سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے اہم ہدایات
سابق وزیر دفاع پرویز خٹک صاحب کی جانب سے اہم ہدایات کی ویڈیو جاری ہوئی ہے۔ ویڈیو میں احکامات کچھ اس طرح ہیں ”کل توشہ خانہ کیس کا فیصلہ ہے، فیصلہ ٹھیک آتا ہے تو ٹھیک۔ اگر فیصلہ خلاف آتا ہے تو تمام ورکر، ناظمین اور عہدے داران عوام کو اپنے اپنے ضلع میں نکالیں تاکہ پتہ چلے کہ تحریک انصاف کس طاقت کا نام ہے“ ۔
اس ہدایت میں دھمکی بھی ہے اور مجاز اتھارٹی پر عدم اعتماد کے نشان بھی۔
پاکستانی دربار کی ناپسندیدہ زبان پنجابی میں کہتے ہیں ”ہتھاں دیاں دتیاں دنداں نال کھولنیاں پیندیاں نیں“ ۔ عدنان کاکڑ صاحب کی ہدایت کے مطابق غیر اردو کا اردو ترجمہ ضروری ہوتا ہے، اس کا اردو ترجمہ بنے گا ہاتھوں سے لگائی ہوئیں گرہیں کئی بار دانتوں سے کھولنی پڑتیں ہیں۔
جب بھی کوئی خبر سامنے آتی ہے ہر بندا اس کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔ اس خبر کو بھی لوگ اپنی اپنی عینک سے سے دیکھ رہے ہوں گے۔ میں وہ بتانا چاہتا ہوں جو میں نے دیکھا ہے۔ میری عینک کے سامنے اپنے ملک کی درباری تاریخ گھوم گئی ہے۔ تاریخ کیوں نہ گھومتی ملک کے ایک صوبے کا ایک بار وزیر اعلی اور ایک بار ملک کا وزیر دفاع رہنا والا شخص کہہ رہا ہے کہ اگر فیصلہ درست آتا ہے تو ٹھیک اور اگر فیصلہ خلاف آتا ہے تو۔
جس ملک کے وزیر دفاع رہ چکنے والے آدمی کو ملکی عدالت پراعتماد نہ ہو، وزیر دفاع فیصلے کے خلاف احتجاج کی دعوت دے رہا ہو۔ دوسرے لفظوں میں سابق وزیر دفاع یہ فرما رہے ہیں کہ عدالت قابل اعتبار نہیں۔
تحریک انصاف کس طاقت کا نام ہے بتانے کا مطلب ہے کہ ہماری عدالتیں طاقت وروں کے خلاف فیصلے نہیں دیتیں، تحریک انصاف بھی ایک طاقت ہے، اس لیے ہمارے خلاف فیصلہ نہیں آنا چاہیے۔
اوپر بات ہوئی ہے ”ہتھاں دیاں دتیاں دنداں نال کھولنیاں پیندیاں نیں“ ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پرویز خٹک صاحب کا قصور ہے یا ہماری عدالتی تاریخ میں ایسے فیصلے موجود ہیں کہ ملک کے وزیر دفاع تک کے عہدے پر کام کرنے والے کو بھی ایسے مقدس ادارے پر اعتماد نہیں رہا۔
جلسوں جلوسوں اور سوشل میڈیا پر عدلیہ اور فوج بارے عجب طرح کی گفتگو سننے کو ملتی ہے، (عجب اس لیے کہ ون پیج گورنمنٹ سے پہلے ایسی باتیں سننے کو نہیں ملتی تھیں ) ۔ گستاخی معاف ہو تو عرض کیے دیتا ہوں کہ بقول سنجیدہ طبقے کے یہ ساری گرہیں آپ ہی کے ہاتھوں کی باندھی ہوئی ہیں۔ اب یہ کھولنی بھی آپ ہی نے ہیں، ہاتھوں سے چاہے دانتوں سے۔
جو تقریریں اور ہدایات عدلیہ یا فوج بارے جاری ہو رہی ہیں، نہیں ہونیں چاہییں، ایسے سے ملکی چہرہ بدنما ہو رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دست بستہ عرض ہے کہ اپنے گریباں والا کام جو کہ بہت مشکل ہے، اس کو چونکہ ہر اس ملک نے کیا ہے جو قوموں میں باعزت بن کر رہنا چاہتا ہے۔ ایک نہ ایک دن ہم نے بھی اپنے گریبان میں جھانکنے والا کام کرنا ہے، کیوں نہ اس کو جلدی کر لیا جائے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ کہیں عدلیہ و فوج حد سے باہر جا کر تو نہیں کھیل رہے۔
اس کے اور فوائد کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہو گا کہ ہمارے معتبر اداروں کے احترام میں اضافہ ہو گا اور ہم بطور ملک بار بار ڈیفالٹ کے خطرے سے بھی بچ جائیں گے۔


