مجاہد توشہ خانہ رانا ابرار خالد کون ہیں؟


رانا ابرار خالد ہمارے معاشرے کا ایک معمولی صحافی مگر ایک جرات مند اور نڈر انسان ہے یا یوں کہہ لیں کہ مزاحمت کا استعارہ بن چکا ہے۔ جس نے ایک ایسے سرٹیفائیڈ صادق و امین کے چہرے سے نوچ کر نقاب اتارنے کی کوشش کی ہے جو بطور وزیراعظم اپنی تقاریر میں حضرت عمر کو بطور ماڈل کے پیش کیا کرتا تھا کہ

”ایک بار لمبا کرتا پہن کر آئے تو ایک عام سے بندے نے امیرالمومنین سے حساب مانگنے کی جسارت کر ڈالی جس پر اس کی تشفی کروائی گئی تھی“

تو آج کے حکمرانوں کو بھی اسی اصول کے تحت زندگی بسر کرنی چاہیے اور حکمران کو ہمیشہ عوام کی عدالت میں جواب دہ رہنا چاہیے۔ مگر کون جانے کہ اس مملکت خداداد میں مذہبی تعلیمات کو صرف شو پیس کے طور پر پیش کر کے ہر کوئی اپنے مفادات یا ٹارگٹ کو حاصل کر کے چلتا بنتا ہے اور عوام جذباتی بھول بھلیوں میں الجھے رہتے ہیں اور اب تو اتنا الجھ چکے ہیں کہ سجھائی کی کوئی راہ دکھائی ہی نہیں دے رہی۔ بھولے بھالے عوام کو ٹوپی پہنانے والے طاقتوروں کا گروہ جو شروع دن سے اپنے مفادات کو حاصل کرتا آ رہا ہے وہ انتہائی شاطر ہو چکا ہے اور انہوں نے وقت اور موقع کے حساب سے عوام کو مستقل طور پر الجھائے رکھنے کے لیے شعبدہ بازی کی چالبازیاں یا کرتب بدل لئے ہیں اور کچھ مختلف طرح کے جھنجھنے یا نعرے مارکیٹ میں لانچ کر دیے ہیں۔

خیر بڑے بڑے پارسائی کے دعوے کرنے والا عمران خان جسے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے پارساء پینٹ کیا گیا تھا اور اس کے پارسائی کے بت کو چار چاند لگانے یا مزید نکھار لانے کے لیے طارق جمیل کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے مذہبی و روحانی وارنش کا فریضہ سرانجام دیا تاکہ سند رہے مگر یاد رہے کہ فشل یا ڈیکوریشن عارضی ہوتی ہے مستقل نہیں اور مخصوص دورانئے کے بعد بالآخر اصلیت سامنے آ جاتی ہے۔ بالکل اسی اداکار کی طرح جس کا کام مختلف پرسونا ماسک پہن کر اسٹیج پر پرفارم کرنا ہوتا ہے اور پرفارمنگ کے بعد وہ ایک نارمل شخص بن جاتا ہے، رانا ابرار خالد کا یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے ایکٹر کو ننگا کیا ہے جس نے ملک عزیز میں ایک بندوبست کے زیر تحت ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا تھا اور خود کی ذات کے متعلق ایک ایسا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ ہر کوئی اس سے حساب مانگ سکتا ہے اور رانا ابرار نے توشہ خانے کا حساب مانگ کر اس مصنوعی پتلے کی ہوا نکال دی اور با ثبوت اس سراپا دیانت کو خائن یا چور ثابت کر ڈالا جس پر الیکشن کمیشن نے بھی گزشتہ دنوں اپنی مہر تصدیق ثبت کر کے موصوف کو بددیانت ڈکلیئر کر دیا۔

راجن پور کے علاقہ سے تعلق رکھنے والا انتہائی غریب گھرانے کا یہ چشم و چراغ جو آج کے اس چمک دھمک والے دور میں بھی ایک معمولی سی بائیک پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور توشہ خانہ کی کامیاب سٹوری بریک کرنے پر ”ویری امپورٹنٹ پرسن“ بن چکا ہے۔ اگر آپ اس کی گفتگو سنیں یا چہرے کے خد و خال ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو واضح نظر آئے گا کہ کیسے حالات اور وسائل کا جبر اس کے چہرے پر عیاں ہوتا ہے اور غربت یا وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم ان کے لفظوں میں سے جھانکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر وسائل سے محروم اس بندے کا پہاڑ جتنا عزم یا حوصلہ ملاحظہ فرمائیے کہ ریاست مدینہ کے دعویدار سابق وزیراعظم کے توشہ خانہ اسکینڈل کی تفتیش کے پیچھے 23 نومبر 2020 سے لمحہ موجود تک پڑا ہوا ہے اور الیکشن کمیشن کے بددیانت ڈیکلیئر کرنے کے باوجود بھی وہ مطمئن نہیں ہو پا رہا اور اس کا دعویٰ ہے کہ موجودہ فیصلہ تو ٹپ آف دی آئس برگ ہے مکمل تفصیلات تو انتہائی خطرناک ہیں اور ان کا سامنے آنا بہت ضروری ہے تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ ان کے ساتھ کتنا خطرناک کھیل کھیلا گیا ہے اور روحانی گینگ نے کس قدر بے رحمی کے ساتھ روحانی موکلات کے ذریعے سے کس طرح اس قوم کو چونا لگایا ہے۔

کس طرح سے ہیرے و جواہرات کے ہار اور انگوٹھیوں کے چڑھاوے چڑھائے جاتے رہے اور روحانی استخاروں کے ذریعے اہم ترین آسامیوں پر تعیناتیاں کی جاتی رہیں اور ستاروں کی چال کا مشاہدہ کر کے اہم ترین ملکی فیصلے کیے گئے؟ توشہ خانہ اسکینڈل بنیادی طور پر کیا ہے؟ رانا ابرار خالد کا کہنا ہے کہ سرٹیفائیڈ صادق و امین نے توشہ خانے کو ایک منفرد اسٹائل سے لوٹا ہے جس کی مثال یا نظیر ماضی میں بھی نہیں ملتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے توشہ خانے سے غیر ملکی تحائف ریٹین کیے تھے پرچیز یا مارکیٹ میں فروخت نہیں کیے تھے جبکہ رجسٹرڈ دیانتدار نے ان تحائف کو مارکیٹ میں فروخت کر کے منافع اپنے جیب میں ڈالا اور توشہ خانے میں ایک معمولی رقم جمع کروائی۔

اور مزے کی بات یہ ہے کہ سرکاری خزانے میں ادائیگی بھی ان کے اپنے اکاؤنٹ سے نہیں ہوئی مطلب بزنس سینس کو بروئے کار لاتے ہوئے تحائف کی انڈر پرائسنگ کا بندوبست کر کے مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچ دیا گیا دوسرے لفظوں میں کہیں تو انہوں نے ایک طرح سے کاروبار کیا۔ لفظ ریٹین کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو جو تحائف ملتے ہیں وہ توشہ خانے میں جمع کروا دیے جاتے ہیں اور اگر کوئی پرائم منسٹر یاد گار کے طور پر کوئی تحفہ رکھنا چاہے تو وہ توشہ خانے کے اصول و ضوابط کے مطابق اس کی آدھی قیمت ادا کر کے رکھ لیتا ہے جسے ریٹین پراسس کہتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر ”دیانت دار“ سرکار نے تحائف ریٹین کرنے کی بجائے آداب تحائف کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے مارکیٹ میں بیچ کر پیسے اپنی جیب میں ڈال لئے۔

حساب مانگنے پر فرمانے لگے کہ ”میرے تحائف میری مرضی“ مجھ سے سوال کرنے والا کون ہوتا ہے اور سوال کرنے والے معمولی سے صحافی کو سبق سکھانے کی آخری حد تک گئے اور نشان عبرت بنانے کی کوئی کسر نہ چھوڑی مگر سلام ہے رانا ابرار خالد کے عزم و حوصلے پر جنہوں نے ہمارے سماج کے درویشوں کی عیاریوں سے پردہ اٹھایا اور سماج کو جگانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ جو لوگ دنیا سے بچ کر چلنے کا اکثر و بیشتر ڈھول پیٹتے رہنے میں مصروف پائے جاتے ہیں دراصل وہی دنیا کے دھندوں میں لتھڑے ہوتے ہیں اور روحانیت و مذہب کے نام پر کاروبار چلانا خوب جانتے ہیں اور جس کے کپڑے جتنے پھٹے یا سلوٹ نما ہوتے ہیں ان کی جیبیں اتنی ہی کشادہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کرنے کی کوشش کی کہ معمولی سطح کا آ دمی بھی آ داب تحائف کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں فروخت کرنے سے اجتناب کرتا ہے مگر تاریخ یاد رکھے گی کہ ملکی تاریخ میں تحائف فروخت کر کے کاروبار کرنے والا وزیراعظم بھی آیا تھا

Facebook Comments HS