کمفرٹ زون سے باہر نکلیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
(علامہ اقبال)
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی میں کسی تبدیلی کو دعوت دینے سے ڈرتے ہیں۔ ہم جہاں جس حالت میں ہوتے ہیں اسی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم ابھی جس جگہ پر ہیں وہ دنیا کی محفوظ ترین جگہ ہے۔ ہمارے ذہن میں ایسی سوچ اس لیے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ہم اس جگہ پر سالوں سے رہتے آرہے ہوتے ہیں۔ یہ بالکل فطری بات ہے کہ ایک ہی جگہ پر رہتے رہتے وہ مقام ہمارا کمفرٹ زون بن جاتا ہے۔ کمفرٹ زون ایک ایسا دائرہ ہے جہاں ہمیں سکون و طمانیت کا احساس تو ہوتا ہے لیکن وہاں ترقی کی راہیں مسدود ہوتی ہیں۔
وہاں رہ کر ہماری عمر بڑھ جاتی ہے اور شخصیت کی نمو رک جاتی ہے۔ زمین کی تہہ ایک بیج کا کمفرٹ زون ہے۔ زیر زمین اس کو کسی طرح کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ لیکن کیا کسی نے دیکھا ہے کہ زیر زمین کوئی بیج ایک مضبوط اور توانا درخت بن گیا ہو؟ ایک بیج کے توانا پیڑ ہونے کی کہانی ایک انسان کے کمفرٹ زون سے نکل کر دنیا کو فتح کرنے کی کہانی ہے۔ ایک بیج زمین کا سینا چیر کر نکلتا ہے، سرد و گرم ہواؤں کے جھونکے کھاتا ہے، طوفان کا سامنا کرتا ہے، خزاں اور بہار کے موسم دیکھتا ہے، پیڑ کے پتے اس کا ساتھ چھوڑتے ہیں، نئی پتیاں نکلتی ہیں، شاخیں ٹوٹتی ہیں اور نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ مضبوط اور توانا پیڑ بھی بنتا رہتا ہے۔ ایک دن آتا ہے جب وہ مکمل طور پر سایہ دار درخت بن جاتا ہے۔ بیج نے صرف اتنا کیا کہ اس نے اپنا کمفرٹ زون چھوڑ دیا اور پھر وہ ایک سایہ دار درخت بن گیا۔
انسان کے لیے بھی کمفرٹ زون سے باہر کی دنیا اندیکھی اور انجانی دنیا ہوتی ہے۔ انجانی دنیا کی سیر کرنا جوکھم بھرا ہوتا ہے۔ اس میں طرح طرح کی مشکلیں اور مسائل ہیں۔ اب بیٹھے بیٹھے بھلا کون نئی مصیبت کھڑی کرنے جائے۔ اس لیے ہم جہاں ہوتے ہیں وہیں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہاں اگر سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا ہے تو ہم خوش رہتے ہیں اور اگر کچھ برا بھی ہوتا ہے تو اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔ ہم کمفرٹ زون کی پریشانی سے مانوس ہو جاتے ہیں اس لیے وہاں کی تکلیف کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم جہاں ہوتے ہیں وہیں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ کمفرٹ زون کی دنیا امکانات سے خالی ہوتی ہے۔ وہاں رہ کر ہم اپنی زندگی کا کوئی بڑا مقصد فکس نہیں کر پاتے۔ ہم جس حالت میں ہوتے ہیں وہ ہمیں منظور ہوتا ہے۔ جس ملازمت سے ہم خوش نہیں ہوتے، وہ بادل ناخواستہ بھی ہم کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ تبدیلی سے ہم ڈرتے ہیں اور ہمارا یہی خوف ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔
ڈر اور خوف کی نفسیات بھی عجیب ہے۔ جب ہم ڈر سے دور بھاگتے ہیں تو ڈر ہمارے اوپر غالب ہو جاتا ہے اور اگر ڈر پیدا کرنے والے حالات سے آنکھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ڈر مغلوب نظر آنے لگتا ہے۔ مشکل حالات سے گھبرانے اور خوف کھانے کے بجائے ان سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہو جائیں تو کمفرٹ زون سے نکلنا آسان ہے۔ ڈر کے مد مقابل کھڑے ہونے سے نہ صرف یہ کہ ہمارا حوصلہ بلند ہوتا ہے بلکہ ہم کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کے بعد کے حالات کو نارمل کرنے کے مختلف زاویوں پر غور و فکر کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مشکل حالات پر قابو پانے میں ہماری خود اعتمادی ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ وہ ہمیں نئے مشرق و مغرب کا پتہ دیتی ہے۔ خود اعتمادی کے ساتھ ڈر کا سامنا کریں اور نئے افق کی تلاش میں نکل جائیں۔
کمفرٹ زون سے باہر نکلنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے اگلے پڑاؤ کا پہلے ہی جائزہ لے لیں۔ ہم اپنا دوسرا قدم تبھی اٹھائیں جب اس کے مثبت اور منفی اثرات کے متعلق ساری معلومات یکجا کر لیں اور باریک بینی سے ان کا مطالعہ کر لیں۔ اس طرح بدلی ہوئی صورتحال پر قابو پانے میں ہمیں آسانی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ہم محض اس لیے ڈرتے ہیں کہ کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کے بعد کے حالات کیا ہوں گے اس کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ معلومات کی کمی ڈر اور خوف کی نفسیات کو جنم دیتی ہے۔ ہم بدلے ہوئے حالات کا صحیح اندازہ نہیں لگاتے اس لیے ہم اپنی زندگی میں بدلاؤ بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔
کمفرٹ زون ایک ایسا مردہ خانہ ہے جہاں چلتی پھرتی لاشیں ہوتی ہیں۔ زندگی کی امنگوں سے مرحوم یہ زندہ لاشیں مثبت سوچ کی حامل نہیں ہوتی ہیں۔ کمفرٹ زون کے مکین نہ دن کے اجالے میں خواب دیکھتے ہیں اور نہ رات کی تاریکی میں۔ کمفرٹ زون سے نکلنا ہے تو ہمیں خواب دیکھنا ہو گا اور مثبت رویہ اپنانا ہو گا۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ جو کام ہم کرنے جا رہے ہیں اس میں کامیابی ملے گی۔ ہمیں پہلے دن سے ہی اپنی کامیابی کو محسوس کرنا ہو گا۔
اس سے ہمیں خوشی ملے گی اور ہمارا رویہ مثبت ہو گا۔ جب ہم اپنی کامیابی کو محسوس کرنے لگتے ہیں تو چھوٹی موٹی مشکلیں ہمارا راستہ نہیں روکتی ہیں۔ کمفرٹ زون سے نکلنے کا فیصلہ لینے کے بعد جب کبھی لگے کہ مشکل پیش آ رہی ہے تو ہمیں اپنے آپ سے یہ کہنا ہو گا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے۔ اور بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

