ریاست جموں وکشمیر میں حکومت کو درپیش خطرات
24 اکتوبر 2022 کو آزاد کشمیر میں آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے قیام کا 75 واں سال مکمل ہونے کا دن منایا جا رہا ہے۔ 75 سال قبل اسی دن تحریک آزادی کشمیر اور تمام ریاست جموں وکشمیر کی نمائندگی میں آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ 24 اکتوبر 47 ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی صدارت میں باقاعدہ حکومت ”آزاد جموں وکشمیر حکومت“ کے نام سے قائم کی گئی چنانچہ اس دن پلندری سے حسب ذیل اعلان جاری ہوا،
”ہنگامی حکومت نے جسے عوام نے کچھ ہفتے قبل ناقابل برداشت ڈدوگرہ مظالم کے خاتمہ اور عوام کے آزادانہ اقتدار کے حصول کے لئے بنایا تھا، اب ریاست کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور بقیہ حصے کو ڈوگرہ ظلم کے تسلط سے آزاد کرانے کی امید کیے ہوئے ہے۔ ان حالات کے پیش نظر حکومت کی تشکیل نو عمل میں لائی گئی ہے اور صدر دفاتر کو پلندری منتقل کر کے مسٹر ابراہیم بیرسٹر کو عارضی حکومت کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ نئی حکومت ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کی متحدہ آواز کی ترجمان ہے کہ عوام کو ظالم اور غاصب ڈوگرہ خاندان سے نجات دلائی جا سکے۔
آزادی کی یہ تحریک جس نے اس عبوری حکومت کو جنم دیا ہے 1929 ء سے جاری ہے اس تحریک میں جموں و کشمیر کے ہزاروں لوگوں نے جیل کاٹے اور جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ بہرحال عوام کی متفقہ آواز کی جیت ہوئی ہے اور حکمران کی متشدد فوج ہار گئی ہے۔ حکمران اپنے وزیراعظم کے ساتھ کشمیر سے بھاگ چلا ہے اور شاید عنقریب جموں سے بھی بھاگ نکلے گا۔ عارضی حکومت جو ریاست کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے ہی ہے ایک فرقہ وارانہ حکومت نہیں ہے۔
اس حکومت کی عارضی کابینہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی شامل ہوں گے۔ حکومت کا مقصد سردست ریاست میں نظم و نسق کی بحالی ہے تاکہ عوام اپنی آزادانہ رائے سے ایک جمہوری آئین ساز اسمبلی اور ایک نمائندہ حکومت چن لیں۔ عارضی حکومت اپنے ہمسایہ مملکت ہائے ہندوستان اور پاکستان کے لئے بہترین جذبات دوستی و خیر سگالی رکھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ ہر دو مملکتیں کشمیری عوام کی فطری آرزوئے آزادی کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کریں گی۔
عارضی حکومت ریاست کی جغرافیائی سالمیت اور سیاسی انفرادیت برقرار رکھنے کی متمنی ہے۔ پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کا سوال یہاں کے عوام کی آزادانہ رائے شماری سے طے کیا جائے گا۔ غیر ملکی مبصرین و مشاہدین کو دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ عوام کی آزادانہ رائے سے مسئلہ بخیر و خوبی طے ہو گیا“ ۔ (روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“ لاہور 27 اکتوبر 47ئ)
چند روز بعد صدر مقام پلندری سے تراڑ کھل منتقل کیا گیا 8۔ نومبر 47 ء کو جنرل طارق آزاد افواج کے سپہ سالار اعظم مقرر کیے گئے۔ آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل تھی۔ سردار محمد ابراہیم خان صدر، کرنل سید علی احمد شاہ نائب صدر، چوہدری عبداللہ خان بھلی وزیر، خواجہ غلام الدین وانی وزیر، سید نذیر حسین شاہ وزیر، خواجہ ثناء اللہ شمیم وزیر۔
