اے ٹی ایم مشینیں خراب ہونے کے پیچھے اصل راز کیا ہے؟


بہت سال پہلے میری ایک عزیزہ کا کہنا تھا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو جس نام سے پکاریں، وہی نام مشہور ہوتا ہے اور ماں باپ جس خطاب سے نواز دیں، دنیا بھی آپ کو وہی کچھ سمجھتی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب میں ماہانہ خرچہ لینے بہاول پور سے چندی پور گاؤں اپنے والد صاحب کے پاس جاتا تو وہ مجھے محبت سے کہتے ”آ گئے سیٹھ صاحب!“ ۔ اب کیا پتہ تھا جیب میں کچھ ہو نہ ہو دنیا بھی ہمیں سیٹھ ہی جانے گی۔ تنخواہ کے پیسے تو مہینے کے شروع کے دس پندرہ دنوں میں ہی نکڑے لگ جاتے تھے لیکن احباب کہتے ”او! تم تنخواہ وصول کرتا ہے۔ بڑا پیسے والا ہے“۔ (اب تو تنخواہ اے ٹی ایم مشین سے نکالتے ہی بجلی کا بل، گیس کا بل، انٹر نیٹ کا بل، فون کا بل، کریانہ سٹور والے کا بل، جنرل سٹور والے کا بل، سبزی والے کا بل، فروٹ والے کا بل، پولٹری والے کا بل اور دودھ والے کا بل ادا کرنے کے بعد ہمیں ایسے ہی چھوڑ جاتی ہے جیسے امریکہ ہر اوکھے ویلے پاکستان کو چھوڑ جاتا ہے) ۔

آپ نے کبھی غور کیا کہ جنوبی ایشیا اور یورپ خصوصاً سیکنڈے نیویا ممالک کی معیشت میں کیا فرق ہے؟ ظاہر ہے یہی جواب آئے گا کہ وہ امیر ممالک ہیں اپنے عوام کو بھر پور سوشل سیکورٹی فوائد دیتے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا غریب خطہ ہے۔ عرض ہے کہ دنیا کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ جنوبی ایشیا میں ہی سرکل کرتا ہے لیکن پھر بھی امیر اور غریب کے درمیان بہت بڑا معاشی فرق پایا جاتا ہے۔ کیوں؟

دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر مارکیٹ جنوبی ایشیا ہی ہے پھر بھی لوگوں کو روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں۔ کیوں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مائنڈ سیٹ کا فرق ہے ترقی یافتہ ممالک اور جنوبی ایشیا کے درمیان۔ آپ مائنڈ سیٹ تبدیل کر دیں، جنوبی ایشیا کے عوام بھی ان تمام سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہوں گے جن سے ڈنمارک، ناروے، فن لینڈ، بلجیم اور سویڈن کے عوام مستفید ہوتے ہیں۔

دیکھیں، اکبر شیخ اکبر آپ کو ایک بہت ہی چھوٹا سا فارمولہ دے گا، پاکستان اور جنوبی ایشیا کی معیشت راتوں رات بدل جائے گی۔ خطے میں خوشحالی آ جائے گی۔ کچھ قارئین میری اس بات پہ ہنس رہے ہوں گے۔ ہمارے معاشرے کے اندر کچھ لوگوں کا مزاج ہے کہ وہ ہر بات کے الٹ معنی لیتے ہیں۔ دوسروں کی سوشل میڈیا پوسٹ پہ طنز کرنا اور مذاق اڑانا ان کے مزاج کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں ایک دوا ہے۔ نام ہے سلفر۔ ہومیوپیتھی کہتی ہے کہ نوزائیدہ بچے اور حاملہ عورت کو یہ دوا نہ دیں لیکن کوئی ایسا فرد جو ہر بات کے خلاف ری ایکٹ کرتا ہو یعنی ہر بات کا الٹ معنی لیتا ہو۔

زیادہ تر منفی ذہنیت کا حامل ہو تو جسمانی بیماری اس کی خواہ کوئی بھی ہو، اس کو یہ دوا مختلف پوٹینسیوں میں دیں تو وہ بیماری ٹھیک ہو جائے گی۔ کچھ دوست برا محسوس نہ کریں تو انکشاف کر دوں کہ جو لوگ مذہبی جنونی ہوتے ہیں اور ان کے اندر مکمل عدم برداشت پائی جاتی ہے تو ایسے لوگوں کی ہر بیماری میں پرانے اور تجربہ کار ہومیوپیتھس خاموشی سے سلفر دوا کی ڈوز ضرور دے دیتے ہیں۔ خیر۔

سوال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے عوام میں مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کیسے لائی جائے تو عرض ہے کہ پہلے ان کو ایک شناخت کا احساس دیا جائے۔ جنوبی ایشیا کے لوگ کنفیوژڈ مائنڈ سیٹ رکھنے والے لوگ ہیں۔ کبھی وہ مذہب میں پناہ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”بھائی! یہ دنیا تو ختم ہو جانے والی ہے یہاں محنت کرنے اور اپنے معاشی حالات بہتر کرنے کا کیا فائدہ؟ کہ ایک دن تو مر ہی جانا ہے“ ۔

کبھی وہ ”روحانیت“ کے نام پہ شعبدہ بازوں کو اپنا ہیرو اور ماڈل بنا لیتے ہیں اور ہر مسئلے کا حل ”روحانیت“ میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے سست، نا اہل اور جاہل بن جاتے ہیں۔ کبھی وہ سبز باغ دکھانے والے کسی نعرہ باز کو اپنا رہنما بنا لیتے ہیں اور کبھی وردی پہ میڈل سجانے والے کسی فرد کو اپنا ”نجات دہندہ“ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے عوام کے موجودہ مائنڈ سیٹ کو سمجھنے کے لیے میری درج ذیل نظم پڑھیں۔

میں کون ہوں میں کیا ہوں
صدیوں سے تلاش میں سرگرداں ہوں
میں خود ہوں اک کائنات
یا بس اس کا ذرہ ہوں
تشنگی روح کی بجھ نہ پائے
جانے کب کا بچھڑا ہوں
میں ہوں ایک داستاں گو
یا بھولا بسرا قصہ ہوں
پاؤں تھمتے نہیں رقص عشق میں
بس ناچا اتنا ناچا ہوں
اکبر میاں بنا تیرا پروانہ
تم نے جو کہا میں شمع ہوں

راقم کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا کی معیشت کو بہتری پہ لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود اس کے معاشی ماہرین ہیں۔ کیسے کیسے ”نابغے“ ہیں اس زرخیز خطے میں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جیسے سبزی منڈی میں سبزی ”ترکڑی“ (ترازو) پہ رکھ کے فروخت کی جاتی ہے ایسے ہی ان ”عظیم“ دماغوں کو بھی ترکڑی پہ رکھ کے امریکہ اور یورپ کو فروخت کر دیا جائے۔ خیر۔

احباب! آپ کو بنکوں کی اے ٹی ایم مشینیں خراب ملنے کا تجربہ ہوا ہو گا۔ یہ مشینیں بار بار اور اکثر خراب کیوں ہو جاتی ہیں؟ ان مشینوں کو کنٹرول کرنے والے بنکوں کے آئی ٹی ایکسپرٹس مختلف تاویلیں بیان کریں گے تاہم راقم کا خیال ہے کہ بنکوں کے اے ٹی ایم مشینوں کے بار بار آؤٹ آف آرڈر ہو جانے کے پس پردہ اصل راز پانچ ہزار روپے والا کرنسی نوٹ ہے۔

بھلا وہ کیسے؟ وہ ایسے بھائی کہ بنکوں نے ہیکرز اور بگز کا مقابلہ کرنے کے لیے آئے روز نئے نئے سیکورٹی پروگرامز اور سافٹ ویئرز اپنے اے ٹی ایم مشین سسٹم میں انسٹال کرنا شروع کیے ہوئے ہیں۔ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اے ٹی ایم مشین سے جو تنخواہ وغیرہ نکالتے ہیں اس میں زیادہ کرنسی نوٹ پانچ ہزار روپے والے ہوتے ہیں۔ اب جب وہ دکاندار کے پاس خریداری کے لیے جاتے ہیں۔ رکشہ ٹیکسی کار والے کو کرایہ دینا ہوتا ہے تو وہاں سے پانچ ہزار روپے والے کرنسی نوٹ کے بدلے میں چینج ہی نہیں ملتا۔ عوام نے اس مسئلہ کا حل یہ ڈھونڈا ہے کہ انھوں نے اے ٹی ایم مشین پہ رقم نکالتے وقت بڑا فگر دینے کی بجائے پانچ سو اور ہزار کی مد میں چھوٹا فگر دینا شروع کرد یا ہے تاکہ پانچ ہزار روپے والے کرنسی نوٹ کی بجائے چھوٹے نوٹ نکالے جائیں۔

