کپتان کے خلاف فیصلہ آنے کا کتنا امکان ہے؟


الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن توشہ خانہ کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ کل 21 اکتوبر 2022 بروز جمعہ دوپہر 2 بجے سنائے گا۔ الیکشن کمیشن نے فول پروف سکیورٹی بھی مانگ لی ہے، یعنی ایسی سکیورٹی جو اسے بے وقوفوں سے محفوظ رکھے۔ ضلعی انتظامیہ سے سفارش کی گئی ہے کہ توشہ خانہ فیصلے کی روشنی میں ریڈ زون اور الیکشن کمیشن کی عمارت کے ارد گرد سیکیورٹی تعینات کی جائے۔

پچھلے چند برس کے فیصلے دیکھتے ہوئے ہمیں یہ وہم سا ہو گیا ہے کہ جمعے کو وہ فیصلے سنائے جاتے ہیں جن کے بعد یا تو شدید عوامی رد عمل متوقع ہو یا پھر اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی توبہ کرنے کے لیے دو تین دن درکار ہوں۔

قانون اور مقدمے کے شواہد پر تو ہماری قوم کو کوئی خاص یقین رہا نہیں۔ اب تو صورتحال یہ بن چکی ہے کہ لوگ بینچ کے اراکین کے نام دیکھ کر خود ہی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت بری اور غیر قانونی بات ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو یوں خود ساختہ اور غیر قانونی فیصلہ سناتے ہوئے کچھ شرم کرنی چاہیے اور فیصلہ سنانے کا کام معزز جج حضرات پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ویسے ہمارے ملک میں ایک بری بات ہے کہ لوگ افواہوں پر یقین کر لیتے ہیں اور مزید بری بات یہ ہے کہ یوسفی کے مشاہدے کے مطابق وہ افواہیں سچ بھی نکلتی ہیں۔

بہرحال بات ہو رہی تھی قانون سے ہٹ کر عوام کے فیصلہ سنانے کی۔ فرض کریں کہ ہم ایک ایسی خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ مقدمات کا فیصلہ قانون اور شواہد دیکھ کر نہیں بلکہ ملزم اور الزام عائد کرنے والے کو دیکھ کر فیصلہ سنایا جانے کا رواج ہو گیا ہے۔ اگر ہماری اس فنٹاسی ورلڈ میں کپتان کا مقدمہ پیش ہو تو حالات کو دیکھتے ہوئے کپتان کو سزا سنانے کا کیا امکان ہے؟

پہلے دیکھتے ہیں کہ سزا سنا دی گئی تو کیا ہو گا۔ لاکھوں اوورسیز اور کروڑوں انڈر سیز یعنی ڈوبے ہوئے پاکستانیوں کے دل یکلخت ٹوٹ جائیں گے۔ اچانک گلی گلی احتجاج ہونے لگیں گے۔ بہت شور مچے گا۔ لیکن حکومت بھنگ پی کر سوئی رہے گی اور سوچے گی کہ جتھے خود ہی تھک ہار کر گھر میں بیٹھ جائیں گے اور ٹویٹر پر حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہو جائیں گے۔ اپریل سے اب تک کے حالات دیکھتے ہوئے یہ بظاہر ایک مناسب سوچ ہے۔

لیکن خلاف توقع حالات بگڑ بھی تو سکتے ہیں۔ پھر ایسا فیصلہ سنانے کی کوئی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ اس کا کیا فائدہ ہو گا؟

ایسا فیصلہ سنایا گیا تو کپتان پر دباؤ آئے گا کہ وہ کائنات کے کرپٹ ترین سیاست دانوں کو اپنا بھائی کہے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے۔ کچھ طے ہو کہ ملک کو کس سمت لے کر چلنا ہے اور کیسے۔ کیا ایسا ہو گا کہ کپتان ہی کی حکومت قبول ہو گی ورنہ ہیجان برپا رہے گا؟ یا پھر جمہوری طریقے سے دوسری پارٹی کی حکومت بن گئی تو اسے حکومت چلانے دی جائے گی؟

یہ تو کپتان خود بھی کہہ چکا ہے کہ سیاسی عدم استحکام ہو تو معیشت ڈوبتی ہے۔ تو کپتان پر دباؤ ڈال کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

افواہیں چل رہی تھیں کہ کپتان نے نواز شریف کو پیغام بھیجا ہے کہ دونوں مل کر جمہوری بالادستی وغیرہ قائم کرتے ہیں کیونکہ کپتان کو ایسے نیوٹرل قبول نہیں جو کھل کر اس کی سیاسی حمایت نہ کریں۔ ان افواہوں کی تصدیق شہباز شریف نے کر دی ہے۔ شہباز شریف نے کہا ’چار سال ہم سے ہاتھ نہیں ملایا اور اب کہتے ہیں ہم سے آ کر بات کریں، یہ دوغلا پن کب تک چلے گا‘ ۔ مزید کہا کہ ’یہ کوئی طریقہ نہیں کہ میں ہوں تو سب کچھ ہوں اور میں نے تو کچھ نہیں، اس طرح ملک نہیں بنتے اور نظام نہیں چلتا‘ ۔

اب یہ بات تو سب پر واضح ہے کہ قوم کو میثاق معیشت درکار ہے ورنہ سب کا بھٹا بیٹھے گا۔ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہوں گے، بجلی کا بل نہیں دے پائیں گے، پٹرول نہیں ملے گا۔ یہ سب کچھ تو چلیں برداشت ہو جائے گا لیکن ناقابل برداشت بات یہ ہے کہ حکمرانوں کو تنخواہیں اور پینشنیں بھی نہیں ملیں گی۔

یوں ہماری اس خیالی دنیا میں جس میں قانون اور آئین نہیں بلکہ نظریۂ ضرورت چلتا ہے، کپتان کے خلاف فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ آگے حسب ضرورت اور اچھے چال چلن کی بنیاد پر اپیل میں فیصلہ بدلا بھی جا سکتا ہے۔ ویسے بھی الیکشن میں سال چھے مہینے پڑے ہیں، کسی شاطر کو گیم نمٹانے کی کوئی جلدی نہیں۔ اس دوران اپیلیں چلتی رہیں تو اچھا چال چلن پیدا کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar