صحرائے تھر کی ثقافت جیسا شخص ماما جمن دربدر
تھر کی ثقافت جیسا شخص ماما جمن دربدر جو ہم سے آج ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے۔ مگر بچھڑا نہیں ہے اس کی یاد تو ہمارے دل و دماغ میں ہمیشہ خوشبو کی طرح رہے گی، کیوں کہ ثقافتیں کبھی بچھڑتی نہیں۔ ثقافت انسان میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ وہ ایک زندہ دل، نیک اور خوش مزاج انسان تھا۔ بنیادی طور پر وہ شاعر تھا، اور شاعر کبھی مرتے نہیں، وہ ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ شاعری زندگی کا ایک ایسا باب ہے جہ کبھی بند نہیں ہوتا، ہمیشہ کھلا رہتا ہے، جب وہ گاتا تھا تو ایسا لگتا تھا کہ پوری سندھ اس کے ساتھ جھوم رہی ہے۔
اس کے مسکراتا ہوا چھرا جو تھر کی ٹھنڈی ہواؤں جیسا لگتا تھا، کبھی اس کے ماتھے پر پریشانی نہیں دیکھی۔ وہ ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا۔ جب میں تھر اس کے گاؤں گیا تھا تو وہ مہمان نوازی میں آج تک نہیں بولا، اس کے ملنے کا انداز، بات کرنے کا انداز دیکھ کر لگتا تھا کہ ریگستان میں زندگی آ گئی ہو۔ اس کے پاس باتوں کا خزانہ ہوتا تھا، جس کو فوک وزڈم کھتے ہیں۔ سادگی اس کی ملکیت تھی۔ اور شاید دولت بھی۔ سندھ کے نوجوان جب بھی تھر گھومنے جاتے تھے تو اکثر ماما جمن کے پاس ضرور جاتے تھے، کیوں کہ ماما جمن کے بغیر تھر یاترا میں مزا نہیں آتا تھا۔ ماما کی اوطاق جہان پر وہ ریت پر چارپائیاں پڑی ہوتی تھے۔ رات کے خاموشی میں ریگستان کی ہوائیں اور ماما کے گیت کوئی بھول نہیں سکتا۔
”وٺی ہر ہر جنم وربو، مٺا مھراڻ ۾ ملبو“
ختم اونداھ ٿی ویندی، چثی چانڈاڻ ۾ ملبو
اس کی آواز میں جو مٹھاس ہوتی تھی لگتا تھا کہ بس سنتے رہیں۔
جمن دربدر جس کا تعلق سندھ کے ایک ساند قبیلے سے تھا، اس نے عمرکوٹ کے ضلعے اور تعلقے گاؤں روحل وائے میں عبدالرشید ساند کے گھر میں سن 12 مئی 1944 میں جنم لیا۔ جمن دربدر ایک غریب کسان کا بیٹا تھا، ماما جمن نے بنیادی تعلیم عمرکوٹ سے حاصل کی۔ سندھ کے قومپرست اور دانشوار عبدالواحد آریسر کے ساتھ پڑتے تھے۔ ماما جمن دربدر نے مئٹرک سن 1962 میں پاس کی۔ تعلیم کے دوراں عمرکوٹ میں کالج کے ایک استاد سے قومی اور سوشسلٹ خیالوں سے بہت متاثر ہوا، بعد میں سندھ کی ایک تنظیم ”بزم صوفیا سندھ“ کے دورے کے دوراں سندھ کے قومپرست رہنما جی ایم سید سے ملاقات ہوئے۔
وہ جی ایم سید کے خیالوں سے بہت متاثر ہوا، جس کے بعد سندھ کی قومپرست تحریک میں شامل ہو گیا۔ جمن دربدر نہ صرف ایک شاعر تھا بلکہ فنکار اور ڈراما نویس بھی تھا۔ زرعی کالج سکرنڈ میں تعلیم کے دوراں بہت سارے ڈرامے اسٹیج کئیے۔ جمن دربدر نے شاعری کی شروعات سن 168 سے عشقیہ شاعری سے کی۔ پھر یہ سندھ کا یگانے اور الستی عاشق نے اپنی شاعری کو ایک نیا موڑ دیا، مٹی سے محبت اور قوم سے محبت کو اپنی شاعری میں سمیٹ لیا۔
سندھ کی نوجوان نسل، ادبی حلقہ شاعر، ادیب اور دانشور ماما جمن کی بہت عزت کرتے تھے۔ نوجوان نسل ماما سے بہت پیار کرتے تھی۔ ایک دفعہ آرٹ کونسل کراچی میں عوامی لیگ کے سکریٹری قاضی فیض محمد کی برسی میں جب ماما جمن نے وٹی ہر ہر جنم وربو، مٹا مہران میں ملبو گایا تو نوجوانوں سے بھرا ہوا حال جھومنے لگا۔ ماما کی شاعری کو سندھ کے نامور فنکاروں شفیع فقیر، مرحوم صادق فقیر، اور سرمد سندھی نے بھی گایا ہے۔ ماما کی ایک بڑی خاصیت یہ تھی کہ وہ بغیر میوزک انسٹریومینٹس کے بھی گاتے تھے۔
جب بھی کوئی ماما جمن کو کہتا تھا کہ ماما کوئی گیت سناؤ تو ماما کبھی منع نہیں کرتے تھے، وہ ایک سادہ دل انسان تھے، ایک بار ماما کے پاس بس کا کرایا نہیں تھا تو وہ ایک شادی کے پروگرام میں چلے گئے اور وہاں پر کچھ گیت گائے اور پھر اپنے سفر کو روانہ ہو گئے، اس کی آواز میں ایسی روانگی اور جادو تھا کہ سننے والے مدہوش ہو جاتے تھے۔ جمن دربدر نے سن 1987 میں دہلی میں سندھی خواتین کی ایک تنظیم ”مارئی“ کی جانب سے شاہ لطیف انٹرنیشنل کانفرنس میں فنکار کی حیثیت میں شرکت کی۔ دھلی میں گائے گئے گیت آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہوئے۔ بحیثیت ڈراما آرٹسٹ بہت سارے ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ آج ماما جمن دربدر ہم میں نہیں رہے، مگر اس کے نغمے اور آواز ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔





