اندھا اور ننگا
دنیا بھر میں نافذ قانون کو اندھا ہی کہا جاتا ہے اور کئی ممالک میں ایسے مجسمے بھی نصب ہیں جن کی انکھوں پر سیاہ پٹی بندھی ہے مجسمے کی انکھوں پر سیاہ بٹی باندھنے کا مقصد یہ ہوتا ہی کہ قانون اندھا ہے اور یہ کسی تمیز کے بغیر فیصلہ کرتا ہے اس کی نظر میں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں سب برابر ہیں قانون کسی کی حیثیت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا کیونکہ یہ کسی کو دیکھ نہیں سکتا اس کی نظر جرم اور اس پر نافذ ہونے والی قانونی شقوں پر ہوتی ہے یہ قانون کی کتابوں میں درج قانونی تشریحات تو پڑھ سکتا ہے لیکن مجرم کی حیثیت اس سے اوجھل رہتی ہے اسی وجہ سے جن ممالک میں قانون اسی نظریہ پر زندہ ہے وہاں پر قانون کی حکمرانی بھی ہے انصاف کا بول بالا بھی ہے عوام کسی خوف میں مبتلا ہوئے بغیر زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یہ تو دنیا کے ان ممالک کی بات ہے جہاں قانون اندھا ہے اور مساوات قائم ہے ہمارے وطن عزیز پاکستان مین بھی قانون اندھا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کے نافذ قانون سے کئی گنا زیادہ اندھا ہے ہمارے ملک کے اندھے قانون کی کئی ایسی مثالیں ہیں کہ دوسرے ممالک کے اندھے قانون شرمندہ شرمندہ سے لگتے ہیں ہماری طرح اکثریت مجسمے کی انکھوں لگی پٹی کو کچھ اور نظر سے ہی دیکھتی رہی اور اس پر رائے بھی مختلف رکھی اور جب بھی کسی سے زیادتی ہوتی تو یہ ہی سوچتے کہ قانون تو اندھا ہے وہ چھوٹی ججی یا عالیہ اور عظمی کا کورٹ روم ہو ہر جگہ پر قانون اندھا ہے جس کہ باعث جرم کرنے والا آزاد اور متاثر ہونے والا مشکلات کا شکار ہے ہمارے ہاں قانون اندھا ہے کے مطالب دنیا سے الگ ہیں ہمارے قانون کی خاصیت ہے کہ اس کا جب دل چاہتا ہے اندھا ہو جاتا ہے اور جب دل چاہتا ہے وہ ایک آنکھ سے اور جب دل میں تمنا روشن ہو تو دونوں آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے اور کئی بار تو اس کا اندھا پن ایسا دور ہوتا ہے یہ چار آنکھوں سے دیکھ کر شکایت کرنے والے کے چاروں طبق بھی روشن کر دیتا ہے۔
پاکستان میں قانون کے اندھا ہونے کی مثالیں تاریخ کا حصہ ہیں سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گولی ماری گئی تو قانون حرکت میں آیا اور گولی مارنے والے کو موقع پر ہی ختم کر دیا بات یہاں پر ہی نہیں رکی اس کیس سے جڑے ہر شخص کو دنیا سے رخصت کر دیا گیا یہاں تک تو ہمارا قانون کھلی انکھوں کے ساتھ جاگ رہا تھا اور جب تمام شواہد ختم ہو گے تو یہی قانون اندھا ہو گیا لیکن اصل میں یہ اندھا نہیں ننگا ہو گیا تھا اگر صرف اندھا ہوتا تو لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کا سراغ لگایا جا سکتا تھا لیکن جب یہ ننگا ہو گیا تو متاثرہ فریق نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس اندھے اور ننگے قانون سے بعد میں آنے والے حکمران بھی متاثر ہوئے وہ اس طرح کی جب تک یہ حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں تو ہمارا قانون اندھا ہو جاتا ہے اور جیسے ہی یہ حکمران ماضی کا حصہ بنتے ہیں یہ سابق حکمرانوں کو ننگا ہو کر دیکھا دیتا ہے اس کے اندھے اور ننگے ہونے کی ترجیحات وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں ہمارا ملکی قانون اپنا مفاد دیکھ کر اندھا اور ننگا ہوتا ہے جہاں حکمرانوں نے اسے اپنے مفاد میں استعمال کرنا ہوتا ہے تو یہ آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر جی حضوری کرتا ہے اور جب ان ہی حکومت کرنے والوں پر برا وقت اتا ہے تو یہ ننگا ہو کر دیکھا دیتا ہے۔
پاکستانی قانون کے اندھے اور ننگے ہونے کا زاویہ اشرافیہ کے لئی کچھ اور پسے ہوئے طبقے کے لیے کچھ اور ہے اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز میں کئی بار احتساب کا نعرہ لگا ادارے بنے اور عوام کو یہی باور کروایا گیا کہ سب کا یکساں احتساب ہو گا پھر کچھ ایسا ہوا کہ سب کچھ ہوا ہو گیا اور احتساب کرنے والے ہی ننگے ہو گئے با اثر چلتے بنے اور غریب ہی اندھے قانون کا شکار بنے۔ موجودہ دور میں اندھے قانون کا شکار صحافی ارشد شریف جو قانون کے اندھے پن کے باعث بیرون ملک منتقل ہوئے وہاں ہمارے قانون کے ننگے سائے ان کے گرد منڈلاتے انہوں نے وہاں سے بھی ہجرت کی لیکن جہاں پہنچے وہاں پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قانون کے اندھے ہونے کے ساتھ وہ گولی بھی اندھی تھی جو ان کو جا لگی اب یہ گولی پاکستان سے چلی تھی یا مقامی تھی اس پر تحقیقات ہوں گی تو حقائق سامنے آئیں گے ہمیں نتیجے کا انتظار کرنا چاہیے ارشد شریف اندھے اور ننگے قانون سے بچ کر پاکستان سے نکلے تھے وہ ایسا نہ کرتے تو یہاں کے اندھے قانون نے ان کو ننگا کرنے کا پورا بندوبست کر رکھا تھا جیسے دوسرے کئی لوگوں کو ننگا کر کے ہمارے قانون نے تسکین حاصل کی۔
آج کے اس جدید دور میں یہ ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے کہ مخالفانہ آواز کو ختم کرنے کے لیے بولنے والے کو اندھے قانون کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر اندھا قانون ننگا ہو کر گرفت میں آنے والے کو ننگا کر کے ننگا ننگا کھیلتا ہے پاکستان میں اندھے قانون کے ہاتھوں ننگا کرنے کی تاریخ میں شاہی قلعہ لاہور کی در و دیوار سے شروع ہوتی ہے آج بھی شاہی قلعہ کی فضا گواہی دینے کو تیار ہے جہاں سیاسی مخالفین کو ننگا کر کے برف کے بلاکوں پر لٹایا جاتا تھا اور حکمران ان کی درد بھری آوازیں سن کر محظوظ ہوتے تھے پھر وقت نے کروٹ لی تو اسی حکمران کو جب سیاہ پٹی باندھ کر اندھے قانون کے حوالے کیا گیا تو آواز بھی نہ نکلی بعد میں آنے والے حکمرانوں نے صرف آنکھوں پر ہی نہیں قانون کو مکمل طور پر ڈھانپ دیا اور اس پر اپنی مرضی کی مہر ثبت کرتے رہے لوگوں کو ننگا کر کے کوڑے مارنے گھروں سے اٹھانے اور راہ چلتے گولیاں مارنے جیسے واقعات رونما ہونے لگے لوگ مرتے رہے لیکن قانون اندھا ہی رہا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اور سب پر یکساں عملدرآمد کروانے والے نابینا ہو چکے ہیں جس کے باعث معاشرے میں انارکی پھیل رہی ہے ماضی اور حال کے حکمران اداروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کر کے ننگے ہوئے اور خدشہ ہے کہ حکمرانوں نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو معاشی طور پر پسے ہوئے عوام ننگے ہو کر ان نابینا حکمرانوں کے سامنے آ جایں گے تو سارا نظام ننگا ہو جائے اور جیسے لال ہے لال کا خاکہ ہر زبان پر تھا اسی طرح نعرہ لگے گا ننگا ہے بھئی ننگا ہے۔ سب کے لیے ننگا ہے


