حبیب جالب کے دس کروڑ
حبیب جالب بیچارہ دہائیاں دیتے دیتے آخر مر گیا۔ اس نظم میں مجھے ان کی سب سے بہترین بات وہ لگی جس میں انہوں نے عوام کو گدھے سے تشبیہ دی۔ دنیا میں قوموں کی جب نئی شناخت بنی تو شاید ابتدا میں وہ بھی اسی طرح کے گدھے ہی ہوں گے لیکن پھر انہوں نے خود کو حضرت انسان منوا لیا اور ایک قوم بن گئے۔ اور ادھر تو وہ حالت ہے کہ ایک نصف صدی گزر گئی لیکن پوری نصف صدی کے بعد بھی حبیب جالب کی یہ نظم لفظ بہ لفظ ہمارے حالات پر صادق آتی ہے۔
آپ نے ایک نظریاتی ملک تو بنا لیا ایک بھان متی کا کنبہ تو بنا لیا کہیں کی مٹی کہیں کا پتھر کہیں کا روڑا تو اکٹھا کر دیا۔ لیکن افسوس ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہونے والا یہ ملک اپنی پبلک کو ایک قوم میں تبدیل نہ کر سکا۔
ایک مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک میں آپ نے کسی سوچ کو پروان چڑھانے کی اجازت ہی نہ دی۔ اور جب بھی چورن بیچا تو بجائے اس کے کہ اس مذہب کے نام پر لیے جانے والی مملکت کو اب آگے لے جانے کے لیے کچھ نئے نظریات سائنسی تجربات ترقی کچھ کرتے بلکہ اپنے اس میں مزید وہی چورن بیچا اور وہ بھی صرف اور صرف اپنے فائدے کے لئے نہ کہ حقیقت میں عوام کی ترقی کے لئے۔ اس کام کا نتیجہ کیا ہوا آپ تو امیر سے امیر تر ہو گئے اور قوم کو غریب سے غریب تر کر دیا ایک بیانیہ تشکیل دیا اور عوام کو ہمیشہ کے لیے غلامی کی اس لمبی فصیل میں قید کر لیا جس سے وہ نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتے۔
اب اس قوم کے ہر فرد کی اس بھیڑ کی طرح وہی حالت ہے جو کہ اپنے ریوڑ سے گم ہو چکی ہے اور ہر نئے ملنے والے ریوڑ کے اندر یہ سوچ کر خود کو گھسا لیتی ہے کہ شاید اسی کے ساتھ ہی میں اپنے منزل مقصود پر پہنچ جاؤں گی لیکن وہ پھر وہی کی وہی وہ پھر پہلے مقام پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ کل بھی استعمال ہوئے آج بھی استعمال ہو رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی استعمال ہوں گے کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر تو کبھی نئے پاکستان کے نام پر تو کبھی پٹوار خانے کے نام پر۔
لیکن امید رکھے کہ سماجیات اور عمرانیات میں میں صفر سے بھی کم ترقی ہونے کی وجہ سے اس نے وہیں کا وہیں رہنا ہے بلکہ پیچھے کی طرف تو جانا ہے آگے کی طرف نہیں جانا۔ لہذا ہونے والے ہر نئے واقعات حادثے یا کسی بھی ایونٹ کو انجوائے کریں۔ چاہے تو خوشی کے ساتھ یا ان چاہی بے بسی کے ساتھ۔


