ایوارڈ تقریب کینیڈا ، انجلینا جولی، عمران خان اور سیلاب زدگان

دو ماہ قبل پاکستان میں ہولناک سیلاب آیا جس نے پاکستان کی ایک تہائی اکثریت کو مشکلات میں ڈبو دیا، پاکستان کا کم از کم ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد کروڑوں میں تھی، لوگ پریشان تھے، صوبائی حکومتیں اور وفاق کی کوششیں جاری تھی، فلاح تنظیموں کی سرگرمیاں بھی بھرپور انداز میں جاری تھی۔ بہت سے کھلاڑی، شوبز اسٹار، سیاستدان میدان میں اتریں اور بدحال پاکستانیوں کی مدد بھی کی۔ سیلاب تو تھم گیا مگر بہت کچھ تباہ کر گیا۔
اس مشکل موقع پر دنیا بھر سے امداد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مشہور مشہور شخصیات سیلاب زدہ لوگوں کے درمیان آرہے ہیں۔ ان مشہور لوگوں میں ترکیہ کا شوبز ستارہ، مشہور سوشل میڈیا اسٹار مفتی مینک ہو یا پھر مشہور زمانہ ہالی وڈ اداکارہ انجلینا جولی ہوں، یہ سب سیلاب زدگان کے درمیان پہنچے، ان کی خبر لی، ان کے دکھ سنیں۔ شدید گرمی برداشت کی، پانی میں پاؤں گیلے کیے ، مچھروں اور کیڑوں کی پرواہ نہ کی اور انسانیت کی دلاسا دیا۔
لیکن سوال وہ ہی ہے اپنے والے بڑے بڑے مشہور اداکارہ اور سیاستدان کہاں تھے؟ پہلے بات کرتے ہیں عمران خان کی، وہ کلف لگے سوٹ میں ایک شہر میں ہیلی کاپٹر سے اتریں اور پھر 10 لوگوں کے وی آئی پی سیلاب زدگان کے وقتی کیمپ میں پہنچے، جہاں دسیوں خوش آمدی تھے اور بیسیوں کیمرے والے، حضرت نے اپنے ہاتھ سے ایک پلیٹ میں چاول کے چند چمچے ڈالے اور نکل گئے۔ اس کیمپ میں چھاؤں بھی تھی اور سکون بھی تھا، آس پاس پانی بھی نہ تھا اور مکھیاں بھی نہیں۔
اب بات کرتے ہیں شوبز اسٹارز کے بارے میں، جی جی پاکستانی شوبز اسٹارز کے بارے میں، جنھیں توفیق نہ ہوئی کہ ایک دو انسٹا گرام پوسٹ کی خاطر ہی صحیح کم سے کم ان علاقوں میں چلے جاتے جہاں سیلاب آیا ہے لیکن نہیں، یا پھر کسی کیمپ میں بیٹھ جاتے، کچھ امداد کا اعلان کر دیتے، گویا دکھانے کے لئے ہی صحیح کچھ نہ کچھ تو کر دیتے۔ چند اسٹارز کو سیلاب کی تباہی کے اوائل میں کچھ توفیق ہوئی تووہ ایک فلاحی تنظیم کے ساتھ نظر بھی آئے مگر پھر غائب۔
شوبز اسٹار پبلک فگر ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کو پسند کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ پسند کرنے والے اپنے پسندیدہ اسٹار کو فالو کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو سنتے بھی ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ ان کی ہر چیز پر بہت سے پسند کرنے والوں کی نظریں ہوتیں ہیں، کیونکہ وہ پبلک فگر ہوتے ہیں تو لوگ سوال کرنا بھی حق سمجھتے ہیں۔ اس طرح اگر کوئی پیغام بھی دیں تو وہ غور سے سنتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں مگر سیلاب والے معاملے میں عمل نظر نہ آنے کے برابر تھا۔
یہ ہی کچھ معاملہ عمران خان کا تھا، وہ سیلاب کے دنوں میں بھی اور بد از سیلاب تباہی جلسے پہ جلسے کر رہے تھے بلکہ اب تک کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیلی تھون بھی منعقد کی، بہت سارے پیسے بھی جمع کیے ، بڑی بری رقم بھی جمع کی مگر دو تین بار کے علاوہ ان کو تفصیل سے فرصت ہی نہیں ملی کہ عوام کے ساتھ بیٹھ کر ان کے غم غلط کرسکیں، سیلاب زدگان کو صبر کے دو بول بول سکیں۔ لیکن نہیں ہوا ایسا، البتہ وہ جن لوگوں کے بارے میں شدید تنقید کرتے ہیں وہ سیلاب زدگان کے درمیاں پھر بھی نظر آ گئے۔
یہ باتیں یاد رہتی ہیں، کیونکہ خوش کے وقت موجود لوگ یاد نہیں رہتے البتہ غم کے وقت کھڑے رہنے والے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ اس مقام پر اخلاقی معیار کی بات آتی ہے جو ہمارے بہت سے لوگوں بالخصوص پبلک فگر میں موجود نہیں ہوتی، البتہ اخلاقیات کے نام پر ان کا نہ ختم ہونے والا درس جاری رہتا ہے۔ یورپ اور مغربی دنیا کو پوجنے والے لیڈران و اسٹارز سے بس اتنی گزارش ہے کہ مغرب سے اتنا کچھ لے رہے ہیں تو تھوڑی سی اخلاقیات بھی لے لیجیے!

