12 اکتوبر 1999 اور ہماری ناتواں جمہوریت


فوجی بغاوت کے پلان کا ایک حصہ جنرل مظفر عثمانی پرویز مشرف کو باحفاظت کراچی میں آرمی ہاؤس پہنچا کر پورا کر چکے تھے۔ اب اگلی باری ٹرپل ون بریگیڈ کی تھی۔ اس بریگیڈ کے کرنل شاہد اگلا مرحلہ مکمل کرنے نکلے۔ ان کی بنیادی ذمہ داری وزیراعظم ہاؤس کی حفاظت تھی لیکن وہ اپنے نوجوانوں کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنے کے لئے نکل پڑے، ان کی آمد سے قبل ٹرپل ون کے ایک میجر وزیراعظم ہاؤس کو سیل کر چکے تھے۔ کرنل شاہد وزیر اعظم ہاؤس میں داخل ہوئے تو سامنے برآمدے میں نئے آرمی چیف جنرل ضیا الدین بٹ اور نئے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل اکرم موجود تھے۔

جنرل اکرم نے کرنل شاہد سے کہا تمام کیا بیہودگی کا مظاہرہ کر رہے ہو، وزیراعظم ہاؤس کا کوئی تقدس ہوتا ہے۔ کرنل شاہد نے کہا سر مجھے اپنے کمانڈر کی طرف سے آرڈر ہے آپ ان سے بات کریں۔ ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر صلاح الدین ستی تھے اور ان کے کمانڈر جنرل شاہد محمود تھے۔ جنرل اکرم نے صلاح الدین ستی کو کہا نئے آرمی چیف کل گارڈ آف اونر لیں گے۔ صلاح الدین ستی نے کہا یس سر، صلاح الدین ستی نے یہ پیغام جنرل شاہد کو دیا تو انہوں نے کہا اسے کہو یہ بھول جائے۔

اسی دوران ٹرپل ون کی مزید فورس وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئی۔ وزیراعظم کے ذاتی گارڈز اور آرمی چیف کے گارڈ نے ہتھیار پھینک دیے۔ اب طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کرنل شاہد نے نئے آرمی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ سے فون چھین لیا جو مسلسل فون کالز میں مصروف تھے۔ کرنل شاہد نے جنرل ضیا الدین بٹ اور جنرل اکرم کو کہا سر آپ لوگ وزیراعظم کے کمرے میں چلے جائیں۔ کیونکہ ٹرپل ون کے کمانڈرز نے سب کو حراست میں لے لیا تھا۔

جب یہ دونوں جنرلز کمرے میں آئے تو یہاں وزیر اعظم نواز شریف، شہباز شریف، سینیٹر سیف الرحمن اور ان کے ملٹری سیکرٹری جاوید اقبال موجود تھے۔ کچھ دیر قبل یہاں چوہدری نثار بھی موجود تھے لیکن وہ ماحول کو دیکھ کر اچانک غائب ہو گئے۔ اسی دوران جنرل محمود احمد اور جنرل علی جان اورکزئی 25 نوجوانوں کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوئے۔ شہباز شریف فوراً بولے یہ وزیراعظم کا پرائیویٹ کمرہ ہے یہ لوگ یہاں نہیں آسکتے۔ جنرل محمود نے جوانوں کو باہر جانے کا کہا، جنرل محمود نے نواز شریف سے کہا سر یہ آپ نے کیا کر دیا۔

نواز شریف نے کہا میں نے جو بھی کیا یہ آئین اور قانون کے مطابق میرا حق تھا۔ جنرل محمود نے کہا آئین اور قانون کیا ہے، یہ اب ہم دیکھ لیں گے۔ اس وقت رات کے 8 بجے تھے اور پاکستان میں ایک فوجی بغاوت کامیاب ہو چکی تھی۔ بعد میں نواز شریف اور شہباز شریف کو گرفتار کر کے راولپنڈی لے جایا گیا۔ رات کے تقریباً بارہ بجے جنرل محمود اور جنرل علی جان اورکزئی نواز شریف کے پاس آئے وہ کہا سر یہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری ہے، اس پر دستخط کر دیں۔

نواز شریف نے کہا ”Over my dead body“ جواباً جنرل محمود نے کہا آپ سے اب اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ یہاں سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ صدر پاکستان رفیق تارڑ کو گورنر سندھ مرحوم ممنون حسین (جو بعد میں پاکستان کے صدر بھی بنے) عشائیے کی دعوت دے چکے تھے۔ یہ پارٹی شیڈول تھی۔ ممنون حسین نے صدر رفیق تارڑ کو فون کیا سر فوج ٹیک اوور کرچکی ہے کیا پارٹی ہو گی یا کینسل، رفیق تارڑ نے جواب دیا پارٹی شیڈول کے مطابق ہو گی۔

پھر یہ پارٹی شیڈول کے مطابق ہوئی بھی۔ نواز شریف نے پرویز مشرف کو ہٹایا کیوں؟ اب آتے ہیں اس کی طرف، پرویز مشرف نے ایک دن نواز شریف سے کہا آپ جنرل طارق پرویز کو عہدے سے ہٹائیں۔ جنرل طارق پرویز کور کمانڈر کوئٹہ تھے۔ ان کا موقف تھا کہ پرویز مشرف نے کارگل آپریشن سے پہلے تمام کور کمانڈر کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ جنرل طارق نے میٹنگ میں کہا کہ آپ لوگوں کو تو نواز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے آپ کی فوج کی عزت بچا لی اور ہم سب کو بیل آؤٹ کرا لیا۔ ورنہ پتہ نہیں ہماری فوج کا انجام کیا ہوتا اور ہمارا مقدر کیا ہوتا۔ ان باتوں کا پرویز مشرف کو غصہ تھا۔ مشرف کے کہنے پر نواز شریف نے جنرل طارق کو ہٹا بھی دیا لیکن جس دن وزیر اعظم نے جنرل طارق پرویز کو ہٹایا اگلے دن آئی ایس پی آر نے ازخود پریس ریلیز جاری کی کہ آرمی چیف نے جنرل طارق پرویز کو وزیراعظم سے ملاقات کرنے پر ہٹا دیا ہے۔ جس کا نواز شریف کو شدید غصہ تھا۔ اس کے بعد جنرل محمود نے اچانک ٹرپل ون بریگیڈ کا کمانڈر بھی تبدیل کر دیا۔

اس سے قبل آئی بی نے وزیراعظم کو پرویز مشرف کی دو ٹیپ دی جن میں وہ نجی محفلوں میں وزیر اعظم کو گالیاں دے رہے ہیں اور کہتے ہیں میں اس حرامی کو باہر نکال پھینکوں گا۔ 12 اکتوبر کی فوجی بغاوت کور کمانڈر کراچی جنرل مظفر عثمانی اور ٹرپل ون کے کرنل شاہد نے کامیاب کرائی۔ آپ اندازہ لگائیں ہماری تاریخ کتنی بھیانک ہے۔ ہماری جمہوریت ایک کور کمانڈر اور ایک کرنل کی مار ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments