مطلب کابینہ کے ارکان واقعی بے بس اور بے اختیار ہوتے ہیں

اس سے پہلے تین وزراء آصف خواجہ، شیری رحمان اور ریاض پیر زادہ اسمبلی کے فلور پر سوات بدا منی پر کھل کر بولیں لیکن ان کے اس بولنے میں ان کی بے بسی بھی عیاں تھی اور وہ بھی عوام کی طرح کسی سے مخاطب تھے، کسی کو سنا رہے تھے کسی سے التجا کر رہے تھے اور اپنی بے بسی پر اسمبلی کے فلور پر آہ بکا کر رہے تھے عوام کے مقدمے کے فریادی تھے لیکن جن سے وہ مخاطب تھے صرف جناب سپیکر کہہ کر جناب سپیکر ہی نظر آ رہے تھے۔ جو ان تقریروں کے مندرجات یا بین التقریر موجود تھے وہ شاید سلیمانی ٹوپی پہنے ہوئے تھے جو نظر ہی نہیں آ رہے تھے لیکن پھر بھی وزراء صاحبان مطمئن تھے کہ ان کی یہ فریاد یہ آہ و بکا ان تک ضرور پہنچتی ہوگی ورنہ بولنے کی ضرورت ہے کیا تھی۔
بالکل اسی طرح ساڑھے تین پونے چار سال عمران خان بھی بڑے سینہ تان کر بولتے تھے کہ نہیں چھوڑوں گا، رلاؤں گا، تلاشی دو، ان چوروں اور ان لٹیروں سے پائی پائی کا حساب لوں گا، این آر او نہیں دوں گا، دو ہزار اٹھائیس تک وزیر اعظم رہوں گا لیکن جب وقت اور ضرورت کے تقاضے بدلے تو پتہ چلا کہ موصوف کے ساتھ سرے سے اختیارات ہی نہیں تھے اور وہ ایک تگڑے اور ہٹے کٹے منہ زور بیل کی طرح جس بندے ہوئے ”موگی“ کے زور پر اچھلتے تھے اب اس پر کسی اور کو باندھا جا رہا ہے اب وہ اس ”موگی“ کے زور سے اچھلنے کا دعویدار اور حقدار ہے جب تک کوئی اور اس منصب تذلیلہ پر براجمان نہیں ہو پاتے۔
ہم نے تو اب تک یہ سنا تھا کہ جمہوریت میں طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتے ہیں لیکن یہاں تو سرے سے چشمہ ہی عوام کے سوتوں سے خالی ہے تو طاقت کہاں سے آئے گی، اور چشمے کے متولی یا قابضین چشمے کو ابھرنے ہی نہیں دیتے کہ وہ اپنے حدود سے چھلک کر باہر آئے اور ان سب کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے بلکہ ان کے حدود اور قیود کو اپنے منشا اور مقاصد کے مطابق رکھتے ہیں تاکہ ان کے قابو اور ان کے دسترس میں رہے اور جب چاہے اور جس طرح چاہے اس سرچشمے کے سوتوں کو اردگرد کے جھاڑ جھنکار کے خلاف سپل وے سمجھ کر ان کو بہا کر لے جانے کے لئے ان پر چھوڑا جائے اور پھر ان ہی کے نام پر اندرون اور بیرون دنیا سے مدد کے لئے جھولیاں بھی پھیلائی جائے۔
عمران خان کو تو چلیں دوش نہیں دیتے ان کی تو پہلی باری تھی مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی تو دو دو تین تین باریاں ہو چکی ہیں اب بھی پرانے سراخوں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جس سے پہلے بھی ڈسے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ مؤمن نہیں یہ تقوی دار اور ایماندار نہیں یہ کسی خاص مقصد اور کسی خاص ایجنڈے کی تکمیل کے لئے آتے ہیں لیکن اکثر بیچ منجدھار میں ان کی اقتدار کی کشتی ڈوب جاتی ہے اور پھر سے ان ناخداؤں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔
لوگ یا صاحب اقتدار، اقتدار اس لئے مانگتے ہیں تاکہ ان کے پاس اختیار ہو تاکہ ان کے پاس طاقت ہو تاکہ ان کے پاس لاٹھی ہو لیکن یہاں تو قصہ الٹ ہے جانتے بوجھتے کہ ان کے پاس مکھی مارنے کا اختیار نہیں لیکن شروع دن سے عوام کو خوش فہمی یا غلط فہمی میں یا پھر اپنے مخالفین کو ڈرانے کے لئے ایک پیج پر ہونے کی رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں لیکن یہ پیچ اتنا باریک ہوتا ہے کہ اس پر لکھا ہو بیان دوسری جانب بھی لکھا ہوا نظر آنے کی وجہ سے پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔
اور جب حقیقت میں ایک پیج پر نہ ہونے کی تحریر سامنے آجاتی ہے تو سب کچھ لکھا اور لکھوایا ہوا نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھنے میں بھی آ جاتا ہے لیکن پھر وقت گزر چکا ہوا ہوتا ہے۔ اور یہ اس دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ گیا ہوا وقت، کمان سے نکلا ہو تیر، منہ سے تھوکا ہوا لعاب اور زبان سے نکلا ہوا لفظ پھر واپس کبھی نہیں آتا۔

