۔ آگاہی پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے گا۔


