چاول کی فصل اور کسان کا المیہ
مجبوراً کسان کو یہ فصل تاجر، آڑھتی یا رائس مل پر فروخت کرنا پڑتی ہے۔ یہ سال جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے کسانوں کے لیے بالخصوص مشکل رہا ہے، وہی یہ سال تیل، اور بجلی کے بلوں میں عدم استحکام کے باعث کسانوں کے لیے معاشی حوالے سے مشکل رہا ہے، اب جبکہ فصل تقریباً تیار ہو چکی ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں کاٹی جا چکی ہے۔ ایسے میں اس کی قیمت اس پر ہونے والے اخراجات کے تناسب سے کافی کم ہے۔ حکومت پاکستان گندم کے علاوہ کسی بھی زرعی جنس کی قیمت کا تعین نہیں کرتی، اس طرح مونجی کی فصل فری مارکیٹ کے رحم وکرم پر ہوتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب آسمان سے مصیبت نازل ہوتی ہے تو وہ تنہا نہیں ہوتی، یہی صورت حال اب کسان کی ہے، ایک تو انتہائی مہنگے داموں پر اس نے سب سے پہلے ڈیزل خریدا، اس کے بعد حکومت کی نا اہلی کے کارن اس کو کھاد ( جس کی مونجی کی فصل کو شدید ضرورت ہوتی ہے ) بلیک مارکیٹ سے اصل قیمت سے بھی زیادہ رقم کے عوض خریدنا پڑا۔ زرعی بجلی جو مئی 2022 ء میں 6 روپے فی یونٹ تھی، وہ بعد میں 15 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کر گئی، فی یونٹ مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکس میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا، جو بجلی پچھلی بار میں 100 روپے کسان خریدتا تھا وہ اسے اس فصل کے لیے 230 روپے میں تقریباً پڑی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی ادویات اور ان پر ٹیکس کی شرح بڑھنے سے بھی اسے یہ فصل کافی مہنگی پڑی ہے۔
اب وقت تھا کہ کسان کو اس کی محنت کا اجر ملتا، تو ایسے میں تاجروں اور آڑھتیوں نے باہمی اتحاد کی بدولت مونجی کا ریٹ انتہائی کم نرخ پر روک دیا تھا۔ مونجی کی فصل کو کسان کسی صورت اپنے پاس محفوظ نہیں رکھ سکتے، فصل کاٹنے کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اگر فصل اٹھائی نہ جائے تو اس کے ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مونجی کی ایک قسم سپری ( 86 ) کا ریٹ پچھلے سال فری مارکیٹ میں 1800 روپے تک تھا، اس سال یہی قسم 2000 روپے فی من تک مارکیٹ میں ہے، ایک دوسری قسم سپر کسان ( 1509 ) اس کا ریٹ پچھلے سال 2800 روپے فی من تھا اور اب کی بار حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے تاجروں نے 3000 روپے فی من مقرر کیا ہے، ایک ماہ تک سپر باسمتی چاول تیار ہو گا، اس کے بارے میں سننے میں آ رہا ہے کہ اس کی قیمت 3600 روپے فی من مقرر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ چاول 9500 سے 12000 فی من کے حساب سے آج بھی مارکیٹ میں مل رہا ہے۔ پہلے چاول کے ریٹ اور مونجی کے ریٹ میں 1 ⁄ 2 کا فرق ہوتا تھا۔ اب یہ فرق واضح طور پر بہت بڑھ گیا ہے، میں ایک کسان ہونے کے ناتے حکومت اور ارباب اختیار سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا را کسان اور زراعت کو تباہ و برباد ہونے سے بچایا جائے۔


