ارشد شریف: کینیا کا سپیشل پولیس یونٹ ’جی ایس یو‘ کیا ہے اور اتنا متنازع کیوں ہے؟


کینیا میں حکام کے مطابق پاکستانی صحافی ارشد شریف کی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ارشد شریف اتوار کی شب کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے اور پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔

کینیا پولیس کی جانب سے اس واقعے کی جو ابتدائی رپورٹ مگدائی پولیس سٹیشن میں جمع کروائی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے ’پولیس کو ابتدائی طور پر معلوم ہوا کہ فائرنگ کے ایک واقعے میں کینیا کی پولیس سروس کے دستے سپیشل سروس یونٹ (جی ایس یو) کے افسران ملوث تھے اور اس کے نتیجے میں لگ بھگ 50 سالہ پاکستانی شہری ارشد شریف فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

یاد رہے کہ کینیا میں پولیس اور اس کے ماتحت بننے والے خصوصی پولیس یونٹس پر ماورائے عدالت قتل اور ملزمان کو لاپتہ کرنے جیسے الزامات لگتے رہتے ہیں۔

اس رپورٹ میں نیروبی کے سینیئر رپورٹر ایمونوئیل اگنزا  بتا رہے ہیں کہ ارشد شریف کے واقعے میں ملوث سپیشل پولیس یونٹ ’جی ایس یو‘ کیا اور کیسے کام کرتا ہے اور کینیا میں پولیس اور پولیس کے خصوصی یونٹس کو عمومی طور پر کس نوعیت کے الزامات کا سامنا رہتا ہے۔

جی ایس یو

سپیشل پولیس یونٹ ’جی ایس یو‘ کب بنا؟

’جی ایس یو‘ نیشنل پولیس سروس کے محکمہ کریمینل انویسٹیگیشن کے ماتحت ایک ذیلی یونٹ ہے۔ ’جی ایس یو ‘کو سنہ 1999 میں تشکیل دیا گیا تھا، ابتدائی طور پر اس کا نام ’سپیشل کرائم پریویشن یونٹ‘ تھا تاہم سنہ 2019 میں اس کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے اس کو موجودہ نام یعنی سپیشل سروس یونٹ (جی ایس یو) دیا گیا۔

اس یونٹ کو قائم کرنے کا مقصد کینیا میں غیر معمولی اور سنگین جرائم کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا سدباب کرنا تھا۔

یہ محکمہ کریمینل انویسٹیگیشن کے ڈائریکٹر آپریشنز کی زیر نگرانی کام کرتا ہے اور کئی مواقع پر اس یونٹ سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو ملک کے ان علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے جہاں جرائم میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہو۔

یہ یونٹ آتشیں اسلحے/گولہ بارود کی سمگلنگ، منشیات کی سمگلنگ، ایسی ڈکیتیاں جن میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جاتا ہے، ٹرانزٹ کے دوران سامان کی چوری کے معاملات، غیر قانونی انسانی سمگلنگ اور اس نوعیت کے دیگر جرائم کی روک تھام میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ تفتیش یا جرائم کی سرکوبی کی غرض سے محکمہ کریمینل انویسٹیگیشن کے ڈائریکٹر آپریشنز جہاں ضروری سمجھتے ہیں وہاں اس یونٹ کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

اس یونٹ کے ممبران کی تعداد 25 سے 30 ہے جو زیادہ تر ڈائریکٹوریٹ آف کریمینل انویسٹیگیشن کے نیروبی میں واقع ہیڈکوارٹر سے آپریٹ کرتے ہیں۔

جی ایس یو

اس یونٹ کی وجہ شہرت کیا ہے اور اس پر کیا الزامات عائد ہوتے رہے ہیں؟

ماضی میں اس یونٹ نے قتل کے ہائی پروفائل پیچیدہ کیسز کو حل کرنے اور اغوا اور بھتہ خوری میں ملوث گروہوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں تاہم گذشتہ چند برسوں میں اس یونٹ پر شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے، لاپتہ کرنے اور مشتبہ ملزمان کے ماورائے عدالت قتل جیسے الزامات بھی لگے ہیں جس سے اس کی شہرت داغدار ہوئی ہے۔

ذیل میں ایسے چند کیسز کی تفصیل فراہم کی جا رہی ہے جن میں کینیا کے متعدد باشندوں کی غیرواضح حالات میں ہلاکت ہوئی۔ کینیا کی پولیس اور اس کے تحت کام کرنے والے خصوصی یونٹس کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تاہم اس ضمن میں کبھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

رواں برس جولائی 2022 میں کینیا کی ایک عدالت نے تین پولیس اہلکاروں اور ایک سویلین شخص کو حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے معروف وکیل ویلی کیمانی اور دو دیگر افراد کو جون 2016 میں قتل کرنے کا مجرم ٹھہرایا۔ ویلی کیمانی، ان کے ایک کلائنٹ اور ٹیکسی ڈرائیور کی لاشیں نیروبی کے مضافات سے گزرنے والے دریا میں پھینکی گئی تھیں۔

مئی 2016 میں کینیا سے تعلق رکھنے والی معروف کاروباری شخصیت جیکب جوما کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر جا رہے تھے۔ انھوں نے حکومت کے خلاف متعدد ناکام کاروباری معاہدوں میں ہائی پروفائل کیسز دائر کر رکھے تھے۔

