جمہوریت میں ریاست اور راجہ کی تقدیس کا فلسفہ
موجودہ عہد میں ریاست کو مقدس اور وزیر اعظم کو شانتی پران اور منوسمرتی کے قانون کے مطابق ”راجہ“ کا درجہ دینے کی کوشش جاری ہے۔ ایسا بیانیہ ترتیب دیا گیا ہے جس کے مطابق ریاست کے عوام نے راجہ سے سوال کرنے کا حق بھی کھو دیا ہے۔ راجہ جو چاہے کرے لیکن عوام اس سے بازپرس نہیں کر سکتی۔ اس کی شخصیت کو مقدس اور اس کے رائج کردہ قانون کو مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے تاکہ مذہب زدہ سماج راجہ کے آمرانہ نظام اور آئین مخالف نظریات کے خلاف احتجاج کرنے سے باز رہے۔
ایسا کرنے والوں کو ”غدار وطن“ کا الزام دے کر مآب لنچنگ میں بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر قانونی ایجنسیوں کا استعمال کر کے اسے رزق زندان بنا دیا جاتا ہے ۔ راجہ کو ”دھرم کا رکشک“ اور اس کے ذریعہ رائج نظام کو منوؔ کے نظام سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس پورے بیانیہ کو ”ہندوتوا“ کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے جس کا تفصیلی جائزہ یہاں ممکن نہیں! اس بیانیہ کے تحت ”ون نیشن، ون الیکشن“ کے نعرہ کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی کیونکہ اگر ریاست اور وزیر اعظم کی تقدیس کا فلسفہ رائج ہو گیا تو پھر جمہوریت کا وجود ہی ختم ہو کر رہ جائے گا اور الیکشن جمہوریت میں ہوتے ہیں شاہی نظام میں نہیں!
ہندوستان میں مسلمانوں سے پہلے اور مسلمان عہد میں ریاست کا نظریہ شاہی حکومت کا نظریہ تھا۔ بادشاہ کی ذات کو تمرکز حاصل تھا۔ وہ ہر طرح کے احتساب سے بالا تر ”الوہی درجات“ کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ مہابھارت اور شانتی پران کے مطابق ریاست کے قیام، اس کی بقا اور امن و امان کے استقرار کے لئے بادشاہ کا ہونا ضروری ہے۔ منوؔ اور کوٹلیا کی نظر میں معاشرے کو طوائف الملوکی اور انتشار سے محفوظ رکھنے کے لئے بادشاہت کا قیام ضروری ہے۔
ان کے مطابق ’جس ملک میں بادشاہ موجود نہیں ہوتا تھا وہ تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ خارجی طاقتیں اس ملک کے نظام پر مسلط ہو کر اس کے باشندوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیتی ہیں‘ ۔ (گھوشال۔ مہابھارت ص174۔ بینی پرشاد۔ مہابھارت۔ ص27 تا 29) شانتی پران کے مطابق انسان کے لئے پہلے بادشاہ کا ہونا ضروری ہے اور پھر بیوی۔ بیوی کے بعد دولت و ثروت۔ کیونکہ اگر بادشاہ نہ ہو تو انسان بیوی اور دولت سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا ۔
(شانتی پران 57۔ ص41) جے۔ کے۔ بلنچلی نے اپنی کتاب میں منوؔ کے دھرم شاستر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بادشاہ کا جسم پاک اور روح مقدس ہے کیونکہ اس کی ترکیب ان عناصر سے ہوتی ہے جن کی تخلیق دنیا کے آٹھ خدائی محافظین سے ہوتی ہے۔ وہ آفتاب کی طرح آنکھ اور دل کو خیرہ کر دیتا ہے اور کوئی شخص اسے رودر رو دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ خدا نے اسے تمام مخلوق کی حفاظت کے لئے پیدا کیا ہے۔ بچپن میں بھی کوئی اس کی تحقیر نہیں کر سکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ایک معمولی انسان ہے کیونکہ ایک بہت بڑی خدائی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔
(منو کا دھرم شاستر بحوالہ نظریۂ سلطنت۔ از ڈاکٹر جے۔ کے۔ بلنچلی۔ ص365۔ مترجم قاضی تلمذ حسنین ) اس کے برعکس بادشاہ کو یہ اختیار ہوتا تھا کہ وہ نیکی اور بدی کا معیار طے کرسکے۔ رعایا کے ساتھ مذہبی رہنماؤں کے لئے بھی ان کی لغزشوں اور نیکیوں کی بنیاد پر سزا و جزا تجویز کرسکے۔ لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ بادشاہ کی خطاؤں کی بنیاد پر اس کے خلاف لب کشائی کی جرات کرسکے۔ بقول ستیش چندر ”علماء کو عزت و احترام تو دیا جاتا تھا مگر حکومت ان کے مشورے پر نہیں چلتی تھی۔
