عمران خان کو اب کون سی نئی چال کھیلنا ہو گی


تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان صاحب کو وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کروانے کے بعد اقتدار میں آئے سیاستدان 1990ء کی دہائی سے بہت ”کائیاں اور تجربہ کار“ شمار ہوتے رہے ہیں۔ حکومت سنبھالنے کے چند دن بعد ہی مگربے بس اناڑی نظر آناشروع ہوگئے جو پنجابی محاورے کے مطابق ”ہن کی کرئیے؟!“والے مخمصے میں گرفتار ہیں۔

دعویٰ ان کا یہ ہے کہ ”ریاست کو دیوالیہ“ ہونے سے بچانے کے لئے انہوں نے حب الوطنی کے جذبے سے سرشارہوکر اپنی ”سیاست“ قربان کردینے کی جرات دکھائی۔ ”ریاست“مگر ان کی احسان مندی محسوس نہیں کررہی۔ حکومت میں شامل جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان صاحب نے بھی اپنی سیاست کو مزید جارحانہ بنالیاہے۔روایتی اور سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال کے علاوہ پوری توانائی کے ساتھ شہر شہر جاکر اپنا پیغام پہنچانا شروع ہو گئے۔ بھان متی کا کنبہ دِکھتی حکومت کے پاس اس پیغام کے توڑکے لئے کوئی ”سودا“ نظر نہیں آ رہا۔ سیاسی محاذ پر بے تکے دِکھتے اقدامات لیتے ہوئے وہ مسلسل خفت کا سامنا کر رہی ہے۔

عمران خان صاحب کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد پر بالآخر عدالتی مداخلت کی وجہ سے گنتی کروانا پڑی تو عمران خان صاحب سمیت تحریک انصاف کے 120 سے زائد اراکین نے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے سپیکر کے دفتر بھجوا دئے۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے تاہم بہت سوچ بچار کے بعد صرف گیارہ استعفوں کو منظور کیا۔ پارلیمانی کارروائی کو کئی دہائیوں سے رپورٹ کرنے کے باوجود میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ فقط ان گیارہ استعفوں کو ایسی ”پذیرائی“ کیوں فراہم ہوئی۔ غالباََ یہ فرض کرلیا گیا کہ اگر ان پر ضمنی انتخابات ہوئے تو اکثر نشستوں پر حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے نمائندے کامیاب ہوکر قومی اسمبلی میں آجائیں گے۔ اتوار کے دن ان نشستوں میں سے آٹھ پر ہوئے انتخابات نے مگر اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا۔

عمران خان صاحب بھی اپنے تئیں ”وکھری نوعیت“ کی سیاست کررہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں لوٹنے کو وہ ہرگز آمادہ نہیں۔ اس کے باوجود جن آٹھ نشستوں پر انتخاب ہوئے ان میں سے سات پر خود امیدوار تھے۔ غالباََ ان تمام نشستوں کو جیت کر وہ یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ عوام کی اکثریت ان کی چلائی ہر سیاسی چال کو بغیر کوئی سوال کئے سراہتی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی سوچا ہوگا کہ اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج انہیں وطن عزیز کا مقبول ترین سیاستدان ثابت کرنے کے علاوہ تحریک انصاف کے اس مطالبے کو بھی تقویت پہنچائیں گے کہ پاکستان کے موجودہ حالات فوری انتخاب کے متقاضی ہیں جو عمران خان صاحب کی اقتدار میں جلد از جلد واپسی کو یقینی بنائیں۔

عاشقان عمران خان صاحب نے اپنے قائد کے فیصلے کو یہ سوچتے ہوئے سراہا کہ اس کے ذریعے ”امپورٹڈ حکومت“ کے خلاف ”ریفرنڈم“ کا ماحول بن جائے گا۔ عمران خان صاحب کی ان تمام حلقوں سے جیت جن پر وہ خود کھڑے ہوئے حکومت کو ”اصولی اور اخلاقی“ بنیادوں پر مستعفی ہونے کو مجبور کر دے گی۔ یہ کالم لکھتے وقت عمران خان صاحب محض کراچی کی ایک نشست سے واضح طورپر ناکام ہوئے۔ ”ریفرنڈم“ کا ماحول مگر کئی ٹھوس وجوہات کی بنا پر بن نہیں پایا ہے۔

مثال کے طورپر فقط ایک نکتہ آپ کے گوش گزار کرتا ہوں۔ہمارے تبصرہ نگاروں کی کافی تعداد بہت دنوں سے اصرار کئے چلے جاری ہے کہ عمران خان صاحب کی اصل طاقت کا راز Youth Bulge ہے۔ 18 سے 35 سال کے درمیان والی عمر پر مشتمل نوجوان جو محض سوشل میڈیا کی بدولت اپنا ذہن بناتے ہیں۔جن سات نشستوں پر اتوار کے دن انتخاب ہوئے ہیں ان میں سے فقط ملیر کو چھوڑ کر باقی تمام حلقوں میں اوسطاََ 50 ہزار کے قریب نئے ووٹوں کا اندراج ہوا ہے۔ ہم بآسانی فرض کرسکتے ہیں کہ نئے ووٹروں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہو گی۔ فرض کیا اس کا 50 فی صد حصہ بھی دل وجان سے عمران خان صاحب کا متوالا بن چکا ہے تو اتوار کے دن جن حلقوں پر انتخاب ہوئے وہاں پولنگ بوتھوں کے باہر ایسے نوجوانوں کی لمبی قطاریں نظر آنا چاہیے تھیں۔ اتوار کے دن اپنے فون کو مسلسل استعمال کرتے ہوئے میں اس تاثر کی تصدیق میں مصروف رہا۔ جو منظر متوقع تھا وہ مگر برسرزمین برپا ہونے کی کماحقہ تصدیق نہیں ہوئی۔یہ حقیقت مجھے یہ سوال اٹھانے کو اکساتی رہی کہ عمران خان صاحب کے متوالے شمار ہوتے نوجوان اگر بھاری بھر کم تعداد میں انہیں ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشنوں تک نہیں آئے تو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا مقابلہ کرنے تحریک انصاف کے متوقع لانگ مارچ میں کیوں شریک ہوں گے۔ اکثر نشستیں جیت کر بھی عمران خان میری دانست میں ”ریفرنڈم“ کا ماحول نہیں بنا پائے۔ یہ پہلو مگر اتوار کے دن اپنے قائد کی ”رحجان ساز“ جیت کی بابت شاداں محسوس کرتے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر چھائے حامی نظرانداز کرتے رہے۔

”موروثی سیاست“ کا خاتمہ بھی تحریک انصاف کا کلیدی پیغام تصور ہوتا ہے۔ اتوار کے دن مگر ملتان میں برطانوی دور سے ابھرے دو اشرافی خاندان یعنی گیلانی اور قریشی ہی ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔گیلانی یہ کالم لکھتے وقت بالآخر طویل عرصے کے بعد قریشی خاندان کو پچھاڑچکے تھے۔یہ پہلو بھی زیر غور لانا ہوگا۔”موروثی سیاست“اگرچہ ایمل ولی خان کے حوالے سے چارسدہ میں بحال ہوتی نظر نہیں آئی۔

اتوار کے دن ہوئے انتخاب نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ بیشتر حلقوں میں نام نہاد الیکٹ ایبلز اب بھی اہمیت کے حامل ہیں۔عام انتخابات کے دوران تحریک انصاف اپنے طاقت ور بیانیے کے باوجود انہیں نظرانداز نہیں کر پائے گی۔ ملیر کے حاکم بلوچ رواں صدی کے آغاز سے ملیر میں ایسے ہی الیکٹ ایبل بن کر ابھرے ہیں۔ 2013ء کے عام انتخاب میں مسلم لیگ (نون)کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ اتوار کے روز اپنی جیت کے لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کے ”تیر“ کا سہارالیا۔

اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج شروع ہونے کے فوری بعد جو سوالات میرے ذہن میں آئے آپ کے روبرو رکھ دئے ہیں۔ انہیں لکھنے کا مقصد محض یہ اصرار کرنا ہے کہ اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات کو ”ریفرنڈم“ یا T-20 جیسے میچ کی صورت نہ لیا جائے۔ عام انتخابات کے ذریعے کسی جماعت کو اقتدارمیں لانے کی بے شمار وجوہات ہوتی ہیں۔انہیں یک سطری پیغام کے ذریعے سمجھایا نہیں جاسکتا۔اتوار کے دن نتائج آجانے کے بعد فی الوقت اس سوال پر کامل توجہ دینا ہو گی کہ فوری انتخاب کے حصول کے لئے عمران خان صاحب کو اب کونسی نئی چال کھیلنا ہو گی؟ لانگ مارچ یا صدر عارف علوی کی معاونت کی بدولت ”نیوٹرلز“سے ”متحرک“ کردار کی توقع۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS