پنجاب رینٹ ایکٹ میں ترمیم ناگزیر


پنجاب کی بارہ کروڑ آبادی میں روزگار سے وابستہ بے شمار کرائے دار ( 2009 Punjab premesis rent act ) کے قانون سے واقف نہیں۔ ریاست یہ لازم قرار دیتی ہے کہ پنجاب میں کرائے دار اور مالک جائیداد کے درمیان جو بھی معاہدہ طے پائے وہ پنجاب پریمیسز رینٹ ایکٹ 2009 میں درج شدہ شرائط کی حدود سے باہر نہ ہو۔ کرائے معاہدے کی مدت، ماہانہ کرائے کی رقم، ایڈوانس رقم یعنی پگڑی، (چاہے جو بھی ہو) ، کرائے میں سالانہ اضافہ ( چاہے فریقین کے درمیان طے پایا گیا ہو یا نہ ہو ) کرایہ پر دی جانے والی جائیداد اور ملکیت کے قانونی ثبوت اور نشاندہی سمیت اس کی تعمیری حالت اور سہولیات کی تفصیل کے علاوہ بھی مزید شرائط وہ ہیں جن کا اندراج کرائے معاہدے میں ہونا لازمی ہے۔

اس ایکٹ میں درج شرائط اور فرائض میں سے کچھ وہ ہیں جن کی ایک خاص قانونی حد مقرر ہے مثلاً یہ کہ کرائے پر دی جانے والی جائیداد دکان یا مکان کی بنیادی ضروری تعمیر و مرمت اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا جائیداد مالکان کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ کرائے دار زیادہ سے زیادہ ہر ماہ کی دس تاریخ تک ماہانہ کرایہ جمع کروانے کا پابند ہے اور یہ کرایہ ہاتھوں ہاتھ نقد کی بجائے بذریعہ بینک اکاؤنٹ یا منی آرڈر جمع کروایا جانا چاہیے تاکہ بطور یاد داشت ریکارڈ محفوظ رہے۔ مزید کچھ شرائط وہ ہیں جو متفقہ طور پہ باہمی رضا مندی سے طے کرنا کرائے دار اور جائیداد مالک دونوں پر قانوناً واجب ہیں جن کی تفصیل پنجاب پریمیسز رینٹ ایکٹ 2009 میں درج ہے۔

فریقین کے مابین متفقہ طور پر معاہدہ تحریر ہونے کے بعد جائیداد مالک اور کرائے دار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاہدے کو علاقائی رینٹ ٹربیونل کے پاس قانوناً رجسٹرڈ کروائے اور اس معاہدے کی ایک حسب ضابطہ نقل بمطابق اصل فوٹو کاپی کرائے دار کو بھی فراہم کی جائے۔ جائیداد مالکان قانونی طور پر کرائے پر دی جانے والی جائیداد کا سالانہ ٹیکس متعلقہ ادارے میں جمع کروانے کے بھی پابند ہیں۔ اس کے علاوہ سو یا پچاس روپے کے اسٹام پیپر پہ پنجاب رینٹ ایکٹ میں درج قانونی شرائط سے متصادم یا ان شرائط سے ہٹ کر جو بھی کرائے معاہدے تحریر کروائے جاتے ہیں۔

ایسے معاہدوں سے کرائے دار اور مالک جائیداد کے درمیان ایک خاص تعلق کی نشاندہی تو ہوتی ہے لیکن اس سے زیادہ ان کو کوئی خاص قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔ البتہ کرائے دار اور جائیداد مالک کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہو جائے تو رینٹ ٹربیونل اس وقت تک دونوں میں سے کسی ایک فریق کی درخواست کو مسترد کرنے کا قانونی اختیار رکھتا ہے جب تک کہ فریقین یعنی کرائے دار سالانہ کرائے کا پانچ فیصد اور جائیداد مالک سالانہ کرائے کا دس فیصد بطور جرمانہ علاقائی رینٹ ٹربیونل دفتر جمع نہ کروا دیں۔ ریاست کرائے دار اور مالک جائیداد دونوں کے تحفظ کے لئے پنجاب رینٹ ایکٹ 2009 کے مطابق قانونی ماہدہ کرنا لازمی قرار دیتی ہے۔ جس کی پاسداری کرنا یقینی طور پہ جائیداد مالک اور کرائے دار دونوں کے قانونی تحفظ کے لئے لازمی ہے۔

لیکن ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لئے غیر قانونی راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ کرائے معاہدوں کو علاقائی رینٹ ٹربیونل میں رجسٹرڈ کروانے کی بجائے زیادہ تر کرائے معاہدے سو یا پچاس روپے کے اسٹام پیپر پہ اپنی من مرضی کی شرائط کے مطابق تحریر کروا لئے جاتے ہیں۔

کیونکہ جائیداد مالکان کو یہ کامل یقین ہوتا ہے کہ ان کے اس غلط اقدام کے متعلق کوئی ذمہ دار سرکاری اہلکار ان سے کبھی پوچھ گچھ کی زحمت نہیں کرے گا۔ ان کے لئے یہ بات بھی اطمینان کا باعث ہوتی ہے کہ کرایہ دار کو اپنے خاندان کی کفالت کے لئے دکان کرائے پر لینا اس کی مجبوری ہے۔ اور اگر یہ اس کی مرضی کی لاگو کردہ شرائط سے متفق نہیں ہوتا تو اس کے بجائے درجنوں ضرورت مند ایسے ہیں جو اس کی لاگو کردہ شرائط پر دکان کرایہ پر لے سکتے ہیں۔ کرائے دار کو یہ خدشہ بھی لاحق رہتا ہے کہ دکان مالک کی من مرضی کے خلاف اس کی ذرا سی مزاحمت یا گستاخی بھی اس کے لئے دکان سے محروم ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔

قانون کے فقدان سے پیدا ہونے والی ہمارے سماج میں انسانی تذلیل کی یہ مکروہ مثال ہے۔ ہمارے ہاں کم علمی اور غلط فہمی کے باعث کرائے کی رقم میں سالانہ اضافے کو قانونی طور پر لازمی شرط سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ علم ہونا چاہیے کہ معاہدہ کرائے نامہ میں سالانہ اضافے کی کسی شرط کا طے ہونا یا نہ ہونا جائیداد مالکان کی اپنی مرضی پہ منحصر ہوتا ہے۔ پنجاب رینٹ ایکٹ 2009 میں سالانہ اضافے کی قانونی طور پر نہ اجازت ہے اور نہ ہی ممانعت ہے۔ لیکن اگر کرائے دار اور جائیداد مالک کے درمیان باہمی رضامندی سے کرائے معاہدہ میں سالانہ اضافہ، وہ چاہے جو بھی ہو، کی شرط طے پا جائے تو پھر اس کو قانونی طور پر اہمیت ضرور حاصل ہوجاتی ہے۔

پنجاب رینٹ ایکٹ میں درج شرائط کی حدود میں تحریر شدہ معاہدہ کرایہ کو اندراج کروانا بھی جائیداد مالک اور کرائے دار پر قانوناً واجب ہوتا ہے لیکن زیادہ تر جائیداد مالکان جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں جبکہ کرائے دار کے پیش نظر اپنے خاندان کی کفالت کے لئے کرائے کی دکان کا حصول ہوتا ہے۔ اس میں اتنی سکت ہی نہیں ہوتی کہ یہ دکان مالک سے اس کی مرضی کے خلاف کرایہ معاہدہ کو قانونی طور پر تحریر اور رجسٹرڈ کروانے کا تقاضا کرے یا پھر کوئی ایسا جائز اور قانونی اختلاف پیدا کرنے کا تصور کرے جس کا نتیجہ اسے دکان سے محرومی کی صورت بھگتنا پڑے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ ملک کے سبھی جائیداد مالک اپنی من مانی کے قائل ہیں۔ یہ جائیداد مالکان ہی ہیں جنھوں نے ملک کے لاکھوں دکانداروں کے لئے دکانوں کے بنیادی ترین وسائل فراہم کر رکھے ہیں۔

سماج میں ایک انسان کا دوسرے انسان سے صلہ رحمی سے پیش آنا اور اپنے اختیار سے دوسرے پہ جبر کرنا دونوں ہی باتیں بنی نوع بشر کی فطرت میں شامل ہیں۔ لیکن تاریخ انسانیت کے مشاہدے سے اس بات کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ بحیثیت مجموعی ابن آدم اپنے اختیار کی قوت کے بل بوتے پر فطرتاً بے رحم اور جابر واقع ہوا ہے بلکہ جارحانہ توسیع پسندانہ حیوانی عزائم اور ہوس کے زیر اثر اپنے ہی سماج کے لئے سفاک اور جارحیت پسند ثابت ہوا ہے۔

یہی وہ بشری فطری منفی رویے ہیں جن کی بنیاد پہ معاشی و معاشرتی حالات کے پیش نظر سماج میں توازن قائم کرنا اور بڑی اور چھوٹی اجتماعیت کے تحفظ کے لئے جمہوری اصولوں کی روشنی میں قوانین لاگو کرنا اور ان پہ عملدرآمد کو یقینی بنانا اور ان قوانین میں وقت اور حالات کی روشنی میں وقتاً فوقتاً ترمیم سازی کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔

اسلام میں اولین ترجیح سرمائے کی بجائے محنت اور محنت کشوں کو حاصل ہے۔ اسلام روپے کی کمائی کے ایسے کسی ذرائع کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ جس میں سرمائے کا تناسب سو فیصدی ہو اور محنت صفر ہو۔

ہر باشعور شہری علم رکھتا ہے کہ ملک میں کاروباری حضرات کی بھاری اکثریت ہول سیلر تاجروں کی نہیں بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے محنت کش کاروباری طبقے پر مشتمل ہے۔

حکومت اور اعلیٰ ادارے جانتے ہیں کہ کرونا کے عذاب سے لے کر سیلاب کی قیامت ٹوٹنے تک کروڑوں لوگ بے روزگار اور بے گھر ہوچکے ہیں۔ بے روزگاری اور افلاس کی ہنگامی حالت میں بھی عام لوگوں کو اپنے پیاروں کی کفالت سے کہیں زیادہ دکانوں اور مکانوں کے کرائے ادا کرنے کی پریشانی لاحق رہتی ہے۔

کرونا لاک ڈاؤن کے دوران تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے کرائے چھوڑنے کے لئے سرسری طور پر جائیداد مالکان سے اخلاقی گزارش بھی کی اور کرائے داروں کی بڑی اجتماعیت کو ریلیف دینے کے لئے حکومتی سطح پہ قانونی نوٹیفیکیشن بھی جاری ہوا تھا۔ لیکن قانون کی بالا دستی کو قائم کرنا حکومت کی ترجیحات میں ہوتا تو حکومت کی بات کا کچھ بھرم بھی ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محض درد دل رکھنے والے جائیداد مالکان کے علاوہ اکثریت نے کرائے نہیں چھوڑے۔

جبکہ ایسے ہنگامی معاشی حالات میں حکومتی ریلیف کا زیادہ مستحق معاشرے کا محروم اور اکثریتی طبقہ ہوتا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس کے وجود کی محنت کے بل بوتے پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے۔ اس طبقے کی محنت اور مشقت ان کی اپنی زندگیوں میں تو آسودگی کا باعث نہیں بنتی لیکن سرمائے دار طبقے کے لئے بنا کسی محنت کے روپے کی کمائی اور آرام و راحت کا باعث ضرور بنتی ہے۔

بڑھتی ہوئی انسانی آبادی اور اس سے پیدا ہونے والے بھیانک مسائل کے تناظر میں کرائے داری کا مسئلہ عارضی نہیں بلکہ انتہائی ٹھوس مستقل معاشی معاشرتی بنیادی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس میں درپیش سنگین نوعیتوں اور قانونی پیچیدگیوں کا بخوبی علم رکھتے ہوئے بہت پہلے ہی مالک جائیداد اور کرائے دار کے مابین قانونی طور پہ توازن قائم کرنے کے لئے جمہوری تقاضوں کی روشنی میں ٹھوس قانون سازی کی ضرورت تھی۔

کرائے دار اور مالک جائیداد کے مابین کرایہ معاہدہ کے لئے سرکاری سطح پہ پنجاب رینٹ ایکٹ میں درج شرائط اور حقوق و فرائض پر مبنی کرائے معاہدے کا پرنٹ شدہ دستاویزی فارم اب ناگزیر ہو چکا۔ اگر یہ دستیاب ہوتا تو کرائے دار اور جائیداد مالک اپنے حقوق و فرائض سے یوں لا علم نہ رہتے اور نہ ہی اپنے قانونی حقوق و فرائض سے متعلق غیر قانونی ناجائز مغالطوں میں مبتلا ہونے کی نوبت آتی۔ جبکہ ملکی عدالتوں پر کرائے داری کے تنازعات و مقدمات کا بوجھ بھی نہ ہوتا۔

موجودہ حالات میں اب وقت اور تقاضے یکسر بدل چکے ہیں۔ اب زمین سے متعلق اجتماعی معاشی حقائق کی روشنی میں ذاتی ملکیت کے حقوق کی اتنی آزادی کی گنجائش ممکن نہیں رہی کہ جو محنت کش انسانوں کی بھاری اکثریت کے معاشی استحصال اور معاشرتی افراط و تفریط کا باعث ہو۔

پنجاب کی تحصیلوں میں علاقائی سطح پر دکانوں کے کرایوں اور مکانوں کے شیڈول مالک جائیداد کی من مرضی کی بجائے پنجاب حکومت کی زیر نگرانی سرکاری سطح پہ طے کرنا اور پھر اس پہ عملدرآمد کو یقینی بنانا حکومت پر واجب ہو چکا ہے۔

پنجاب میں قانون کرایہ داری کے بنیادی اور مستقل معاشی مسئلے پر حکومت کا موثر قانونی مرکزی کردار اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

Facebook Comments HS