ملالہ کی وطن واپسی سیلاب زدگان کی لئے امید کی کرن


نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی وطن واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ وطن کی مٹی سے محبت انسان کبھی نہیں بول سکتا۔ چاہے کتنے بھی خطرات اور مشکل حالات ہوں، انسان اپنے وطن، اپنے لوگوں اور ان کا دکھ کبھی نہیں بولتا۔ ملالہ اس وقت اپنے وطن کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ جب ملالہ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، اس وقت بھی ہر آنکھ نم تھی۔ ہر چھرا اداس تھا۔ اور ہر طرف مایوسی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ آج بھی کیمپوں میں سیلاب زدگان کی حالات دیکھ کر ہر آنکھ نم ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی اکتوبر 2012 سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ سوات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کے ٹارگٹڈ حملے میں سر میں گولی لگنے کے بعد اسے تشویشناک حالت میں پاکستان سے برمنگھم کی ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ جب وہ امتحان دینے کے بعد دوسری لڑکیوں کے ساتھ اسکول وین میں گھر جا رہی تھی کہ ٹی ٹی پی کے شرپسندوں نے ان پر فائرنگ کردی تھی۔

ملالہ پاکستان کی وہ بیٹی ہے جس نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے دہشتگردوں قوتوں کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ دسمبر 2014 میں، یوسفزئی اور بھارت کے کیلاش ستیارتھی کو بچوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر امن کا نوبل انعام ملا۔

اپریل 2017 میں، اقوام متحدہ (یو این) کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے یوسفزئی کو اقوام متحدہ کا امن کا پیغامبر منتخب کیا، جو کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کی طرف سے عالمی شہری کو دیا جانے والا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

مگر اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی آج بھی سوات میں لڑکیوں کو انتہا پسندی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ منگل کو سوات میں لوگوں نے اسکول وین پر عسکریت پسندوں کے حملے کے خلاف مظاہرے کیے۔ جس حملے میں ایک ڈرائیور اور دو طالب علم زخمی ہوئے تھے۔ آج بھی سوات کے ہزاروں لوگ تشدد کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور خطے میں امن قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ملالہ نے پاکستان میں اپنے دوسرے دورے پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جو تباہی ہوئی ہے، اس کی وجہ سے ہماری تعلیم بھی بہت متاثر ہوئی ہے، ہم دو طرفی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک ماحولیاتی تبدیلی کا سامنا کر رہے ہیں، دوسری طرف لڑکیوں کی تعلیم کو درپیش مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

یوسفزئی کے اس کے دورے کا مقصد پاکستان میں سیلاب کے اثرات پر بین الاقوامی توجہ دلانے اور انسانی امداد کو یقینی بنانا ہے۔ وہ سیلاب سے تباہ ہونے والے ضلع دادو کا دورہ کریں گی اور متاثرین سے ملاقات کریں گی۔ پاکستان کی بیٹی اور نوبل انعام یافتہ ملالہ نے منگل کو کراچی میں ایک پرائمری اسکول کا دورہ بھی کیا، انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی تباہی اور راتوں رات لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوتے دیکھ کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے، میں عالمی برادری سے درخواست کرتی ہوں کہ امداد ور مدد کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے بھی اقدامات کریں۔

ملالہ نے قبل از ملالہ فنڈ نے بین الاقوامی ریسکیو کا میٹی ”آئی آر سی“ کو سیلاب سے بچاؤ کی کوششوں میں مدد اور پاکستان میں لڑکیوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر امداد جاری کی تھی۔ آئی آر سی کی مدد سے دس تباہ شدہ سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت اور بحالی بھی کرے گا۔ ملالہ کا دورہ پاکستان لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر ہوا جو ہر سال 11 اکتوبر کو لڑکیوں کے حقوق اور ان کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔ ملالہ نے بھی یہ عہد کیا ہے کہ اپنے وطن کے لوگوں کی خاطر ہر چیلینج کا سامنا کرے گی۔ جب اس وقت تباہ کن سیلاب سے ملک میں 1،700 افراد ہلاک اور 80 لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملالہ کا یہ دورہ سیلاب زدگان کے مدد اور ان کی آنکھوں میں جینے کی پھر سے ایک امید پیدا کرے گی۔

Facebook Comments HS