ہم ہیں مزدور ہمیں کون سہارا دے گا


مزدور اور ملازمین طبقے کا استحصال اور سرمایہ داروں اور اہل اقتدار کا خاموش تماشائی بننا کوئی نئی بات نہیں۔ انسانی تہذیب کے شروع ہونے کے ساتھ ہی طاقتور اور کمزور طبقہ کے لوگوں کے مابین مادے کے حصول کے لئے تگ و دو کے بنیاد پر ایک لکیر کھینچی گئی تھی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے فارمولہ پر کار بند ہوا کرتے تھے۔ اب بھی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فطرت کا اصول ہے۔ گویا ان کا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص کسی لحاظ سے دوسرے شخص سے کمزور ہے تو یہ اس کا قصور ہے جبکہ بعض لوگوں کا تو یہ یقین بن گیا ہے کہ غیر اشرافیہ طبقات ہماری خدمت کے لئے ہیں۔

تاریخ کے اوراق میں ہمیں اسی خیال کے ضد میں مختلف اوقات میں مختلف تحریکوں کا ذکر ملتا ہے جس نے سوشلزم کو جنم دیا۔ اشرافیہ سے اپنے حقوق لینے کے لئے مزدور تحریکیں شروع ہوئیں اور مختلف ممالک میں سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کی بنیادیں رکھی گئی۔ اس موضوع پر پھر کبھی قلم دوات کو بروئے کار لاونگا کیونکہ اب بات بہت طویل ہو جائے گی۔

گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک دوست کے ہمراہ شہر کے عین وسط میں واقع ایک نامی گرامی ریسٹورنٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم بیٹھک لگانے ہی والے تھے کہ میری نظر اسکول کے ایک دوست (جو بعد میں یونیورسٹی میں بھی ساتھ تھا) پر پڑی۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی بل کاؤنٹر پر رکھ کر مجھے سر ہلاتے ہوئے سلام اور کچھ دیر انتظار کا اشارہ دیدیا۔ کچھ ہی منٹوں بعد آ کر ہماری علیک سلیک ہوئی۔ خیر ہم نے کھانا کھایا اور وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔

بعد میں اس سے رخصت لیتے وقت میں نے استفسار کیا کہ بھائی تم تو اکنامکس میں ماسٹرز کر رہے تھے، ڈگری حاصل کر لی؟ اس کے آنکھوں میں مایوسی نظر آئی اور بولنے لگا کہ ”کیا کریں یار! ماسٹرز کی ڈگری تو سیکنڈ ڈویژن میں حاصل کر لی لیکن اب گیارہ مہینوں سے کسی اچھی نوکری کے لئے کوشاں ہو۔ گریجویشن کے بعد چھ مہینے بلا معاوضہ انٹرنشپ بھی کر لی لیکن اب تک اپنے اچھے مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہو۔ رزق کی تلاش میں سرگرداں ہو کر اس ہوٹل میں دس گھنٹے ویٹر کی نوکری کر رہا ہوں۔“

خدا جانے کیوں میں اضطرابی کیفیت میں مبتلا سا ہو گیا اور جھٹ سے اس سے تنخواہ کے بارے میں پوچھنے لگا۔ بولا ”بارہ ہزار روپے تنخواہ اور ٹپس کو کل ملا کر پندرہ سولہ ہزار بن جاتی ہے جس میں پانچ ہزار ہاسٹل کا کرایہ دینا پڑتا ہے۔ مہنگائی کا تو یہ عالم ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی سو دو سو کا روزمرہ خرچہ ہو جاتا ہے اور اگر کسی سرکاری نوکری کے لئے اپلائی کرتا ہوں تو 500 سے کم اپلائی فیس ہی نہیں ہوتی جو بعد میں اہل لوگوں کی بجائے سفارشی لوگوں کی نظر ہوتی ہیں۔“

اس کی باتیں حقیقت پر مبنی تھیں شاید اس لیے میرے دل پر لگیں۔ ہوٹل ہو یا ریسٹورنٹس، مہنگے برینڈز کے شیش محل پلازے اور دکانیں ہو یا ریئل اسٹیٹ اور کمپنیوں کے دفاتر اور کارخانے۔ ملازمین اب بھی غربت کے ٹھوکریں کھا کے رسوا ہو رہے ہیں اور سرمایہ دار اشرافیہ اجرت سے کم تنخواہیں دیتے ہوئے ان کی تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

دسمبر 2019 میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق تین سالوں میں ایک ملین سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں جن میں ہزاروں ڈاکٹروں، انجینئروں، اکاؤنٹنٹس وغیرہ نے ملک خداداد سے پرواز کی تھی جس میں تین لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ مزدور بھی شامل تھے۔ سابقہ حکومت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ملک کے اس بیش قیمت اثاثہ بیرون ممالک منتقل ہونے کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

مزدوروں اور ملازمین کے حقوق کے لئے اگر چہ ہر صوبے بشمول وفاق میں محکمہ لیبر موجود ہیں لیکن وہ ملازمین اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بجٹ میں بھلے ہی غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم اجرت پچیس ہزار مقرر ہو لیکن ملنا تو ان کو ویسے بھی اس سے کم ہیں اور شہر نا پرساں میں ہر کسی کی اپنی من مانی ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے نجی فلاحی اداروں اور حکومتی محکموں کو فقط یکم مئی پر ہی یاد آ جاتے ہیں حالانکہ بیشتر لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ مزدور اور ملازم طبقہ اس دن بھی اپنے حقوق سے بے خبر اپنے کاموں میں مگن رہتے ہیں، جس پر مجھے راہی شہابی صاحب کا یہ شعر بے اختیار یاد آتا ہے :

؎ ہم ہیں مزدور ہمیں کون سہارا دے گا
ہم تو مٹ کر بھی سہارا نہیں مانگا کرتے

Facebook Comments HS