پاکستان میں حالیہ سیلاب۔ ایک عالمی موسمیاتی آفت


پاکستان میں جون 2022 میں موسلا دھار بارشیں، ندی نالوں کا بپھرنا اور فلیش فلڈ ایک ایسی موسمیاتی آفت کا باعث بن گئے جس کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملتی۔ ساڑھے تین کروڑ لوگ تقریباً اس سیلاب سے متاثر ہوئے اور حکومت کی طرف سے ملک بھر کے 84 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا۔ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں اور مویشیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ مکانات، سرکاری اور نجی انفراسٹرکچر بری طرح سے تباہ ہو گیا۔ فصلیں، زرعی زمین اور جنگلات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ صحت کی سہولیات متاثر ہوئیں، پورے ملک کے تعلیمی نظام میں خلل آیا جس سے لاکھوں طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔

اس سیلاب نے پاکستان کی بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات کے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو ختم کر کے رکھ دیا۔ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے جس بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہیں اس سے موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے لیے اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدامات کے لیے وسائل بہم پہنچانا اب تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اس سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بحالی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور معاشی نقصانات کی تلافی کے لیے دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال دنیا میں اس بڑے پیمانے پر تباہی مچا رہی ہے کہ آفت زدہ لوگ اور ان کی مدد کرنے والے اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہو رہے ہیں۔ جن ممالک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے ہنگام اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا وہ اب تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ان ممالک کے لاکھوں لوگ اپنے گھروں، روزگار اور اپنی زندگیوں سے محروم ہو رہے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ اس تیزی سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے عمل کو آہستہ کیا جائے اور کرہ ارض کا مستقبل محفوظ کیا جائے۔ آفات میں گھرے ہوئے کمزور اور مظلوم لوگوں کی داد رسی کی جائے اور ان کی آواز کو سنا جائے، ان کی ضروریات کو ترقیاتی ایجنڈے میں سرفہرست رکھا جائے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے مراد درجہ حرارت اور موسموں میں طویل مدتی تبدیلیاں ہیں۔ یہ تبدیلیاں قدرتی بھی ہو سکتی ہیں تاہم گزشتہ تین صدیوں کی انسانی سرگرمیاں ان موسمیاتی تبدیلیوں کا بنیادی محرک بنی ہیں۔ ان انسانی سرگرمیوں میں فوسل ایندھن جس میں کوئلہ، تیل اور گیس شامل ہیں، کو بڑے پیمانے پر جلا کر بجلی پیدا کرنا، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے لیے توانائی کا حصول قابل ذکر ہیں۔ بجلی اور دیگر توانائی کے حصول کے لیے فوسل ایندھن کو جلانے سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ گیسیں سورج کی گرمی کو جذب کر کے زمین کے درجہ حرارت کو بڑھاتے ہیں۔

کھیتوں یا چراگاہوں کو بنانے یا رہائشی کالونیاں کو تعمیر کرنے کے لیے جنگلات کو کاٹنا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا دوسرا بڑا سبب ہے کیونکہ جب درختوں کو کاٹا جاتا ہے تو جو کاربن وہ ذخیرہ کر رہے ہوتے ہیں، اسے ہوا میں چھوڑتے ہیں۔ ہر سال تقریباً تین کروڑ ایکڑ دنیا میں جنگلات تباہ کر دیے جاتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی تقریباً ایک چوتھائی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب ہے۔

زیادہ تر ٹرانسپورٹ بھی فوسل ایندھن سے چلتے ہیں۔ عالمی توانائی سے متعلق کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ نقل و حمل کا ہے اور ٹرانسپورٹ میں فوسل ایندھن کا استعمال ہر گزرتے دن بڑھتا جا رہا ہے۔

خوراک کو اگانے، پراسس کرنے، اس کی نقل و حمل، تقسیم، تیاری، استعمال اور بعض اوقات ضائع کرتے وقت۔ ہر مرحلے پر گرین ہاؤس گیس پیدا ہوتی ہے۔ جو موسمیاتی تبدیلی میں حصہ ڈالتی ہے۔ خوراک کے ضیاع کو روکنا بہت اہم ہے۔ ایک بلین ٹن خوراک جو کہ دنیا کے انسانوں کے لیے دستیاب خوراک کا تقریباً 17 فیصد بنتا ہے، ہر سال کوڑے دان میں چلی جاتی ہے۔ انسانوں کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک تہائی سے زیادہ کا تعلق خوراک سے ہے۔

ہمارے طرز زندگی کا بھی ہمارے سیارے پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔ ہمارا گھر، توانائی کا استعمال، ہم کیا کھاتے ہیں؟ اور کتنا پھینکتے ہیں؟ کپڑے، الیکٹرانکس، اور پلاسٹک جیسی اشیا کا استعمال۔ یہ سب گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ڈالتے ہیں۔ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا حصہ نجی گھرانوں سے منسلک ہے۔ دنیا کی سب سے سے زیادہ امیر ترین 01 فیصد آبادی سب سے زیادہ 50 فیصد سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہیں۔

دنیا اب معلوم تاریخ میں سب سے زیادہ گرم ہو چکی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زمین کا درجہ حرارت گرم تر ہوتا جا رہا ہے جو موسموں کی تبدیلی کا باعث ہے اور فطرت کے معمول کے توازن میں خلل ڈال رہا ہے۔ اس سے انسانوں اور زمین پر زندگی کی دیگر تمام اقسام کو بہت سے خطرات لاحق ہیں۔

عام لوگ سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مطلب صرف گرم درجہ حرارت ہے۔ در حقیقت درجہ حرارت میں اضافہ تو کہانی کا محض آغاز ہے کیونکہ ہماری زمین ایک ایسے نظام سے جڑی ہوئی ہے جس کے ایک حصے میں تبدیلی دوسرے حصوں میں بھی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید خشک سالی، پانی کی کمیابی، جنگلات میں شدید آگ، سطح سمندر میں اضافہ، گلیشیئرز کا پگھلنا، ، سیلاب، ہواؤں کے طوفان اور حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ شامل ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بننے والی گیسوں کا اخراج دنیا کے سبھی حصوں سے ہوتا ہے اور سب لوگوں کو متاثر کرتے ہیں مگر کچھ ممالک دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ان گیسوں کا اخراج کرتے ہیں۔ سب سے کم اخراج کرنے والے 100 ممالک کل اخراج کا صرف 3 فیصد پیدا کرتے ہیں اور سب سے زیادہ اخراج کرنے والے 10 ممالک 68 فیصد پیدا کرتے ہیں۔

سائنسی علم اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ دنیا کو اگر موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچنا ہے تو اس سیارے کا درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح 1.5 فارن ہائیٹ پر واپس لانا ہو گا۔ اس کے لیے عالمی رہنماؤں نے جو لائحہ عمل ترتیب دیا ہے اس کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 2030 تک نصف تک کم کرنے اور 2050 تک اسے صفر پر لے آنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے بین الاقوامی معاہدات ؛ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن، پائیدار ترقی کے اہداف اور پیرس معاہدہ وجود میں لائے گئے۔ ان معاہدات کی روشنی میں تین بنیادی کام کرنے کے ہیں ؛گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا، موسمی تبدیلیوں کے مطابق ترقیاتی منصوبہ بندی اختیار کرنا اور اس کے لیے ترقی پذیر یا کم آمدن والے ممالک کو مالی وسائل بہم پہنچانا۔

ان معاہدات کی رو سے صنعتی ممالک کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ہر سال 100 بلین ڈالر فراہم کرنے ہیں تاکہ یہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق اپنے انفراسٹرکچر کو ڈھال سکیں اور ان تبدیلیوں کے مطابق اپنے شہریوں کے لیے روزگار کو یقینی بنا سکیں۔

پاکستان کو موسمیاتی خطرات کم کرنے اور کمزور طبقات کی اہلیت کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں بین الاقوامی موسمیاتی مالیات تک رسائی حاصل کرنی ہو گی۔ ان اداروں سے ہمارے جنوبی ایشیا کے ہمسائے ممالک فائدہ اٹھا چکے ہیں مگر پاکستان اپنے سیاسی خلفشار کی وجہ سے اس طرف کوئی خاص پیشرفت نہیں کر سکا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے سب سے بڑے اور مشہور گرین کلائمیٹ فنڈ یا اڈاپشن فنڈ کی منظوری کے لیے ابھی تک درخواست ہی نہیں دی۔

موسمیاتی تبدیل ایک عالمی ایمرجنسی ہے جو قومی سرحدوں سے باہر ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے لیے ہر سطح پر بین الاقوامی تعاون اور مربوط حل کی ضرورت ہے۔ پیرس معاہدہ 2016 موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے یورپین یونین سمیت 192 ممالک کے درمیان ایک ایسا بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی قانونی لحاظ سے پابندی لازم ہے۔ اس معاہدے میں شریک خاص طور پر وہ ممالک جن کا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج سب سے زیادہ ہے، کو جرات مندانہ فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS