ہائبرڈ تجربہ جو ناکام ہوا
ہم فرض کر لیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے ناراضی کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ اب ایک تیسری قوت کی ضرورت ہے، جو ملک کو ہر طرح کا استحکام دے سکے۔ چلو یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ یہ فیصلہ صرف ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا بھی تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس اہم منصوبے پر عمل درآمد 2010 سے ہی شروع کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ کیا تھا۔ ”سونامی“ یعنی پرانے پاکستان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔ اب ظاہر سی بات ہے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ”تبدیلی“ کی ضرورت تھی۔ 2018 میں ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نے مل کر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا دیا اور عمران خان نے وزیر اعظم کا منصب سنبھال کر کام شروع کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا یہ طویل مدتی منصوبہ محض کچھ مہینے کم چار برسوں میں کیوں ناکام ہوا؟
یہ منصوبہ اس لئے قبل از وقت ناکام ہوا کہ سب نے مل کر وزیر اعظم عمران خان کو سمجھایا کہ ”زبان مبارک“ کو قابو میں رکھیں۔ اپنے ”دل“ کو رازوں کا صندوق بنا دیں۔ لیکن وہ کسی بھی طرح ماننے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ دونوں کو صاف جواب دیا کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اپنی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کی وجہ سے ہوں۔ دونوں کو پیغام دیا گیا کہ میرے ساتھ ”عوام“ ہیں۔ آپ بتائیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ یہی سے کہ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ سابق وزیر اعظم عمران خان سے ناراض ہوئی۔ پھر انھوں نے ان کی سب ”کرتوتوں“ پر گہری نگاہ رکھنا شروع کر دی۔
عمران خان کو بھی معلوم تھا کہ عوام کو بے وقوف بنانے کا بہترین نسخہ یہی ہے کہ ان کو ”مذہب“ کے نام پر آسانی سے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے ”مذہب کارڈ“ کا استعمال شروع کر دیا۔ ”ریاست مدینہ“ کا نعرہ مستانہ بلند کیا۔ عوام نے سمجھا کہ اب سونامی سے تبدیلی ضرور آئے گی، لیکن پونے چار سال کے عرصے میں عمران خان نے ہر وہ کام کیا جس کا ریاست مدینہ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ بین الاقوامی سطح پر عالم اسلام کو مسخر کرنے کے لئے ”اسلامو فوبیا“ کا شوشہ چھوڑ دیا۔
عالم عرب کو دباؤ میں لانے کے لئے ”نئے اسلامی بلاک“ کا نعرہ بلند کیا۔ عالم اسلام نے جب محسوس کیا کہ ”اسلامو فوبیا“ کا نعرہ صرف کمپنی کی مشہوری کے لئے ہے، تو انھوں نے منہ موڑ لیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو جواب دے دیا گیا کہ اس کمپنی کو بند کردو، اس لئے کہ یہ ہر وقت ”خیالی دنیا“ میں گھومتے رہتے ہیں۔ عالم عرب نے بھی جواب دیا کہ ہمارے جہاز میں جا رہے ہو اور ہمیں ہی آنکھیں دیکھا رہے ہو، اس لئے انھوں نے بھی صاف انکار کر دیا اور حکم دیا کہ اس کمپنی کو بند کر دیا جائے۔
بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ بھی مشاہدہ کر رہی تھی۔ جب عمران خان نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھارت کے انتخابات میں نریندر مودی کی جیت کی دعا مانگی، تو انھوں نے محسوس کیا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پھر امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری تھے، لیکن عمران خان نے وزیر اعظم کے منصب پر ہوتے ہوئے سابق افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو مشورہ دے ڈالا کہ وہ افغانستان میں عبوری حکومت قائم کریں۔ سابق صدر ڈاکٹر اشرف غنی اس پر ناراض ہوئے۔
امریکا نے بھی اس مشورے کو خنجر سمجھا۔ طالبان بھی ناراض ہوئے۔ وقت گزرتا گیا۔ امریکا میں صدارتی انتخابات ہونے تھے۔ عمران خان نے یہاں بھی مداخلت کو ضروری سمجھا۔ انھوں نے کھل کر ٹرمپ کو سپورٹ کیا۔ عمران خان کی بدقسمتی کہ ان کا دوست ٹرمپ ہار گیا۔ جو بائیڈن جیت گئے۔ عمران خان ان کا انتظار کرتے رہے کہ بائیڈن صدر منتخب ہونے کے بعد ان کو فون ضرور کریں گے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
ادھر عمران خان نے بھی مکمل پیش بندی کردی تھی۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرونی ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے کر وہ خوش تھا کہ ان کی کرسی نہ صرف مضبوط ہے بلکہ اگلے پانچ برس بھی ان کے ہی ہوں گے۔ عمران خان کو اس لئے یقین تھا کہ اگلے پانچ برس ان کے ہیں اس لئے کہ ان کا عقیدہ اور ایمان یہی تھا کہ ”میں سب کو سب سے زیادہ جانتا ہوں“ ۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی تھی۔ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے مطالبے پر وہ ”زبان“ کو لگانے دینے اور ”دل“ کو رازوں کا صندوق بنانے پر تیار نہیں تھے۔
وہ اس زعم میں تھے کہ میرے ساتھ ”عوام“ ہیں مجھے آپ کی ضرورت نہیں۔ پھر ان کے ساتھ وہی ہوا جو امر مشرف نے بگٹی سے کہا تھا کہ ”ہم تمھیں وہاں سے ہٹ کریں گے جہاں سے تمھارے وہم و گماں میں بھی نہیں ہو گا“ ۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ کس نے کیا؟ کیوں کیا؟ کبھی وہ اس کو بیرونی سازش قرار دیتے ہیں۔ کبھی کہتا ہے کہ مجھے مارنے کا ارادہ ہے۔ کبھی حزب اختلاف پر ملبہ ڈالتے ہیں۔ کبھی ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ دار گردانتے ہیں، حالانکہ نوشتہ دیوار یہی ہے کہ عمران خان کا سب سے بڑا دشمن ان کی اپنی ’زبان‘ او ر ”دل“ ہے۔ اقتدار سے بے دخلی کے بعد بھی یہی دونوں گوشت کے لوتھڑے ان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کاش وہ اب بھی کچھ سمجھ جائیں۔