حکومت سیاسی ضرورت اور حکمراں طبقے کے مفادات کے خیال پر چلتی تھی“ ۔ (عہد وسطیٰ کا ہندوستان حصہ اول۔ از ستیش چندر۔ ص337) یہ صورتحال مسلمان عہد سلطنت اور اس سے پہلے بھی موجود تھی۔ جے۔ کے۔ بلنچلی کے مطابق ”ہندوستانی بادشاہ کے گرد پروہتوں کا مجمع رہتا تھا۔ تخت نشینی کے وقت لازم تھا کہ وہ اس کی تقدیس کریں۔ سات یا آٹھ وزرا جن سے تمام معاملات میں صلاح لینا اس پر لازم ہوتا تھا وہ تقریباً سب کے سب برہمن ہوتے تھے۔
“ (نظریۂ سلطنت۔ از جے۔ کے۔ بلنچلی۔ ص365) آج بھی حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر برہمنوں کا تسلط ہے اور ان کے مطابق ہی حکومتی معاملات طے پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان میں اقلیتی و پسماندہ طبقات کی فلاح و ترقی کے لئے کوئی مناسب لائحہ عمل وجود میں نہیں آ سکا۔ جو اسکیمیں اور منصوبے حکومتی سطح پر منصہ شہود پر آتے ہیں، ان میں اخلاص کا فقدان نظر آتا ہے۔ ان منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لئے سالہا سال کوشش کی جاتی ہے، اس کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔
پسماندہ طبقات کو ان کی ترقی اور فلاح کا فریب دے کر اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ حکومت ان کی طرفدار اور مخلص ہے۔ راجہ ان کی ترقی کے لئے فکرمند ہے جبکہ حکومتی سطح پر انہیں مزید کمزور کرنے اور کچلنے کے منصوبے بنتے رہتے ہیں، تاکہ وہ مزاحمت اور بغاوت کے جذبے سے محروم رہیں۔
کوٹلیاؔ کے مطابق بادشاہ اپنی خدمت کے بدلے میں عوام سے ٹیکس وصول کرتا ہے۔ ٹیکس کی وصولی کے لئے افسر اور گورنر مقرر کیے جاتے تھے۔ ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ آج بھی یہی صورتحال کارفرما ہے۔ ریاست کا مالک جسے جمہوری نظام میں ”وزیر اعظم“ یا ”صدر“ کہا جاتا ہے اپنی خدمات کے عوض ریاست کے عوام سے ٹیکس وصول کرتا ہے۔ ٹیکس کی وصولی کے لئے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ ٹیکس عوام کی سہولیات اور ان کی ترقی کے لئے معین کیا جاتا ہے ۔
لیکن جی۔ ایس۔ ٹی۔ نافذ کرنے سے پہلے اقتصادی ڈھانچہ کو مد نظر نہیں رکھا گیا، جیسا کہ الگ الگ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے۔ نوٹ بندی اور اس کے بعد جی۔ ایس۔ ٹی۔ کے نفاذ نے اقتصاد کے بنیادی ڈھانچہ کو متزلزل کر دیا۔ اپوزیشن نے اس ٹیکس وصولی کو ’گبر سنگھ ٹیکس ”کا نام دیا تھا جو اس کے اصول و نظریات کے مطابق اٹ پٹا محسوس نہیں ہوا۔ جو لوگ نوٹ بندی اور جی۔ ایس۔ ٹی۔ کے ڈرافٹ کے متعلق حق معلومات (آرٹی آئی) کے تحت سوال کرتے ہیں انہیں تسلی بخش جواب نہیں دیا جاتا۔
اکثر آرٹی آئی دفاتر میں انفارمیشن کمشنر کا تقرر نہیں کیا جا رہا ہے تاکہ حق معلومات کے تحت موصول ہونے والی درخواستیں دھول پھانکتی رہیں۔ یہ سراسر جمہوری قدروں کے خلاف اور رعیت کی آواز کو دبانے جیسا عمل ہے۔ جمہوری نظام میں منتخب عوامی نمائندوں کی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔ عوام اپنے حقوق اور مسائل کے حل کے لئے وزیر اعظم اور صدر تک سے سوال کرنے کا حق رکھتی ہے۔ لیکن موجودہ ہندوستان میں تمام معیارات بدل چکے ہیں۔
وزیر اعظم کی ذات کو اس قدر مقدس بنا دیا گیا کہ عوام ان سے سوال کرنے کا حق کھو چکی ہے۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں وزیر اعظم نے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی۔ میڈیا کے سامنے آئے بھی تو پہلے سے طے شدہ سوالوں کے جواب دینے کے لئے یا پھر صحافی کی جگہ کسی فلم اداکار کو سوال پوچھنے کے لئے منتخب کر لیا گیا تاکہ بنیادی مسائل کے بجائے سوالات کا دائرہ وزیر اعظم کی ذاتی پسند و ناپسند تک سمٹ کر رہ جائے۔ وزیر اعظم ظاہری طور پر تو یہ کہتے ہیں کہ وہ عوام کے خدمت گزار ہیں لیکن ان کا عمل اس کے برعکس نظر آتا ہے۔
