تبدیلی کا مظہر اکتوبر
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں کے مصداق حسن اس لیے حسن ہے کہ اسے دوام نہیں، تبدیلی کا احساس ہی چیزوں کو خوبصورتی اور معنویت عطا کرتا ہے۔ وقت، پل، ساعتیں، لمحے اثر رکھتے ہیں اور اثر چھوڑتے ہیں ایسے ہی مہینوں میں اکتوبر کا مہینہ تبدیلیوں کا مظہر ہے۔ شہروں، قصبوں، گاؤں میں اکتوبر الگ انداز سے جلوہ گر ہوتا ہو گا۔ لیکن کسی پہاڑی بستی میں اس کے رنگ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ فطرت کا جوبن اور قدرت کی تمام تر رعنائی جیسے امڈ آتی ہے۔ قدرت اپنے جلو سے کیا خوش کن رنگ کائنات میں بکھیرتی ہے۔
جیسے تمام اوقات میں شام کا وقت الگ مقام رکھتا ہے ایسے ہی ماہ اکتوبر کا مرتبہ باقی مہینوں سے جدا ہے۔ سر شام افق کے بدلتے رنگ، کسی دریا کنارے ڈوبتا سورج، کسی دور افتادہ پہاڑ سے ڈھلتا سورج سب ایک عارضی لیکن پر تاثیر وصال کی کہانی کہتے محسوس ہوتے ہیں۔ دن کا شام سے ملنا روشنی کا اندھیرے میں مدغم ہونا۔ جیسے تبدیلی کے درمیان مختصر وقفہ۔ چہار سو پھیلا وہ سکون جو انسان کو فطرت سے ہم آغوش کرتا ہے، ہم آہنگ رکھتا ہے۔ ایک ایسی تبدیلی کا مظہر جس میں دکھ کے ساتھ خوشی بھی ہے۔ ایسی ہی تبدیلی کا عکاس اکتوبر ہے۔
کئی لوگوں کو بہار بھاتی ہے تو اکثریت کا من بھاتا موسم خزاں بھی ہے۔ کسی کو پسند نہ بھی ہو تب بھی وہ اس کے جادوئی اثر سے بچ نہیں سکتا۔ بدلتے موسم کی خنک شاموں میں بے نام اداسی گھیرے رہے تب بھی اس میں سرشاری کا پہلو ہوتا ہے۔ یہ مہینہ شاید من کو شانت رکھنے کے ساتھ روح کو شانتی بخشتا ہے۔ اکتوبر میں ہر سو غروب آفتاب کا سا پیارا رنگ بکھرا محسوس ہوتا ہے۔ رنگ بدلتے پتے، سبز سے زردی مائل، زرد سے نارنجی بھورے خاکستری ہوتے بے جان پتے درختوں سے جھڑتے مٹی میں مل جاتے ہیں۔ اپنے اشجار سے پیوستہ نہ رہ پانے والے پتے فطرت کے تغیر کے دائمی اصول کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فلسفہ حیات و ممات کی رمز لیے یہ اپنے مرکز سے جدا ہو کر بکھرتے پتے بدلتی رتوں میں نئی زندگی کی جوت جگا جاتے ہیں۔
اکتوبر کے شب و روز گرما کی رخصتی کی نوید لیے سرما کی آمد کے پیامبر ہوتے ہیں۔ ملا جلا موسم گراں نہیں گزرتا۔ دن کو نہ دھوپ میں چھاؤں کی خواہش ہوتی ہے نہ ہی چھاؤں گراں گزرتی ہے کہ معتدل موسم دھوپ کی حدت کم کر دیتا ہے۔ شام رات میں ڈھلتی ہے تو بدلی کی اوٹ سے جھانکتا چاند سرگوشیاں کرتا محسوس ہوتا ہے، سرگوشیاں بھی وہ جو دل کی لے کو الگ تان پر دھڑکا دیں۔ کبھی چاند پوری چھب دکھاتا آسمان کو روشن کرتا ہے، تو کبھی گہری رات کی سیاہی میں جگمگاتا سیاہی کو اور اجاگر کرتا ہے۔ کبھی ایسی رات کہ دن میں خوشنما لگتے درختوں پر کسی آسیب کا گمان ہو، دن میں پر دلفریب لگتی چوٹیاں رات کو پر ہیبت لگیں۔ غرض فطرت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا اظہار الگ انداز سے اکتوبر میں جلوہ گر ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
کیفیات کی تبدیلی کے لیے بھی یہ مہینہ کوئی جادوئی آہنگ رکھتا ہے۔ صرف باہر کی دنیا نہیں بدل رہی ہوتی بلکہ یہ اثر پذیری اندر بہت اندر تک روح کی گہرائیوں میں اترتی محسوس ہوتی، طمانیت بہم پہنچاتی ہے۔

