گوجرانوالہ سے آبائی تعلق رکھنے والے رشی سوناک برطانیہ کے نئے وزیراعظم بننے کو تیار


پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پہلوانوں کے شہر سے مشہور گجرانوالہ سے نیروبی کینیا ہجرت کرنے والے رام داس سوناک نہیں جانتے تھے کہ ان کا پوتا ایک دن ہندوستان پر قابض برطانوی راج پر حکومت کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گا۔ رام داس سوناک کلرک بن کر نیروبی کینیا منتقل ہوئے تھے جہاں ان کی اہلیہ سوہاگ رانی سوناک جن کا تعلق دہلی سے تھا، نے رام داس سوناک کا بھرپور ساتھ دیا، 1966 میں رام داس سوہاگ کے بیٹے راگھوبیر سین بیری ٹیکس کینیا سے برطانیہ منتقل ہو گئے اور کلیکٹر کے طور پر انہوں نے انلینڈ ریونیو میں شاندار خدمات سرانجام دیں۔

1988 میں راگھوبیر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایم بی ای کا اعزاز دیا گیا۔ راگھوبیر کے بیٹے یشویر جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر جبکہ بہو اوشا فارماسسٹ تھی۔ یشویر کے گھر پیدا ہونے والے رشی سوناک نے سٹروڈ سکول رومسے ہیمپشائر اور ونچیسٹر کالج برطانیہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ سوناک نے ساؤتھ ایمپٹن میں ایک کری ہاؤس میں ایک ویٹر کے طور پر بھی کام کیا۔ سوناک نے فلاسفی، سیاسیات اور معاشیات میں لنکن کالج آکسفورڈ سے گریجویشن مکمل کی۔ انہوں نے برطانوی کنزرویٹیو پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں انٹرنشپ کی۔ 2006 میں سوناک نے سٹانفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

رشی سوناک انوسٹمنٹ بنک گولڈمین ساچز میں بطور انالسٹ 2001 سے 2004 تک کام کیا جبکہ مابعد انہوں نے ہیج فنڈ کے لئے چلڈرن انویسٹمنٹ فنڈ مینجمنٹ میں کام کیا اور 2006 میں فرم کے پارٹنر بن گئے تاہم 2009 میں انہوں نے اس فرم کو چھوڑ دیا اور کیلیفورنیا کی نئی ہیج فنڈ فرم تھیلیمے پارٹنرز کو جوائن کر لیا۔

رشی سوناک کو برطانوی کنزرویٹو پارٹی نے 2014 کے انتخابات کے لئے رچمونڈ سے اپنا امیدوار نامزد کیا۔ کنزرویٹو پارٹی کی محفوظ ترین نشست سمجھی جانے والی اس سیٹ پر اس سے قبل ولیم ہاگ امیدوار تھے جو پارٹی لیڈر، سیکرٹری خارجہ اور فرسٹ سیکرٹری آف سٹیٹ بھی رہ چکے تھے۔ رشی سوناک نے وینڈی مورٹن کو شکست دے کر برطانوی پارلیمان میں قدم رکھا اور پھر جلد ہی کنزرویٹیو پارٹی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ سوناک نے بلیک اینڈمینورٹی اتھنک ریسرچ یونٹ میں حصہ لیا اور BME کمیونٹیز پر اپنی ریسرچ رپورٹ پیش کی۔

سوناک نے 2016 میں برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے (بریگزٹ) کی حمایت کی۔ انہوں نے اپنے موقف کی تائید میں ایک رپورٹ بھی لکھی، سوناک 2017 کے انتخابات میں ماضی کے مقابلے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور برطانوی پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ برائے لوکل گورنمنٹ بنے۔ سوناک نے برطانوی وزیراعظم تھریسامے اور بورس جانسن کے تمام فیصلوں میں کھل کر ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے 2019 میں اپنے ساتھیوں اولیور ڈوڈین اور رابرٹ جنریک کے ساتھ مل کر دی ٹائمز اخبار میں بورس جانسن کی حمایت میں مضمون بھی لکھا۔

وزیراعظم بورسن جانسن نے 24 جولائی 2019 کو چیف سیکرٹری برائے خزانہ مقرر کیا، اگلے ہی دن وہ برطانیہ کی اہم ترین کونسل پریوی کونسل کے رکن بھی بن گئے۔ 2019 کے انتخابات میں رشی سوناک 47 فیصد ووٹ لے کر ماضی کے مقابلے زیادہ ووٹ لے کر دوبارہ منتخب ہو گئے۔ 2019 کے انتخابات میں بورسن جانسن کی کھل کر حمایت کرنے اور ان کی جیت میں اہم ترین کردار ادا کرنے پر سب تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ بورس جانسن رشی سوناک کو وزیرخزانہ لگائیں گے تاہم گارڈین نے دعوی کیا کہ پاکستانی نزاد ساجد جاوید ہی وزیرخزانہ رہیں گے جبکہ رشی سوناک ان کے ماتحت چیف سیکرٹری کے طور پر کام کریں گے۔ 13 فروری 2020 کو برطانوی کابینہ میں رد و بدل کی گئی اور رشی سوناک کو وزیرخزانہ بنا دیا گیا جبکہ ساجد جاوید وزیرخزانہ سے مستعفی ہو گئے۔

انکے وزیرخزانہ بننے کے ساتھ ہی دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا کے پھیلنے سے ہنگامی حالات نے برطانوی نظام کو بھی بری طرح سے متاثر کیا۔ رشی سوناک نے ہنگامی حالات میں برطانیہ کے عوام کے لئے بھرپور ریلیف دیا۔ اپنے پہلے بجٹ 11 مارچ 2020 میں رشی سوناک نے 30 ملین پاؤنڈز کا اضافی پیکج وبا کے دوران معاشی حالات کو قابو رکھنے اور عوام کو مشکل حالات سے بچانے کے لئے ریلیف پیکج کے لئے دیا جبکہ 17 مارچ کو سوناک نے 330 بلین پاؤنڈ کاروبار ایمرجنسی سپورٹ کے نام سے ریلیف پروگرام اور ملازمت پیشہ افراد کے لئے فرلوف سکیم متعارف کروائیں۔ کورونا وائرس جاب ریٹینشن سکیم جون 2020 تک چلائی گئی۔ دنیا بھر میں سب سے بہترین ریلیف پیکج برطانیہ میں عوام کو دیکھنے کو ملا جس کے پیچھے اصل سوچ و فکر رشی سوناک کی تھی۔

8 جولائی 2022 کو رشی سوناک برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے لئے میدان میں اترے تاکہ بورسن جانسن کے استعفیٰ کے بعد پارٹی کمان سنبھالی جا سکے۔ رشی سوناک نے ریڈی فار رشی ڈاٹ کام کے نام سے 6 جولائی 2021 کو ڈومین رجسٹر کروائی اور اپنے لئے لابنگ شروع کر دی۔ ان کا مقابلہ سیکرٹری خارجہ لز ٹروس سے تھا۔ پارٹی لیڈر شپ کے لئے لز ٹرس نے 137 ووٹ جبکہ رشی سوناک نے 113 ووٹ لئے اور یوں لز ٹرس وزیراعظم برطانیہ بن گئیں تاہم لس ٹرس نے 20 اکتوبر 2022 کو وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیدیا جس کے بعد رشی سوناک وزیراعظم برطانیہ کے مضبوط ترین امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔

انہیں کابینہ و پارلیمان کے اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ رشی سوناک کا مقابلہ ان کی جماعت کے پینی مورڈونٹ کے ساتھ ہے تاہم رشی سوناک کو پارٹی میں زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ بادی النظر میں یہی لگ رہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں گجرانوالہ سے ہجرت کر کے کینیاء جانے والے رام داس سوناک کا پوتا برطانیہ کا نیا حکمران ہو کر ایک تاریخ رقم کر دے گا۔

رشی سوناک جہاں برطانوی سیاست میں ایک سپر سٹار کے طور پر سامنے آئے ہیں وہیں وہ بیک وقت پاکستان، انڈیا اور افریقی بیک گراؤنڈ رکھنے کی وجہ سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک صدی قبل جو خاندان برٹش انڈیا میں تاج برطانیہ کا غلام سمجھا جاتا تھا آج اس خاندان کا نوجوان برطانوی راج کا حاکم بننے جا رہا ہے۔ بے شک قدرت کا گول چکر کسی مغل بادشاہ کے نواسوں سے کلکتہ میں پکوڑے بیچنے پر مجبور کر دیتا ہے، کسی چائے بیچنے والے کو ہندوستان کا حاکم بنا دیتا ہے، کسی افریقہ بھیجے گئے ملازم کی نسل کو حاکموں پر حکومت دے کر بے بس انسانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ طاقت اور حکومت ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی۔ اس لئے اگر آپ کو قدرت نے طاقت اور حکومت عطا کر دی ہے تو ایسے کام کریں جس سے آپ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جائیں۔

Facebook Comments HS