انہوں نے اپنی ذات کو‘ راجہ ’کے اختیارات کا حامل بنالیا ہے۔ قدیم ریاستی تہذیب کے مطابق‘ راجہ ’کی ذات مقدس اور بے عیب تصور کی جاتی تھی، آج جمہوری نظام میں وزیر اعظم کو راجہ اور ان کی ذات کو مقدس سمجھا جا رہا ہے، جس کے لئے پوری توانائی کے ساتھ بیانیہ آمادہ کیا گیا۔ منو ؔ کے مطابق بادشاہ کی تخلیق دنیا کے آٹھ عناصر کے خمیر سے ہوئی ہے۔ اس لئے وہ اپنی نورانیت میں تمام مخلوقات سے افضل و برتر ہوتا ہے۔ وہ انسان کے روپ میں ایک دیوتا ہوتا ہے۔
وہ اپنے اندر بھگوان وشنوؔ کی روح کو جذب کر لیتا ہے اسی لئے دنیا اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتی ہے جس طرح خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے۔ (گھوشال ص 181۔ 383) آج رعایا وزیر اعظم کے سامنے سجدہ ریز ہے اور ان سے سوال پوچھنے کو جرم تصور کیا جاتا ہے ۔ یہ بیانیہ بعض افراطی تنظیموں کے ذریعہ آمادہ کیا گیا لیکن اسے عوام کے ذریعہ نافذ کرانے کی کوشش کی گئی۔ رعایا کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اس بیانیہ کے تحت وہ اپنے جمہوری حقوق گنوا چکی ہے۔ کیونکہ اسے مذہب کی افیون پلا دی گئی ہے جس کے نشہ میں دھت رعیت اپنی فہم و فراست کھو چکی ہے۔
مسلمانوں کا نظریۂ حکومت ویدوں اور پرانوں کے نظریۂ سلطنت سے الگ نہیں تھا۔ مسلمان بادشاہوں نے بھی مذہب کا اسی طرح سوئے استفادہ کیا جس طرح ہندو راجاؤں نے کیا۔ ان کے درباروں میں موجود سیاست مدار اور علماء بادشاہ کی مرضی کے مطابق قوانین وضع کرتے اور اس کی شخصیت کو مقدس بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ عوام کو اس کے ظلم و ستم پر مذہبی نقطۂ نگاہ سے قانع بنایا جاتا تھا اور عدل الہی کی دہائی دے کر اس کے غیر عادلانہ نظام پر صبر کی تلقین کی جاتی تھی۔
مسلمانوں نے بادشاہ کو ظل الہی کا درجہ دیا تو ہندوؤں نے اس کی ذات کو دیوتاؤں کا روپ قرار دیا۔ اس طرح ہندو اور مسلمان دونوں ریاستوں میں بادشاہ کی حیثیت کو اولیت حاصل رہی اور اس کے ظلم و ستم پر بھی مذہب کی روشنی میں مختلف جواز قائم کیے گئے۔ مسلمانوں نے دنیا کے بیشتر حصے پر حکومت کی لیکن ان کی حکومت کا نظریہ اسلامی نہیں تھا۔ ان کی انفرادی زندگی بھی مذہب کے اصولوں کے برخلاف بسر ہوتی تھی۔ البتہ بعض حکمران خالص مذہب کے پیروکار بھی ہوئے ہیں لیکن انہوں نے سیاسی معاملات میں مذہب سے روشنی حاصل نہیں کی۔ (سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات۔ ص41)
غرض کہ ہندوستان میں پھر وہی نظام لوٹ کر آ رہا ہے جس سے نجات حاصل کرنے کے لئے عوام نے صدیوں جدوجہد کی۔ سیاست مداروں کے تقدس کا یہ فلسفہ ویدوں اور پرانوں سے لیا گیا ہے ۔ ہندو راشٹر قائم کرنے کی فکر میں منوؔ کے جس قانون کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اس کا مطالعہ ہی انسان کو قدیم غلامی کے تصور سے دوچار کر دیتا ہے۔ ہندو راشٹر کے قیام کے لئے رواں سال فروری ماہ میں پریاگ راج کے ماگھ میلے میں دھرم سنسد منعقد ہوئی تھی۔
دھرم سنسد میں ہندو راشٹر کی جو تجویز پاس کی گئی اس کے تحت 30 ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی کو اس کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نئے آئین کا پہلا مسودہ جو 32 صفحات پر مشتمل ہے، پیش کیا جا چکا ہے جس کے اہم نکات منظر عام پر ہیں جو انتہائی فکر انگیز اور چونکانے والے ہیں۔ ہندوستان میں موجود بعض روشن دماغ دانشور اس فکر کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور مسلسل لکھ اور بول رہے ہیں۔ کسی بھی نظام کو بغیر چوں و چرا کے برداشت کرلینا عوام کے حق میں نہیں ہے۔ اس لئے ایسی فکروں کے خلاف مزاحمت اور احتجاج ضروری ہے۔


