ہم ہیں مزدور ہمیں کون سہارا دے گا

مزدور اور ملازمین طبقے کا استحصال اور سرمایہ داروں اور اہل اقتدار کا خاموش تماشائی بننا کوئی نئی بات نہیں۔ انسانی تہذیب کے شروع ہونے کے ساتھ ہی طاقتور اور کمزور طبقہ کے لوگوں کے مابین مادے کے حصول کے لئے تگ و دو کے بنیاد پر ایک لکیر کھینچی گئی تھی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے فارمولہ پر کار بند ہوا کرتے تھے۔ اب بھی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فطرت کا اصول ہے۔ گویا ان

Read more

آئیں کچھ روایات بدلیں

یہ اکیسویں صدی ہے اور دنیا اب پرانی قبائلی روایات سے بہت آگے جا چکی ہے۔ ہر طرف سائنس اور ٹیکنالوجی کے چرچے ہیں۔ ہر کوئی جدیدیت میں کھویا ہوا ہے اور ہونا بھی بھی ہے کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ انسان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تو وہ اس جستجو میں مضطرب ہے کہ اس سے بہتر یا بہترین مل جائے۔ اور انسان جو ہے ہی حریص و لالچی، تو وہ ہر چیز میں اور اور اس سے بہترین کی تلاش میں ہے۔ انسانی ترقی کسی دور میں بھی رکھی نہیں ہے اور وقت بہ وقت نت نئے ایجادات اور دریافتیں ہو رہے ہیں۔ انسان نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک عالمگیر عمرانی معاہدہ طے کیا ہے تا کہ اس کو اپنے بنیادی انسانی حقوق مل سکیں۔ لوگوں نے جدید ریاستوں میں اپنے بنیادی حقوق وضع کیے اور اپنے دساتیر میں ریاستوں سے اس کی ضمانت مانگی۔

Read more