کتابیں مت پڑھئے: شوپنہاور
یہ مضمون شوپنہاور کے مضامین کے مجموعہ میں سے ایک کی تلخیص ہے۔ جرمن فلسفی کے کتب بینی سے متعلق نظریات کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ۔ یہ مضمون دراصل انگریزی میں چھ نکات پہ مشتمل ہے لیکن میں نے ایک نکات کو دو میں بانٹ کر سات نکات کیں ہیں۔
1: جب ہم پڑھتے ہیں تو دوسرا شخص ہمارے لئے سوچ رہا ہوتا ہے۔ ہم صرف اس کے دماغی حالت کو دہرا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے جیسے ایک شاگرد پینسل سے اپنے استاد کے لکھے کو دھرا رہا ہوتا ہے۔
شوپنہاور کہتا ہے کہ پڑھنے میں سب سے اہم چیز ہم کو اپنے آپ کو خیالات (غالباً سوالات) سے بھر کر پڑھنا چاہیے۔ کیونکہ جب ہم دوسروں کی کتابیں پڑھتے ہیں تو ہمارا دماغ دوسروں کے خیالات کا میدان بن جاتا ہے۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ زیادہ مت پڑھیے، ”جو شخص زیادہ پڑھتا ہے، یا سارا دن یا بہت کچھ پڑھتا ہے وہ سوچنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ ایسے جیسے کھوئی شخص سارا دن گھوڑے کی سواری کر کے چلنا بھول جاتا ہے۔ اس کے پاؤں ساتھ نہیں دیتے۔ بہت زیادہ کتب پڑھنے والے کی دماغی حالت ایسی ہوتی ہے اسے خودکار سوچنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
2: پڑھنے کے بعد سب سے اہم کام ہے ”سوچنا“ ۔ اگر بغیر سوچے بس کوئی پڑھتا ہی جائے تو اسے یہ فرصت نہیں ملے گی کہ سوچے کہ آج کیا پڑھا ہے، اور وہ محفوظ بھی نہیں ہو گا اور آخرکار ضائع ہو جائے گا۔ پڑھنے کے بعد سوچ و بچار لازمی ہے۔
3: ہمیشہ بنیادی ماخذوں کو پڑھیں مطلب کسی لکھاری یا کتاب کے متعلق لکھی گئی کتاب کو مت پڑھیں، بلکہ برائے راست اس لکھاری کی کتاب یا متعلقہ کتاب ہی پڑھیں۔ اس نقطہ پر شوپنہاور کے نقطے میں اضافہ کر کے یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ہمیشہ ہر موضوع پہ دسترس کے لئے اس شعبے کی امہات کتابیں پڑھیں۔
3: ہمیشہ اچھی چیزیں پڑھیں کیوں کہ زندگی مختصر ہے اور وقت اور طاقت محدود۔ وہ لکھاری جو مکھیوں کی طرح کتابیں لکھتے ہیں اور دھڑا دھڑ لکھتے ہیں۔ ان کی کتابیں فقط پیسوں کے لئے ہیں۔ یہاں شوپنہاور پاپولرسٹ لکھاریوں کی بات کر رہا ہے۔ جیسے اردو میں عمیرہ احمد اور انگلش میں پاؤلو کوئلو جیسے لکھاری جو ہر سال کچھ نہ کچھ لکھتے ہیں۔ اولین کتاب کی کامیابی کے بعد بس لکھتے ہی جاتے ہیں۔ مقدار ہیں لیکن کوالٹی نہیں۔ تو شوپنہاور ایسے کتابیں پڑھنے سے منع کرتا ہے۔ شوپنہاور کہتا ہے کہ یاد رکھیں وہ جو بے وقوفوں کے لئے لکھتا ہے انھیں ہمیشہ قارئین کی ایک بڑی تعداد ملتی ہے۔ اور یہ ہر فن کے ساتھ ہوتا ہے۔
4: خراب کتابیں صحت کے لئے زہر ہیں۔ وہ اذہان کو تباہ کرتے ہیں۔ ایسے کتابیں پڑھنے سے جن کی وجہ سے انسان میں منفی تاثر پیدا ہو تو اس جیسی کتابیں پڑھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
5:اچھی کتابیں دوبارہ پڑھیے کیونکہ کسی بھی چیز کو دوسری بار سمجھا جاسکتا ہے۔ اور دوسری مرتبہ پڑھنے پر غالب امکان یہی ہے کہ آپ کا موڈ اور آپ کے احساسات مختلف ہوں۔ اس سے آپ بہتر نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔
6: کلاسک پڑھئے۔ اذہان کی تخلیقیت کو جلا بخشنے میں جتنی موثر کلاسک کتابیں اور لکھاری ہیں اور کوئی نہیں۔ آدھ گھنٹے یا ایک گھنٹہ پڑھنے کے بعد آپ تازہ، پرسکون پاک اور طاقتور محسوس کریں گے۔ ایسے جیسے آپ نے پہاڑی ندی میں نہایا ہو۔
یہ سمجھنا قابل غور ہے کہ کیا یہ پرانے زبان کی وجہ سے ہے یا یہ ان دماغوں کی عظمت ہے جن کے کام بغیر نقصان دیے آج صدیوں بعد بھی باقی ہیں۔ غالباً دونوں وجوہات ہوں گی۔


