توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان پر الزامات ثابت، قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار

الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ ریفرنس کی گزشتہ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ کمیشن ہے، جب تک ہائی کورٹ کی نگرانی نہ ہو کوئی ادارہ عدالت نہیں بن جاتا۔‘
یرسٹر علی ظفر نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ دس برس پرانی چیز اٹھا کر سوال کر دیا جائے۔ یہ ایک سیاسی کیس ہے اور اپوزیشن اس پر پریس کانفرنسز بھی کر رہی ہے۔ ‘
جواب میں پاکستان مسلم لیگ نون کے وکیل بیرسٹر خالد اسحاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریفرنس میں صرف ایک سوال کیا گیا لیکن عمران خان کی جانب سے جمع کروایا گیا جواب اس سوال کے مطابق نہیں۔
’عمران خان نے توشہ خانہ سے وصول تحائف اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ انھوں نے توشہ خانہ کے تحائف اپنے پاس رکھے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان نے درست وقت میں ان تحائف کو ظاہر نہیں کیا۔‘
یہ ریفرنس رواں برس اگست کے مہینے میں الیکشن کمیشن پہنچا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسے پہلی مرتبہ 18 اگست کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔
اب تک اس ریفرنس میں الیکشن کمیشن میں پانچ سماعتیں ہو چکی ہیں۔ اس ریفرنس کی وجہ سے عمران خان کے سر پر بھی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف عمر بھر کے لیے پارلیمانی سیاست سے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بے دخل کر دیے گئے تھے۔
توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں میں تحائف خریدنے کے بعد انھیں بیچ دیا تھا۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے۔ البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’میرا تحفہ، میری مرضی۔‘
آخری سماعت کے موقع پر کیا دلائل دیے گئے؟
الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ ریفرنس کی گذشتہ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ کمیشن ہے، جب تک ہائی کورٹ کی نگرانی نہ ہو کوئی ادارہ عدالت نہیں بن جاتا۔‘
یرسٹر علی ظفر نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ دس برس پرانی چیز اٹھا کر سوال کر دیا جائے۔ یہ ایک سیاسی کیس ہے اور اپوزیشن اس پر پریس کانفرنسز بھی کر رہی ہے۔‘
جواب میں پاکستان مسلم لیگ نون کے وکیل بیرسٹر خالد اسحاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریفرنس میں صرف ایک سوال کیا گیا لیکن عمران خان کی جانب سے جمع کروایا گیا جواب اس سوال کے مطابق نہیں۔
’عمران خان نے توشہ خانہ سے وصول تحائف اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ انھوں نے توشہ خانہ کے تحائف اپنے پاس رکھے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان نے درست وقت میں ان تحائف کو ظاہر نہیں کیا۔‘
یہ ریفرنس رواں برس اگست کے مہینے میں الیکشن کمیشن پہنچا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسے پہلی مرتبہ 18 اگست کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔
اب تک اس ریفرنس میں الیکشن کمیشن میں پانچ سماعتیں ہو چکی ہیں۔ اس ریفرنس کی وجہ سے عمران خان کے سر پر بھی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف عمر بھر کے لیے پارلیمانی سیاست سے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بے دخل کر دیے گئے تھے۔
توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں میں تحائف خریدنے کے بعد انھیں بیچ دیا تھا۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے۔ البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’میرا تحفہ، میری مرضی۔‘

عمران خان کا تحریری جواب
عمران خان نے سات ستمبر کو توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا۔ عمران خان کے جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران انھیں اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔
جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔
عمران خان کے تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انھوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادائیگی کر بعد خریدا۔
اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں چار تحائف فروخت کیے تھے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے دو کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے حاصل کردہ تحائف کی فروخت سے تقریباً پانچ کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے۔
ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر تحائف میں چار رولیکس گھڑیاں بھی شامل تھیں۔
توشہ خانہ ریفرنس میں کیا ہے؟
بی بی سی کے پاس موجود اس ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا ہے کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام تر اثاثے، چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرواتے۔
دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ عمران خان نے ’جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے ‘قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔
دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 تحائف ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔
ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے حاصل کیے گئے۔
عمران خان نے کون سے تحائف خریدے؟
عمران خان کی حکومت کے ابتدائی دو ماہ کے دوران لیے گئے ان تحائف میں گراف کی گھڑی ہے، جس کی مالیت آٹھ کروڑ 50 لاکھ لگائی گئی جبکہ اسی پیک میں شامل دیگر تحائف میں 56 لاکھ 70 ہزار مالیت کے کف لنکس، 15 لاکھ مالیت کا ایک قلم اور 87 لاکھ 50 ہزار مالیت کی ایک انگوٹھی بھی شامل تھی۔ ان چار اشیا کے لیے عمران خان نے دو کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کرائی اور یہ تحائف سرکاری خزانے سے حاصل کیے۔
اسی طرح رولیکس کی ایک گھڑی جس کی مالیت 38 لاکھ تھی، عمران خان نے یہ ساڑھے سات لاکھ کے عوض خریدی۔ رولیکس ہی کی ایک اور گھڑی جس کی مالیت 15 لاکھ روپے لگائی گئی، سابق وزیراعظم نے تقریباً ڈھائی لاکھ میں خریدی۔
اسی طرح ایک اور موقع پر گھڑی اور کف لنکس وغیرہ پر مشتمل ایک باکس کی کل مالیت 49 لاکھ تھی، جس کی نصف رقم ادا کی گئی جبکہ جیولری کا ایک سیٹ 90 لاکھ میں خریدا گیا جس کی مالیت ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد مختص کی گئی تھی۔
دستاویر کے مطابق وہ گھڑی جس کے بارے میں یہ الزام ہے کہ اسے بیچ دیا گیا، وہ بھی الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں درج نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ یہ گھڑی سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے سعودی عرب کے پہلے دورے کے دوران تحفے کے طور پر لی تھی۔ اس کی مالیت 85 ملین بتائی گئی ہے جسے توشہ خانے سے 20 فیصد ادائیگی کے بعد لیا گیا۔
توشہ خانہ کیا ہے؟
توشہ خانہ یا سٹیٹ ریپازیٹری کا نام تو آپ نے اس سارے معاملے کے دوران بار بار سنا ہو گا۔ یہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔
کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔
یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں بیچ دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی تحفہ 30 ہزار روپے سے کم مالیت کا ہے تو تحفہ حاصل کرنے والا شخص اس مفت میں اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
جن تحائف کی قیمت 30 ہزار سے زائد ہوتی ہے، انھیں مقررہ قیمت کا 50 فیصد جمع کروا کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 2020 سے قبل یہ قیمت 20 فیصد تھی۔
ان تحائف میں عام طور پر مہنگی گھڑیاں، سونے اور ہیرے سے بنے زیوارت، مخلتف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔
ان تحائف کی نیلامی کا طریقۂ کار کیا ہے؟
بی بی سی کے نامہ نگار محمد اعظم کے مطابق حکمرانوں کی جانب سے توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے تحائف حکومت کے بنائے ہوئے قواعد کے تحت ہی فروخت کیے جا سکتے ہیں۔
اگر کوئی سربراہِ مملکت چاہے تو وہ ملنے والے کسی تحفے کو مخصوص رقم ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتا ہے مگر پاکستان اور انڈیا میں ایسے تحائف کی نیلامی بھی کی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا پیسہ ریاست کے خزانے میں جاتا ہے۔
کابینہ ڈویژن کے حکام کے مطابق یہ نیلامی ہر سال ہونا ہوتی ہے لیکن سالانہ بنیادوں پر ایسا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایک برس کے دوران سربراہان مملکت اور وزرا کے دوروں میں اتنے تحائف نہیں ملتے کہ ہر برس نیلامی کا انعقاد کیا جا سکے۔
سربراہان مملکت اور وزرا کو ملنے والے تحائف اور توشہ خانہ میں ان کے اندراج کا طریقہ کار بتاتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیرون ملک کے دورے کے دوران وزرات خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جس کے بعد سٹیٹ بینک سے باقاعدہ ان کی مارکیٹ قیمت کا تعین کروایا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق اگر سربراہان مملکت یا وزرا یہ تحائف نہیں رکھتے تو پھر ان تحائف کی فہرست تیار کر کے انھیں توشہ خانہ قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین اور فوج کے افسران کو نیلامی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
نیلامی کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آر اور سٹیٹ بینک سے کروایا جاتا ہے اور ان میں سے چند اشیا کی قیمت کو مارکیٹ ویلیو سے کچھ کم رکھا جاتا ہے جبکہ چند ایسے تحائف جو کسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہو ان کی اہمیت اور اعزازی مالیت کے تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔
توشہ خانہ قوانین کے مطابق ان تحائف پر پہلا حق اس کا ہے جس کو یہ تحفہ ملا ہوتا ہے، اگر وہ اسے نہیں لیتے تو پھر سرکاری ملازمین اور فوج کے اہلکاروں کے لیے نیلامی کی جاتی ہے۔ اگر اس نیلامی سے جو اشیا بچ جائیں تو انھیں عام عوام کے لیے نیلامی میں رکھ دیا جاتا ہے۔
جو بھی فوجی یا سرکاری ملازم ان قیمتی اشیا کو خریدتے ہیں انھیں اپنی ذرائع آمدن ڈیکلیر کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر لاگو ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔
توشہ خانے سے تحائف لینے پر کون سے سابق حکمران مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں؟
پاکستان کے تین سابق حکمرانوں کو اس وقت توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر تحائف حاصل کرنے پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری شامل ہیں۔
توشہ خانہ سے قیمتی کاروں سے متعلق خلاف ضابطہ خریداری نیب کا وہ خاص ریفرنس بن گیا جس میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر ملی بھگت، گٹھ جوڑ اور پارٹنرشپ کے الزامات عائد کرتے ہوئے انھیں ایک ہی ریفرنس میں ملزم نامزد کر دیا ہے۔

نیب ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو انھوں نے قوانین میں نرمی پیدا کر کے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانہ سے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
نیب کے ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے بطور صدر متحدہ عرب امارات سے تحفے میں ملنے والی آرمڈ کار بی ایم ڈبلیو 750 ‘Li’ 2005، لیکس جیپ 2007 اور لیبیا سے تحفے ملنے والی بی ایم ڈبلیو 760 Li 2008 توشہ خانہ سے خریدی ہیں۔
نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ آصف زرداری نے ان قیمتی گاڑیوں کی قیمت منی لانڈرنگ والے جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کی ہے۔ ریفرنس میں ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جن سے مبینہ طور پر آصف زرداری نے ادائیگیاں کی ہیں۔
ریفرنس کے مطابق آصف زرداری یہ گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کر رہے ہیں، انھوں نے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔




