ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ناکام پالیسیاں


ہر ملک اپنا تعلیمی نظام اپنی آبادی کی ذہنی اور نفسیاتی صلاحیت اس کی آمدن اور ملکی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بناتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کا مقصد لوگوں کو انتہائی مشکل حالات میں مسائل کا حل دینا ہے چاہے وہ مسئلے سماجی ہوں یا ثقافتی، اخلاقی ہوں یا روحانی۔ ان تمام مسائل کا حل ہی قومی ترقی کا ضامن ہے اور انہی کی ذریعے علم و فن میں بازی لی جاتی ہے جو ملک اپنے ملک کے حالات اور آمدن کو سامنے رکھ کر نظام تعلیم نہیں بناتے ایسے نظام تعلیم ناکام ہو جاتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم پر جو بنیادی عنصر اثر انداز ہوتے ہیں اس میں فیکلٹی کا معیار، نصاب کے معیارات، دستیاب تیکنیکی ڈھانچہ، تحقیقی ماحول، انتظامی پالیسیاں، مالیات، تشخیص اور اچھی حکمرانی ہے۔ ہمارے ملک میں ان عناصر پر 50 %فیصد تک کام ہوتا تھا کیونکہ ابتداء میں زیادہ تر جامعات سرکاری تھی ان جامعات کے اساتذہ کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے طالب علم ملکی اور غیر ملکی سطح پر پہچانے جائیں۔ نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوں یا سوشل سائنسز کے ڈاکٹر مبارک علی یا نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام ہوں یا ڈاکٹر طاہر القادری اور ان جیسے ان گنت سائنسدان، یہ تمام انہی سرکاری جامعات کے فارغ التحصیل طالب علم ہیں۔

اب سے دس سال پہلے بھی کوشش کی جاتی تھی کہ دستیاب تیکنیکی ڈھانچہ کو سامنے رکھ کر اپنے فیکلٹی اور نصاب کے معیار کو بلند کیا جائے لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے جو نئی پالیسیاں بنائی ہیں اس کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ ان پالیسیوں کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ہم باہر کی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور اب ہم ان سے مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں تو نئی پالیسیوں کا اطلاق ضروری ہے جبکہ اس دعوے کے برعکس ہمارے ملک کے فارغ التحصیل سند یافتہ صرف امریکہ میں ہی نہیں، کینیڈا، برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں اپنی بہترین خدمات دے رہے ہیں۔

ان لوگوں کی بہترین خدمات دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اور بیرونی دنیا کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ پاکستان میں گریجویشن دو سال کا ہوتا تھا جبکہ انڈیا، کینیڈا، امریکہ اور یورپی ممالک میں آج بھی تین سال کا ہوتا ہے، اسی طرح پاکستان میں ماسٹرز دو سال کا تھا جبکہ ان ممالک میں ماسٹر ایک سال کا اور بعض جگہ دو سال کا ہوتا ہے وہ مضمون پر منحصر ہے یعنی مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کا ماسٹرز چار سال کا تھا اور بیرونی دنیا کا چار سے پانچ سال کاہے۔

برطانیہ میں آج بھی ایم فل کی ڈگری مانی جاتی ہے، پی ایچ ڈی کے لئے پوری دنیا نے ایک اصول طے کر لیا کہ اس کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال اور کم سے کم دو سال ہوگی۔ ہمارے اور بیرونی دنیا کے ماسٹرز لیول تک صرف ایک سال کا فرق آتا تھا اس لئے جو طلباء، طالبات بیرون ملک پڑھنے جاتے تھے ان کو صرف ایک سال کے اضافی کورسز کرنے پڑتے تھے۔ بیرون ملک جانے والے طالب علموں کی تعداد چونکہ بہت کم ہوتی تھی اس لئے بنیادی ڈھانچہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاتی تھی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے جو نئی پالیسی بنائی ہے اس کے مطابق تمام کالجز اور جامعات سے دو سال کا ڈگری پروگرام ختم کر دیا ہے اور اس کی جگہ چار سالہ بیچلر پروگرام متعارف کرایا ہے جس کا نصاب بھی ابھی تک نہیں بن سکا۔ کالجز کے نئے پروگرام میں چار سال کے بعد بھی فل ڈگری نہیں دی جائے گی، بلکہ ایسوسی ایٹ ڈگری آف بیچلرز دی جائے گی۔ یعنی تعلیم کے سال بڑھا دیے ہیں اور ڈگری کی حیثیت بھی کم کردی گئی ہے۔ اب ان پالیسیوں کی وجہ سے ماضی میں دی گئی گریجویشن سے لے کر ایم فل تک کی ڈگریوں کو نہیں مانا جائے گا اس کا مقصد یہ ہے کہ اب ایک پڑھا لکھ طبقہ ڈگری کی وجہ سے بے روزگاری اور ذہنی اذیت کا شکار ہو جائے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کالجوں کے پاس گریجویشن کی چار سالہ تعلیم کا ایکسپرٹ اسٹاف ہی نہیں ہے، نہ تجربہ گاہیں ہیں اور نہ ہی کتب خانے کیونکہ کالجوں کا ڈگری پروگرام دو سال کا ہی ہوتا تھا۔

دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں غربت بہت زیادہ ہے اور تعلیمی بجٹ بہت کم ہے۔ طالب علموں اور ان کے والدین کو تعلیمی اخراجات خود برداشت کرنے پڑتے ہیں والدین کے لئے دو سال کی ڈگری مکمل کرانی مشکل ہوجاتی تھی تو اب بات چار سال کی ہو رہی ہے تو لازمی طور پر طالب علموں کی ایک بڑی تعداد تعلیم کو خیر آباد کہہ رہی ہے ان چند سالوں میں جو لڑکیوں کا تعلیم کی طرف رجحان بڑھا تھا اور وہ لڑکوں کے مقابلے میں سرکاری کالجوں اور جامعات میں زیادہ دکھائی دے رہی تھیں وہ بھی اب اس پروگرام کی وجہ سے تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکیں گی اور الوداع کہہ دیں گی۔

دیکھا جا رہا ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے کالجز عملی طور پر صرف انٹرمیڈیٹ تک رہ جائیں گے، موجودہ زمانے میں تعلیم کو آسان بنایا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ کم مدت میں اساتذہ اور طالب علموں میں بہترین مہارت پیدا کی جائے۔ ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے، ہم نے تعلیمی نظام کو پیچیدہ، طویل اور مہنگا کر دیا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ چار سالہ ڈگری پروگرام نجی جامعات کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا گیا ہے، کیونکہ ڈگری کی حیثیت کم کی گئی ہے اور سال بھی بڑھا دیے ہیں اس کے نتیجے میں زیادہ تر لوگوں کی کوشش ہوگی کہ ان کے بچے نجی جامعات سے تعلیم حاصل کریں اور یقیناً ہمارا صرف 10 %فیصد طبقہ ہی اتنی مہنگی تعلیم برداشت کر سکتا ہے، باقی جو 90 %فیصد آبادی آج بھی سرکاری کالجوں اور سرکاری جامعات کا رخ کرتی ہے وہ اب اعلیٰ تعلیم سے بھی محروم رہ جائے گی۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے!

فلک پر کوئی سازش ہو رہی ہے
سمندر پر ہی بارش ہو رہی ہے

Facebook Comments HS