اب ہوتا یہ ہے کہ ایک ہی فرد اے ٹی ایم مشین کیبن میں کھڑا اپنا اے ٹی ایم کارڈ بار بار مشین میں ڈال کر پانچ ہزار روپے مالیت سے کم مالیت کے کرنسی نکال رہا ہوتا ہے تو اے ٹی ایم سسٹم میں انسٹال اینٹی ہیکر سسٹم کانشیئس ہو جاتا ہے کہ ایک ہی سیریل نمبر کے کارڈ اور کوڈ سے ایک ہی وقت میں بار بار رقم کیوں نکالی جا رہی ہے؟ وہ اینٹی ہیکنگ سسٹم اے ٹی ایم مشین میں چیک کرنے کے خود کار سسٹم کے تحت بار بار مداخلت کرتا ہے تو اس سے مشینیں خراب اور آؤٹ آف آرڈر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

بہتر تو یہی ہے کہ ملک کا مرکزی بنک تمام بنکوں کو اپنے حکم سے پابند کر دے کہ اے ٹی ایم مشینوں میں پانچ ہزار روپے والا کرنسی نوٹ نہ رکھا جائے لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کچھ بزرجمہر اپنی ”قابلیت“ کا مظاہرہ دکھانے کے لیے کہہ دیں کہ ”سر! ہم کس لیے ہیں؟ ہم اے ٹی ایم مشین میں کمانڈ ڈال دیتے ہیں کہ فرد صرف ایک بار ہی رقم نکال سکے اور ایک ہی وقت میں بار بار اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال نہ کر سکے“ ۔

احباب! پاکستان اگر پانچ ہزار روپے والے کرنسی نوٹ کے لین دین کو بند کر دے تو ملکی معیشت میں فوری طور پہ ایک بڑا انقلاب آ جائے گا۔ دیکھیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور یورپ میں بہت بڑا معاشی بحران آیا تھا۔ صنعتیں مال تو تیار کر رہی تھیں لیکن عوام مارکیٹوں میں ”دال روٹی“ کے علاوہ دیگر اشیا ء خریدنے پہ تیار ہی نہ تھے۔ پھر وہاں کے معاشی ماہرین نے پینی، سینٹ اور چھوٹے چھوٹے سکوں اور چھوٹے کرنسی نوٹوں کو فروغ دینے والی پالیسیاں بنانا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ کہ آہستہ آہستہ مغربی معیشت واپس ٹریک پہ آ گئی۔

یہاں معاملہ یہ ہے کہ آپ کی جیب میں پانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ہے اور آپ کوئی چھوٹی موٹی چیز خریدنا چاہتے ہیں۔ برگر کھانا چاہتے ہیں۔ کولڈ ڈرنک پینا چاہتے ہیں لیکن دکاندار کے پاس چینج ہی نہیں۔ آپ گھر آ گئے اور دکاندار اپنے دل میں افسوس کرتا رہا کہ گاہک واپس چلا گیا۔ جب پانچ ہزار روپے کا چینج نہ ملنے سے دکانوں پہ اشیا کی فروخت پہ منفی اثر پڑ گیا تو سمجھیں یہ اثر براہ راست آپ کی صنعتوں پہ پڑ گیا۔ معیشت کو فوری طور پہ مستحکم کرنا ہے تو پانچ ہزار روپے والے ا ور دیگر بڑے کرنسی نوٹوں پہ پابندی لگا کے چھوٹے کرنسی نوٹوں اور سکوں کو فروغ دیں۔

Facebook Comments HS