یہ بغاوت ریاست جموں وکشمیر کی ڈوگرہ حکومت کے خلاف تھی جس میں آزاد حکومت کے قیام کے ساتھ ہی تمام ریاست کی آزادی کے لئے لڑائی بھی جاری تھی۔ 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر میں ہندوستانی فوج کے داخلے کے ساتھ ہی یہ لڑائی ہندوستان کے ساتھ براہ راست شروع ہو گئی۔ سرینگر کی دہلیز شالہ ٹینگ میں قبائلیوں اور ہندوستانی فوج کی فیصلہ کن لڑائی میں قبائلی پسپا ہونے لگے اور موجودہ کشمیر کے آزاد کردہ علاقوں اور ہندوستان کے کنٹرول میں موجود علاقوں میں براہ راست جنگ جنگ شروع ہو گئی جو یکم جنوری 1949 تک ہندوستان کی طرف سے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے پر، اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی پر منتج ہوئی۔ یہ جنگ بندی رائے شماری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے سلسلے کا پہلا اقدام تھا۔
جنگ بندی کے بعد جنگ بندی لائن کی تشکیل کے لئے 27 جولائی 1949 میں معاہدہ کراچی کے نام سے معاہدہ ہوا جس میں بھارت کی طرف سے لیفٹننٹ جنرل ایس ایم شری نگیش، پاکستان کی طرف سے ڈبلیو جے کیو تھرن اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان کی طرف سے ہمینڈو سامپر اور اہم ڈلووئی نے دستخط کیے ۔ کشمیر میں جنگ بندی لائن کے قیام کا یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے ملٹری مبصرین کی نگرانی کیا گیا اور اس جنگ بندی لائن کی نگرانی، خلاف ورزیوں کی رپورٹ کے لئے اقوام متحدہ کا ملٹری آبزرور گروپ قائم کیا گیا جس اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کی طرف سے کشمیر کی جنگ بندی لائن کی نگرانی کا عمل اب بھی جاری ہے۔ اس معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی نگرانی میں 830 کلومیٹر طویل سیز فائر لائن کی تشکیل عمل میں آئی جو جموں میں دریائے چناب کے بالکل مغرب میں ایک انتہائی جنوبی مقام سے شروع ہو کر گلگت بلتستان کے علاقے میں دریائے شیوک کے شمال میں تقریباً 19 کلومیٹر دور پوائنٹ NJ 9842 تک قائم کی گئی اور آگے کے علاقے کو انتہائی دشوار گزار ناممکن علاقہ تصور کرتے ہوئے بغیر تعین کے چھوڑ دیا گیا۔
یہ چین کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے شمال کی طرف، تقریباً 60۔ 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسی عدم تعین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان نے 1984 میں سیاچن گلیشئر پر قبضہ کر لیا۔ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر میں جنگ بندی اور جنگ بندی لائن کا تعین رائے شماری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور جمہوری حل کا پہلا اقدام تھا لیکن پھر وقت نے ثابت کیا کہ اسی تقسیم کو مسئلہ کشمیر کا حتمی حل قرار دینے کا رجحان تقویت پانے لگا۔ ریاست جموں وکشمیر کو غیر فطری طور پر تقسیم کرنے والی اس سیز فائر لائن کے قیام سے ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں، خاندانوں کو غیر انسانی طور پریک دوسرے سے دور کر دیا گیا۔
ریاست جموں وکشمیر میں سیز فائر لائن کی تشکیل کے کراچی معاہدے سے تقریباً تین ماہ پہلے 28 اپریل 1949 کو حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان معاہدہ کراچی کے نام سے ایک سمجھوتہ کیا گیا جس کے تحت آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سے دفاع، خارجہ و دیگر چند امور لیتے ہوئے اس کی آزاد حکومت کی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے، کئی اختیارات اور ذمہ داریوں سے محروم اور اسے ایک لوکل اتھارٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔
اس معاہدے پر پاکستان کی وزارت امور کشمیر کے وزیر بے محکمہ مشتاق احمد گورمانی، آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد ابراہیم خان اور مسلم کانفرنس کے سربراہ چودھری غلام عباس نے دستخط کیے ۔ معاہدے کا پہلا حصہ آزاد کشمیر کے علاقے میں سول ایڈمنسٹریشن کی ہیئت اور طریقہ کار کے بارے میں ہے جو آزاد کشمیر حکومت کے ذریعے چلایا جائے گا۔ معاہدے کا دوسرا حصہ مالیاتی انتظام سے متعلق ہے جو پاکستان ادا کرے گا۔ معاہدے کے تیسرے حصے میں حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور مسلم کانفرنس کی ذمہ داریوں کا تعین شامل ہے۔
اختیارات کی تقسیم کے تحت آٹھ اہم امور حکومت پاکستان کو سونپے گئے، جس میں دفاع، UNCIPسے بات چیت، خارجہ پالیسی، بیرون ملک پبلسٹی، مہاجرین کی مدد اور بحالی اور رائے شماری کے تمام انتظامات، پاکستان میں کشمیر سے متعلق تمام سرگرمیاں اور گلگت بلتستان کے تمام امور شامل ہیں۔ اس سے آزاد کشمیر حکومت کی تمام ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت ہونے کی حیثیت ختم ہو گئی اور آزاد کشمیر حکومت کو ایک لوکل اتھارٹی میں میں تبدیل کر دیا گیا۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان نے آزاد کشمیر آرمی سمیت آزاد کشمیر کا دفاع خود سنبھال لیا۔ یوں آزاد کشمیر حکومت کا کوئی عالمی کردار نہ رہا۔ معاہدے کے مطابق آزاد کشمیر حکومت کو چار امور دیے گئے جس میں آزاد کشمیر کی پالیسی، ایڈمنسٹریشن، مالیاتی ذرائع کی ترقی اور پاکستان کی کشمیر منسٹری کے وزیر بے محکمہ کو UNICPسے مذاکرات کے حوالے سے مشورہ دینا شامل ہے۔ مسلم کانفرنس کو آٹھ ذمہ داریاں دی گئیں جس میں سے چھ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور مہاجرین مقیم پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔
اس میں رائے شماری کے لئے سرگرمیاں، آزاد کشمیر حکومت کو عمومی رہنمائی دینا اور وزارت امور کشمیر کے وزیر بے محکمہ کو مشورے دینا ہے۔ اب پاکستان میں 1974 کے آئین کے تحت پارلیمانی نظام حکومت قائم ہے تاہم معاہدہ کراچی اب بھی موثر ہے کہ آزاد کشمیر میں چیف سیکرٹری کے تقرر کے وقت حکومت پاکستان کے کابینہ ڈویژن کے نوٹیفیکیشن میں بھی معاہدہ کراچی کی متعلقہ شقوں کا حوالہ شامل ہو تا ہے۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ معاہدہ کراچی کے تحت دفاع، خارجہ اور مسئلہ کشمیر سے متعلق دیگر امور پاکستان حکومت کے سپرد کر کے آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر ان امور سے لاتعلق نہیں ہو گئی بلکہ یہ آزاد کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان امور سے متعلق پاکستان حکومت سے قریبی رابطہ رکھے کہ پاکستان نے ان امور میں مسئلہ کشمیر سے متعلق کیا کیا ہے اور کیا کرنے کا ارادہ ہے۔ لیکن آزاد کشمیر میں مقامی سطح کے امور و مفادات تقویت حاصل کرتے چلے گئے اور آزاد کشمیر حکومت اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں ان امور سے بھی لاتعلق ہو گئی جو امور ان کی براہ راست ذمہ داری کے دائرے میں آتے ہیں، جس میں مشیر رائے شماری کا تقرر اور سیاسی ذمہ داریاں شامل ہیں۔
یوں آزاد کشمیر کا خطہ مسئلہ کشمیر، کشمیر کاز کے حوالے سے حاصل سٹیٹس سے تو بھر پور طور پر ”انجوائے“ کر رہا ہے لیکن اس سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے کو مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے ہے۔ مختصر یہ کہ اس رجحان سے آزاد کشمیر کا خطہ اپنی حیثیت اور مقام کو قائم رکھنے کے حوالے سے بھی کئی خطرات کا شکار ہے، جس کی مثال آزاد کشمیر کو پاکستان میں مدغم کرنے، صوبہ بنانے کے سلسلے میں مرحلہ وار اقدامات کے طور پر 15 ترمیم کی طرح کی مختلف کوششیں سامنے آتی جاتی ہیں۔


