تاریخ کی ایک بہت بڑی شخصیت شہید اللہ بخش سومرو
اللہ بخش سومرو نے 31 اگست 1900 میں شکارپور میں محمد عمر کے گھر میں جنم لیا، انہوں نے پرائمری تعلیم سے لے کر میٹرک کا امتحان شکارپور سے پاس کیا۔ شہید اللہ بخش سومرو بچپن سے ہی بہت ذہین تھے اور سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
اللہ بخش 1923 میں جیکب آباد میونسپل کمیٹی کے ممبر بنے اس کے بعد وہ سکھر لوکل بورڈ کے ممبر بنے، اور 1928 میں وہ بورڈ کے صدر بن گئے۔ انھوں نے برٹش لیجسلیٹو کونسل کے الیکشن میں حصہ لیا اور اس کے ممبر بن گئے۔ اللہ بخش بمبئی لیجسلیٹو کونسل کے 9 سال تک ممبر رہے اور سن 1936 میں سر حاجی عبداللہ ہارون اور سر شاہنواز بھٹو کی قیادت میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی بنی۔ اللہ بخش سومرو صاحب نے فروری سن 1937 میں پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا، اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔
اس پارٹی نے پارلیمنٹ میں 60 نشستوں میں سے 22 سیٹیں حاصل کر لیں۔ اور ان کی ہاؤس میں اکثریت تھی۔ مگر اس وقت برصغیر میں انگریز سرکار کا راج تھا، سندھ کے گورنر سر لانسلاٹ گراہام نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سر غلام حسین ہدایت اللہ جن کو 60 میں سے صرف تین ممبران کی حمایت تھی، ان کو حکومت بنانے کی دعوت دی، جس نے اس دعوت کو قبول کیا، اور اپنی تین نشستوں کے ساتھ باقی کچھ کچھ آزاد ممبران کو ملا کر حکومت بنائی۔
مگر ان کی حکومت اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے، جس کی بنیاد پر ایک سال بعد ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور اسے ہٹایا گیا، جس کے بعد اللہ بخش سومرو کو حکومت بنانے کی دعوت دی گئی جنھوں نے 23 مارچ 1938 کو پہلے جمہوری وزیر اعظم سندھ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ان کو تعلیم سے بڑی محبت تھی، ان کا ایک خواب تھا کہ سندھ کے ہر شہر میں لائبریریاں قائم کی جائیں تاکہ ایک صحتمند معاشرے کا قیام ہو۔ اس کے علاوہ اللہ بخش سومرو نے تعلیم کے میدان میں زبردست اصلاحات لائے، انہوں نے جیل میں اصلاحات لانے کی کوشش کی، اور بوڑھے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ سن 1940 میں سندھ ولیج تنظیم کا قیام عمل میں لائے، جس کا مقصد گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو وہ شہر میں آباد کرنا چاہتے تھے، کیوں کہ شہر میں کام کرنے سے لوگوں کی مالی حالت بہتر ہوتی۔
مشہور کالم نویس لیاقت راجپر نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ ”اللہ بخش سومرو اپنے اصولوں پر ہمیشہ ڈٹے رہے اور کبھی بھی ان کا سودا نہیں کیا، اور نہ ہی انگریز سرکار سے مرعوب ہوئے بلکہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سندھ کے حقوق لینے کی جرات کی، وہ ایک جمہوریت پسند تھے اور حقوق پر قبضہ کرنے والے سے لڑائی کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ اپنی جرات اور کام میں بہتری کی وجہ سے پورے ہندوستان کے لیڈر بن گئے۔
“ برصغیر کی تاریخ میں جہان مذہبی جنونیت لوگوں کے سیاسی شعور کو تباہ کر رہی تھی، وہان دوسری طرف سندھ میں اللہ بخش سومرو جیسے بھی لوگ تھے جو سیکولر پسند شخصیت کے مالک تھے، اور چاہتے تھے کہ مذہب کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ وہ ایک دور اندیش سیاستدان تھے۔ پیر علی محمد راشدی نے اللہ بخش سومرو کو ثابت قدم اور بہادر قرار دیا ہے۔
انہوں نے سیاسی اور سماجی سطح پر بہت بڑے کام کیے، معیشت کو بہتر بنانے کے لئے انہوں نے زرعی اصلاحات لائے۔ اللہ بخش نے سکھر بیراج بنوانے کے لیے جو رقم انگریز سرکار سے قرض لی تھی وہ 77 سال میں ادا کرنی تھی مگر انگریز سرکار نے کہا کہ اگر یہ رقم انھیں جلد ادا کی گئی تو اس پر انھیں کافی رقم معاف کی جائے گی۔ اور جس کی وجہ سے انہوں نے ڈل ٹیکس نافذ کیا کہ جلد از جلد انگریزوں کی رقم ادا کی جائے۔
سن 1942 ء میں سپر فلڈ آیا تو اس نے شہر شکارپور کا رخ کیا جس کی وجہ سے لوگوں میں بڑا خوف و ہراس پیدا ہو گیا، مگر اللہ بخش نے اپنی رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ سیلاب کا رخ کٹ دے کر اس کی زرخیز زمینوں کی طرف کیا جائے۔ محترم جی ایم سید نے لکھا ہے کہ اللہ بخش سومرو بڑے دل کے مالک تھے۔
ہندستان خالی کرو تحریک کوئیٹ انڈیا مومینٹ کے دوراں اللہ بخش سومرو نے انگریز سرکار سے دیے ہوئے لقب ”خان بہادر“ اور ”آرڈر آف برٹش امپائر“ انگریز سرکار کو واپس کیے، اور وائسرائے کو ایک خط میں برصغیر کے لوگوں کے ساتھ ظلم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا جو بات انگریز سرکار کو بری لگی، اور برطانوی سرکار نے غیر آئینی قدم سے 10 اکتوبر 1942 ع کو اللہ بخش سومرو کو سندھ کے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ حالانکہ اللہ بخش سومرو کو اسمبلی میں اکثریت کے ساتھ وہ ایک مقبول ترین سیاسی رہنما تھے۔
وہ مذہبی رواداری کے قائل تھے، سیکولر ہونے کی وجہ سے سندھ کے تمام مذہبی جماعتوں کے پسندیدہ رہنما تھے۔ اس طرح وہ سندھ کے عظیم سپوت اور برصغیر کے سیکولر رہنما کو اس کے اپنے ہے شہر شکارپور بیگاری کینال پاس اپنے دوستوں کے ساتھ ٹانگے پر جا رہا تھا تو اسے نامعلوم افراد نے گولی مار کر برصغیر کی سیاسی تاریخ میں ایک سیکولر صفت رحمدل انسان اور بڑے سیاسی رہنما کو قتل کر دیا۔ اور اس طرح سندھ کی سیکولر سیاست کا ایک روشن باب ختم ہو گیا۔ جس کے بعد غیر فرقہ ورانہ سیاست نے اس کی جگہ لے لی۔ آج بھی سندھ کے لوگ شہید اللہ بخش سومرو کو ایک عظیم رہنما، عظیم انسان کے حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔


