سندھ: نوری آباد کے قریب مسافر کوچ میں آتشزدگی، 12 بچوں سمیت 17 افراد ہلاک
صوبائی وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس کے اے سی پلانٹ میں آگ بھڑکی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے پارلیمانی سیکریٹری محکمہ صحت قاسم سومرو کے مطابق اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 12 بچے ہیں جن کی عمریں 15 سال سے کم ہیں جبکہ دیگر بالغ افراد ہیں۔
قاسم سومرو کے مطابق ’مغیری برادری کے ان افراد کا تعلق خیرپور ناتھن شاہ سے تھا جو کراچی سے واپس جا رہے تھے۔‘
ڈی ایس پی نوری آباد واجد علی تھیم کا کہنا ہے کہ مسافر کوچ کراچی سے خیرپور ناتھن شاہ جا رہی تھی اور اس بس میں سوار تمام افراد سیلاب متاثرین تھے۔
یاد رہے کہ حالیہ سیلابی بارشوں سے شہری آبادی میں اب سے زیادہ خیرپور ناتھن شاہ شہر متاثر ہوا ہے جو اس وقت بھی زیر آب ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام نے نوری آباد میں بس کو آگ لگنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’تین روز میں معاملہ کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے کہ کس کی غفلت کی وجہ سے معصوم جانیں ضائع ہوئیں؟ کیا بس میں حفاظتی اقدامات مکمل تھے؟ ایمرجنسی دروازوں کے ذریعے مسافروں کو کیوں نہیں نکالا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ حادثے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی نوری آباد کے قریب مسافر بس میں آگ لگنے کا نوٹس لے لیا ہے۔ انھوں نے ڈی سی اور ایس پی جامشورو کو متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو متاثرین کے اہلخانہ سے ہر قسم کے تعاون کی ہدایت کی۔


