فیٹف: ہماری زندگی کے سارے اجزا پر ہیں ہاتھ ان کے


منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے نکال دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایف اے ٹی ایف کے 20 اور 21 اکتوبر کو پیرس میں منعقد ہونے والے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر کیا گیا ہے۔

فیٹف کے سنگاپور سے تعلق رکھنے والے صدر ٹی راجہ کمار نے کہا کہ پاکستان نے 35 سفارشات پر بہتر انداز میں عمل کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جا رہا ہے۔

اس اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندوں کے علاوہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کے نمائندے بھی بطور مبصر شریک تھے جبکہ پاکستان کی نمائندگی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کی قیادت میں بھیجے گئے وفد نے کی۔

جون 2022 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا ہے کہ پاکستان نے ’منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ‘ کی مد میں اصلاحات کی ہیں اور اب فیٹف کی ٹیم کی جانب سے پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات مستقبل میں نافذ العمل رہ پائیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق فیٹف کی ٹیم اگست کے آخر میں پاکستان کے پانچ روزہ دورے پر آئی تھی اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی پاکستان کے گرے لسٹ سے اخراج کا حتمی فیصلہ ہوا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔ جس کے 39 ارکان ہیں اور یہ 206 مبصرین پر مشتمل ایک طاقتور بین الاقوامی ادارہ ہے جس میں آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی فنانشل انٹیلی جنس جیسے ادارے شامل ہیں۔ اس ادارے کا کام دنیا میں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد فنانسنگ کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے 29 جون 2018 ء کو پیرس اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا جس سے نکلنے کے لئے 34 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا جس پر پاکستان نے مکمل عملدرآمد کیا۔

ایف اے ٹی ایف تین طریقوں سے درجہ بندی کرتا ہے۔ بلیک لسٹ میں وہ ممالک شامل ہیں جو اسمگلنگ، رشوت خوری اور غیر قانونی منی لانڈرنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس لسٹ میں صرف دو ممالک شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں۔ دوسری لسٹ ”گرے لسٹ“ ہے جن میں وہ ممالک شامل ہوتے ہیں جو ایف اے ٹی ایف سے تعاون کر رہے ہیں لیکن نئے قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتے۔ گرے لسٹ میں پاکستان سمیت 18 ممالک شامل تھے جبکہ حال ہی میں UAE کو کچھ قوانین کی خلاف ورزی پر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا۔ تیسری لسٹ ”واچ لسٹ“ کہلاتی ہے جو شائع نہیں کی جاتی لیکن لسٹ میں شامل ممالک کی خفیہ نگرانی کی جاتی ہے۔

پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے نئے منی لانڈرنگ اور دہشت گرد فنانسنگ قوانین کے تحت 26630 شکایتوں پر کارروائی کی۔ ایف بی آر نے 22000 سے زائد کیسز میں 351 ملین روپے کے جرمانے اور SECP نے 146697 کیسز کا جائزہ لیا جب کہ اسٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) نے بے شمار مشکوک ٹرانزیکشنز پکڑیں۔ اس کے علاوہ NCTA کی بحالی، بینکوں میں بے نامی اکاؤنٹس کا خاتمہ، اکاؤنٹ ہولڈر کی جان کاری، FMUکا بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے تعاون، ANF میں قانونی اصلاحات، کالعدم تنظیموں کے اثاثوں پر کریک ڈاؤن، انکم ٹیکس اور فارن ایکسچینج قوانین میں ترامیم اور کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو جیل بھیجنا بھی شامل ہے۔

ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے ایف اے ٹی ایف کی تکنیکی ٹیم نے اگست کے آخر میں پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کیا اور اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گرد فنانسنگ کے نئے قوانین پر پاکستان کی کامیابی سے عملدرآمد پر ایف اے ٹی ایف کو رپورٹ پیش کی جس پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد بیرونی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا پاکستان میں نئی سرمایہ کاری پر اعتماد بحال ہو گا۔

فیٹف کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

پاکستان 2012 سے 2015 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا حصہ رہا ہے اور پھر سنہ 2018 میں اسے دوبارہ اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اس کی وجہ پاکستان کی جانب سے اس عالمی ادارے کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق مطمئن نہ کر سکنا بتائی گئی تھی۔ مارچ 2022 میں ہونے والے نظرثانی اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ’سفارشات کی تکمیل میں خاصی پیشرفت کی ہے‘ تاہم چند نکات پر مزید پیشرفت کی ضرورت ہے۔

جون 2022 میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی سنہ 2018 اور 2021 کی کارکردگی پر بحث ہوئی تھی اور ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا جو پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کی بنیاد پر کیے ہیں۔

سنہ 2020 میں منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستان نے قانون میں ترمیم بھی کی تھی تاکہ مزید کارروائی ہو سکے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اب ایف اے ٹی ایف کی سنہ 2018 میں دی گئی تمام 27 سفارشات پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ سنہ 2021 میں ایف اے ٹی ایف کی ذیلی شاخ ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی جانب سے دیے گئے سات نکات میں سے چھ کو قبل از وقت مکمل کیا گیا ہے۔

سنہ 2021 میں فیٹف کی جانب سے ’دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں پیشرفت کی مزید مثالیں سامنے لانے کو کہا گیا تھا۔

رواں سال مارچ میں اور اس سے پہلے 2021 میں منی لانڈرنگ کا جائزہ لینے والے ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کو اپنی دوسری فالو اپ رپورٹ میں مزید نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا لیکن اس کے باوجود ادارہ گاہے گاہے پاکستان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا رہا۔

سنہ 2021 کی رپورٹ کے مطابق ادارے نے فروری 2021 میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ تین اہم ترین سفارشات کی تکمیل کرے جن میں دہشتگردوں کو سزا، ان معاملات کی قانونی چارہ جوئی اور مالی معاونت پر پابندیاں شامل ہیں۔

ان تمام سفارشات میں ایک نکتہ رہ گیا تھا جس میں ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردوں کے خلاف قانون سازی اور ان کو ملنے والی مالی معاونت کی تفتیش کرنے پر بھی زور دیا تھا۔ اسی سلسلے میں ادارہ پاکستان سے دہشتگردوں کی مالی معاونت پر پابندی کے قانونی اطلاق کا ثبوت بھی مانگتا رہا ہے۔

اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک میں پاکستان انیشیٹو کے ڈائریکٹر سے پوچھا گیا کہ اس مرتبہ تو ہم گرے لسٹ سے بچ گئے ہیں مگر مستقبل میں بھی اس لسٹ سے باہر رہیں، اس کے لیے کیا کرنا ہو گا، تو انھوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں ہونے کے دو حصے تھے جن میں ایک تو مالیاتی نظام کو مضبوط کر کے منی لانڈرنگ کا سدباب کرنا تھا تو دوسری طرف داخلی سطح پر ان افراد اور ان تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا تھا جو عالمی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسی تنظیمیں اور افراد اگر نئے روپ میں سامنے آئے اور دوبارہ پاکستان میں آپریٹ کرنے لگے تو بعید نہیں کہ ایک مرتبہ گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے بعد ہم دوبارہ بھی اس لسٹ میں جا پہنچیں۔ پاکستان نے اس حوالے سے اپنے مالیاتی نظام کو بہت تگ و دو کے بعد ایف اے ٹی ایف کی سفارشات سے ہم آہنگ کیا ہے مگر زمینی صورتحال کو بھی قابو میں رکھنا اتنا ہی اہم ہو گا جتنا کہ مالیاتی نظام گرے لسٹ سے نکل جانے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس اہم پیش رفت کا پاکستان کو فائدہ ہو گا ملک کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی پاکستان چار سال بعد بالآخر اپنی گرے لسٹ سے نکالا گیا تو سرکاری سطح پر اس اعلان کا خیر مقدم کیا گیا اور اسے پاکستان کی ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا گیا۔

گرے لسٹ سے اخراج سے سکرین کے مطابق پاکستان کو یہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

>پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر ملک میں معیشت کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری کا دروازہ کھل سکے گا۔ >ملک میں براہ راست سرمایہ کاری ممکن ہو سکے گی کیونکہ گرے لسٹ میں موجودگی کے باعث کوئی بھی بین الاقوامی کمپنی پاکستان میں سرمایہ لگانے یا بینکوں پر اعتماد کرنے سے ہچکچاتی تھی۔

>یہ ایک نادر موقع ہے کہ پاکستان کا بینکنگ سیکٹر خود کو مضبوط کر سکے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ملک میں فیٹف سفارشات کے تحت بنائے ہوئے قوانین پر عمل ہوتا رہے۔

> پاکستان ریگولر مانیٹرنگ میں آ جائے گا جس سے ایک بڑی سہولت بینکنگ سیکٹر میں ملے گی جس کے تحت پاکستان کو سیلاب زدگان کی مدد کرنے کے لیے دی جانے والی امداد اب باآسانی مقامی بینکوں میں آ سکے گی اور اس پیسے کی جانچ پڑتال کم ہو گی۔ ’

> ’انفارمل ٹریڈ، جس پر خاصی قدغن لگ گئی تھی، وہ بھی کم ہو جائیں گی۔

پاکستان نے دہشتگردی کی معاونت کو روکنے کے لیے قوانین تو بنا لیے، لیکن یہ سوال ابھی بھی موجود ہے ان پر عملدرآمد کیسے ہو گا؟ اگرچہ نوآبادیاتی دور ختم ہو گیا ہے مگر فیٹف جیسے ادارے مابعد نو آبادیاتی نظام کا حصہ ہیں تاکہ دوسرے ممالک پر اپنی گرفت مضبوط رہے

اکبر الہ آبادی نے بہت پہلے کہا تھا،

اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ عالم کاری میں تبدیل ہو جائے گا، اور ان کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی وہ کہتے ہیں

سواری ہے انھیں کی راہ ان کی اور ڈاک ان کی
انھیں کی فوج ہے ان کی پلس ہے اور تاک ان کی
ہوا میں ایر شپ ان کے سمندر میں جہاز ان کے
عمل ہم میں کیا کرتے ہیں نامعلوم راز ان کے
علوم ان کے زباں ان کی پریس ان کے لغات ان کے
ہماری زندگی کے سارے اجزا پر ہیں ہاتھ ان کے

پاکستان مزے کی بات یہ ہے کہ فیٹف کا رکن نہیں ہے اس کے باوجود وہ اس کے شکنجے میں ہے تو پھر اندازہ لگا لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں

Facebook Comments HS