تعلیم سے مراد صرف مذہبی تعلیم کیسے ہو گئی


علی عباس جلال پوری صاحب نے اپنشد کا مطلب قریب بیٹھنا یا خفیہ تعلیم لکھا ہوا ہے۔ کہتے ہیں گرو اپنے خاص خاص چیلوں کو قریب بیٹھا کر ان کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ قریب بیٹھا کر تعلیم اس لیے بھی کہ تعلیم ہر ایرے غیرے کا حق نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ اگر کسی عامی کے کان میں انجانے میں علم کا قطرہ پڑ جائے تو تاریخ میں اس کے کانوں میں سیسہ ڈالنے کا حکم عمل سمیت بھی پایا جاتا ہے۔ یہ حال تو ہمارے ہند کا تھا۔

ان کا یورپ بھی عامی کی تعلیم کے لیے کوئی سخی واقع نہیں ہوا۔ پادریوں، بادشاہوں، خاصوں اور ان کی آل اولاد کے علاوہ علم کے دروازے بندے تھے۔

عام لوگوں کو تعلیم کیوں نہیں دینی؟

پادری اور پنڈت اس کی کئی اخلاقی وجوہات بتاتے ہوں گے۔ ان اخلاقی وجوہات کو بنیاد بنا کر عوام نے ثواب حاصل کرنے یا گناہ سے بچنے کے لیے تعلیم سے کنارہ کشی بھی کی ہو گی۔ بالکل ایسے جیسے ہمارے پاکستان میں بہت نہیں صرف پچیس تیس سال پہلے تک لڑکیوں کو فحاشی کے نام پر تعلیم سے دور رکھا جاتا تھا اور والدین نے اس کو بخوشی قبول کیا ہوا تھا۔ یہ سارا ہوتا بھی مذہب کے نام پر رہا ہے۔

عوام کو قائل کرنے کے لیے کہ وہ علم حاصل نہ کریں، کچھ اس طرح کے دلائل تھے جن کو عوام نے درست مانا ہوا تھا، مثلاً یہ کہ علم حاصل کرنے والے پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتیں ہیں، وہ بہت مشکل ہیں، انہیں پورا نہ کر سکنے والا دوزخ میں جلے گا۔ درست تلفظ سے نہ پڑھنے والے کو آگ میں ڈالا جائے گا، غلط پڑھ کر دوزخ میں جلنے سے بہتر ہے کہ آپ نہ پڑھیں، آپ نے کون سا نوکری کرنی ہے۔

زمانے جدید کے علماء تو یہ کہتے ہیں کہ چونکہ تعلیم آگاہی دیتی ہے، اگاہی سے لوگ حقوق مانگتے ہیں، عوام کو حقوق ملنے سے حاکموں کی چوہدر میں خلل آتا ہے۔ اس وجہ سے حاکموں نے اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم درست رکھنے کے لیے عوام کو علم سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے حاکموں نے اپنے پرانے ترین اتحادی (چرچ، مندر) کی خدمات حاصل کیں۔

آپ کے ارد گرد ایسے بے شمار لوگ ہوں گے جن کو آپ دادے پڑدادے کے وقت سے جانتے ہیں۔ جیسے آج سے پچاس سال پہلے تھے ویسے ہی آج ہیں، کوئی حالات میں تبدیلی نہیں۔ جو دادے کے مالی حالات تھے وہی پوتے کے ہیں۔ تعلیم ہے نہ صحت کی گنجائش، پچاس سال پہلے حکیموں کے نسخوں کو آزماتے تھے آج عطائیوں کے۔

اگر کسی نے تعلیم بارے سوچا بھی تو خاندان کی بخشش کے لیے مذہبی تعلیم کا انتخاب کر لیا، یہ بچے کے بل بوتے پر جنت میں داخلے کی کوشش ہے۔ کہتے ہیں روٹی تین ٹائم اور سارے گھر والوں کی بخشش کا وعدہ الگ ہے (اس سے بالکل یہ مطلب نہ لیا جائے کہ میں مدرسے کی تعلیم کے خلاف ہوں، صرف وہ بتانا مقصود ہے جو ہو رہا ہے ) ۔

زمانہ قدیم میں عوام کو تعلیم سے دور رکھنے کی بات ہو رہی تھی اور عوام کو تعلیم سے دور رکھنے کے لیے مذہبی لیڈر کردار ادا کرتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا یورپ نے تعلیم کا دائرہ عوام تک پھیلانے کا پلان بنایا، سیکھنے سکھانے کے عمل کو عام کرنے کے ثمرات ہی ہیں جو یورپ نے ساری دنیا پر پہلے فوجی طریقے سے حکومتیں قائم کیں اور اب فالتو پیداوار کی وجہ سے دنیا کو غلام بنائے بیٹھا ہے۔

یورپ سے صدیوں پہلے اسلام نے اپنے ظہور کے وقت اسٹارٹ اس اعلان سے کیا ”پڑھ“ ۔ جنم سے لے کر مرنے تک پڑھنے کی بات بھی ہم سے ہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پڑھنے بارے بے شمار ہدایات ہمارے مذہبی نصاب میں موجود ہے۔

پرویز صاحب کہا کرتے تھے ”صدر اول“ ۔

گزارش ہے کہ صدر اول کی تعلیم بارے واضح ہدایات کے بعد بھی ہمارے مذہبی لیڈران نے قوم کو تعلیم سے دور رکھنے کے لیے چرچ مندر کی اطاعت میں عوام کو تعلیم سے بیگانہ رکھنے کا منظم طریقے سے بندوبست کیا۔ اسلام کی مقدس کتب میں علم حاصل کرنے کی واضح ہدایات کی وجہ سے تعلیم سے انحراف کی گنجائش موجود نہیں تھی۔ حاکموں نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے عوام میں اس خیال کو قبولیت بخشوا لی کہ ”تعلیم سے مراد صرف مذہبی تعلیم ہے“ ۔

Facebook Comments HS