اسی طرح فروری 2015 میں کینیا کے معروف ممبر پارلیمان اور ٹریڈ یونینسٹ جارج موچری کو ملک کے دارالحکومت نیروبی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ علی الصبح پیش آنے والے اس واقعے میں ممبر پارلیمان کے دو محافظ اور ڈرائیور بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اپریل 2014 میں کینیا سے تعلق رکھنے والے معروف مگر سخت گیر مسلمان عالم دین ابوبکر شریف احمد کو مومباسہ کے مضافات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد اُن کے پیروکاروں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ متازع عالم کے قتل میں پولیس ملوث ہے۔

اگست 2012 میں ایک اور متنازع عالم دین عبدروجو محمد کو مومباسہ ہی میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔ اس متنازع شخصیت پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے صومالیہ میں ’الشباب‘ نامی عسکریت پسند گروہ کو سپورٹ کرنے کی پاداش میں پابندیاں عائد تھیں۔

مارچ 2009 میں انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن آسکر کماو کنگرا کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ کار میں اپنے گھر جا رہے تھے۔ آسکر نے کینیا کی پولیس کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کے معاملات کی تفتیش کی تھی۔

جی ایس یو

جعلی انکاؤنٹرز اور عدالتی کارروائیاں

اگرچہ ماضی میں متعدد پولیس اہلکاروں کو ماورائے عدالت قتل جیسے الزامات کے تحت گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیا گیا تاہم ملزم اہلکاروں کو سزائیں ملنے کی شرح انتہائی کم رہی۔

حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے معروف وکیل ویلی کیمانی کے قتل کے الزام میں سپیشل سروسز یونٹ کے پولیس افسران کو عدالت میں پیش کیا گیا اورعدالت نے انھیں قتل کا مجرم قرار دیا تاہم کینیا کے عدالتی ضوابط کے مطابق ان پولیس اہلکاروں کو سزائیں سنائے جانے کی کارروائی ابھی باقی ہے۔ اسی لیے سپیشل سروسز یونٹ کے چار اہلکاروں کا رواں ہفتے ہونے والا ٹرائل اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ان اہلکاروں پر کینیا بھر میں قتل، اغوا اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ افسران فی الحال زیر حراست ہیں۔

یہ اہلکار پولیس کے اسی ایلیٹ سکواڈ کے رکن تھے جسے گذشتہ ہفتے کینیا کے صدر ولیم روٹو نے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کے مبینہ شکار بننے والوں میں وہ دو انڈین شہری بھی تھے جو جولائی سے لاپتہ تھے۔ دونوں انڈین شہریوں کی مبینہ باقیات گذشتہ ہفتے سینٹرل کینیا کے ایک جنگل سے برآمد ہوئی تھیں۔

ہیومن رائٹس ادارے کا کہنا ہے کہ آزادانہ تحقیقات میں 600 سے زیادہ ہلاکتوں کو پولیس سروس کے اندر موجود خصوصی یونٹس سے جوڑا گیا ہے۔ چند پولیس افسران پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے پیسوں کے عوض ایسی خدمات سرانجام دیں۔

ارشد شریف

ارشد شریف جس علاقے میں مارے گئے کیا وہ محفوظ علاقہ تصور ہوتا ہے؟

جس علاقے میں ارشد شریف کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا اسے نیروبی میں ناصرف دن بلکہ رات کے اوقات میں بھی سفر کے لیے قدرے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ جس رات یہ واقعہ پیش آیا تھا اس رات وہ ایک کار چور کا تعاقب کر رہے تھے اور اسی لیے سٹرک پر رکاوٹ لگائی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق اس رات چوری شدہ کار کی اطلاع پر سٹرک پر رکاوٹ لگائی گئی تھی اور ارشد شریف جس گاڑی میں سوار تھے وہ بدقسمتی سے اسی پولیس رکاوٹ پر پہنچی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

’پولیس پر الزامات نئی بات نہیں‘

نیروبی میں بی بی سی کی نامہ نگار بیورلی اوچینگ کا کہنا ہے کہ کینیا میں پولیس کی جانب سے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے سماجی کارکنان تشویش ظاہر کرتے ہیں۔

’ماضی کے کئی واقعات میں پولیس پر ماورائے عدالت اقدامات ثابت ہو چکے ہیں اور پولیس کے نظام میں کئی بار اصلاحات کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اسی تناظر میں پولیس اوورسائٹ اتھارٹی کا قیام ہوا جو پولیس کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرتی ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ پولیس کو سزاؤں سے استثنیٰ حاصل ہے اور وہ عموماً صحافیوں، وکلا اور سماجی کارکنان کو نشانہ بناتے ہیں جو شہرت یافتہ ہوں۔‘

بیورلی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس میں نیم فوجی ڈیپارٹمنٹ جی ایس یو کے افسران اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں اور ان پر ماضی میں تشدد کے الزامات لگ چکے ہیں۔

’انھیں اکثر پولیس کے ساتھ تعینات کیا جاتا ہے اور یہ شہریوں پر تشدد کی وجہ سے بدنام ہیں۔ اس کیس میں بھی یہی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا وہ ارشد شریف کے قتل کے ذمہ دار ہیں تاہم یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ اس کیس میں انھی کا نام سامنے آیا۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp