گلگت بلتستان کا ای ٹی آئی ماڈل


2015 میں حکومت گلگت بلتستان نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈیولپمنٹ ( ایفاد) کے اشتراک سے گلگت بلتستان میں سات سالہ ترقیاتی پروگرام بنام اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٔٹو گلگت بلتستان ( ای ٹی آئی جی بی) کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان کے دیہی علاقوں میں بسنے والے کم از کم 100,000 گھرانوں کی زرعی آمدن میں اضافہ کرنا اور چار لاکھ 400,000 ) ) کنال بنجر اور غیر آباد زمین کو قابل کاشت بنا کر عوام میں تقسیم کرنا ہے 400 کلومیٹر طویل رابطہ سڑکوں اور 220 میٹر آر سی سی پلوں کی تعمیر سے مستفید گھرانوں کی زرعی پیداوار کو بآسانی منڈی پہنچایا جا سکے گا تاکہ وہ زراعت کو ایک باعزت اور منافع بخش کاروبار کے طور پہ اپنا سکے۔

ایفاد اور حکومت پاکستان کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت اس پروگرام نے اس سال ستمبر 2022 کے آخر میں مکمل ہونا تھا مگر پروگرام کی گزشتہ کامیابیوں اور علاقے کی مجموعی ضرورت اور وسیع تر اجتماعی فائدے کو مدنظر رکھ کر حکومت پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان نے ایفاد سے پروگرام کو تین سال کے لئے توسیع دینے کی درخواست کی جسے ایفاد کے ایگزیکٹو بورڈ نے حال ہی میں منظور فرما کر اسے آئندہ تین سال یعنی ستمبر 2025 ء تک توسیع دینے کی باقاعدہ منظوری دی ہے یوں ای ٹی آئی جی بی کے ثمرات آئندہ تین سال تک گلگت بلتستان کے باسی سمیٹتے رہیں گے اور یہاں کے باسی مجموعی طور پر دس سال ( 2015۔ 2025 ) تک اس ترقیاتی پروگرام سے مستفید ہوتے رہیں گے۔ ایسے طویل ترقیاتی منصوبوں پر کامیابی سے عملدرآمد کرنے سے مستقبل قریب میں گلگت بلتستان پاکستان کا ایک خوشحال اور ترقی یافتہ خطہ بن کر ابھرے گا۔

120 ملین یو ایس ڈالر یعنی اندازہً۔ 12 ارب روپے سے زائد رقم سے شروع کردہ اس ترقیاتی پروگرام نے اب تک گلگت بلتستان میں بے شمار کامیابیاں سمیٹی ہے جن میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب تک کی کامیابیوں کا مختصر جائزہ حسب ذیل ہے۔

٭ مجموعی طور پر اب تک گلگت بلتستان کے چار اضلاع دیامر، استور، گانچھے اور غذر میں 78 ایریگیشن چینلز تعمیر کی گئی ہے جن کی کل لمبائی بشمول سائفن ایریگیشن چینلز 444 کلومیٹر بنتی ہے ان کو ہلوں کی تعمیر سے مجموعی طور پر 340,936 کنال زمین زیر کاشت آئے گی جس سے 29,300 گھرانے مستفید ہوں گے اور ہر گھر کو اوسطاً 12 کنال اضافی زمین مل رہی ہے۔

٭ گلگت بلتستان کے چار اضلاع دیامر، استور، گانچھے اور غذر میں مجموعی طور پر 71 کھیت سے منڈی رابطہ سڑکیں (فارم ٹو مارکیٹ روڈ) تعمیر کی گئی ہے جن کی مجموعی لمبائی 384 کلو میٹر بنتی ہے ان رابطہ سڑکوں کی تعمیر سے 13,188 گھرانے براہ راست مستفید ہونگے اس کے علاوہ 7 آر سی سی پل جن کی مجموعی لمبائی 191 میٹر بنتی ہے بھی تعمیر کی گئی ہے۔ رابطہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے 70 سے زائد گاؤں براہ راست مستفید ہو رہے ہیں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ، کٹائی سے قبل اور بعد میں ہونے والی نقصانات میں واضح کمی، سفری سہولیات میں بہتری نیز وقت اور مالی وسائل کی بچت ہو رہی ہے۔ مستقبل میں ان مکمل شدہ رابطہ سڑکوں کی بہتر دیکھ بھال اور مرمت کے لئے اب انہیں متعلقہ ضلعے کے محکمہ تعمیرات عامہ ( جی بی پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ) کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

٭ مجموعی طور پر گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں 4 اور 10 کنال پر محیط 513 خوبانی کے باغات اگائے گئے اور مقامی سطح پہ پھلدار درختوں کی نشوونما اور افزائش کے کے لئے گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں کل 25 نرسریاں قائم کی گئی۔ ان نرسریوں کے قیام سے مستقبل قریب میں گلگت بلتستان میں مقامی طور پر تیار کردہ پھلدار پودے بآسانی دستیاب ہوں گے جس سے باغبانی اور شجرکاری کو فروغ ملے گا۔

٭ ویلیو چین ڈیولپمنٹ میں 4 P ( پبلک، پرائیوٹ، پر وڈیو سر اور پور) اور 3 P ( پبلک، پرائیویٹ اور پروڈیوسر) پارٹنرشپ کے تحت کاروباری اداروں کے ساتھ اشتراک عمل سے 4,262 زمینداروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

٭ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر زرعی کاروبار کی ترویج کے لئے 162 کواپریٹو سوسائٹز کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے 40,956 زمیندار بالواسطہ اور بلاواسطہ مستفید ہو رہے ہیں ان زمینداروں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ ان تمام ویلیج ایگریکلچر کواپریٹیٔو سو ساٹیز کے ذریعے زمینداروں کو ورٹیکل ؍ٹنل فارمنگ اور خوبانی سکھانے، سیب اور چیری کی پیکنگ کے حوالے سے تربیت دینے کے ساتھ ساتھ ان کو مالی اور تیکنیکی مدد بھی فراہم کی گئی۔ آج ٹنل فارمنگ (عمودی کاشتکاری) کے ذریعے ٹماٹر، کھیرا، شملہ مرچ، گوبھی اور دیگر سبزیاں اگانے میں گلگت بلتستان پاکستان کے باقی صوبوں کے لئے ایک مثال بن چکا ہے اور اس کا سہرا بلاشبہ ای ٹی آئی کو جاتا ہے۔

٭ یوں ای ٹی آئی کے تمام پروگراموں سے اب تک مجموعی طور پر 87,706 گھرانے مستفید ہوئے ہیں جن میں مرد اور خواتین سربراہ خانہ والے گھرانے شامل ہیں۔

٭ ای ٹی آئی جی بی کی کاوشوں سے گلگت بلتستان کابینہ نے اس سال لینڈ ٹایٔٹلنگ پالیسی کی منظوری دی جس کے تحت ای ٹی آئی پروگرام کے ذریعے آباد کی جانے والی زمینوں کی حق ملکیت بذریعہ سرکاری دستاویزات زمینداروں کو اجراء کرنے کا عمل جاری ہے جبکہ واٹر پالیسی اور روڈ ماسٹر پلان اینڈ او اینڈ ایم پالیسی پہ کام جاری ہے۔

گلگت بلتستان میں اپنی نوعیت کے اس انوکھے پروگرام میں منصوبہ سازی سے عملدرآمد اور انتظام و انصرام تک عوام کی شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے حق ملکیت اور حق حاکمیت عوام کو تفویض کرنے کی کوشش کی گئی ہے شہریوں کی آواز (Citizen ’s Voice) اور شرکت (Participation) کو اس پروگرام میں شامل کرنے سے حکومت، عوام اور نجی شعبے کے درمیان کام کرنے کے لئے بہترین تعلقات استوار کیا گیا ہے منصوبہ بندی کے عمل میں مقامی علم (Indigenous Knowledge) کی قدر کی جاتی ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں عوامی شمولیت سے کام کا معیار، رفتار اور خرچ کی نگرانی کرنا آسان عمل بن چکا ہے کو ہل اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لئے عوامی سطح پر صاف و شفاف، جمہوری انداز اور باہمی اتفاق رائے سے ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جسے سکیم منیجمنٹ ٹیم (ایس ایم ٹی ) کا نام دیا گیا ہے سکیم شروع کرنے سے قبل سوشل موبلائزیشن کے عمل کے بعد عوام کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیا جاتا ہے جس میں تمام فریقوں کی ذمہ داریاں اور اختیارات کا واضح احاطہ کیا گیا ہے جبکہ نوجوان نسل کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ان کی فنی تربیت کا بندوبست کیا گیا ہے یوتھ کنسٹرکشن ٹیم ( وائی سی ٹی) کے 228 کے ارکان کو پاکستان کے با اعتماد اداروں میں فنی تربیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تاکہ وہ ہنرمند ہو کے باعزت انداز میں روزی کما سکیں اور اپنے خاندان کے لئے وسیلہ روزگار بنے۔

اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نبردآزما ہونے کے لئے ہر مرحلے میں ماحولیاتی اثرات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ پروگرام میں خواتین اور یوتھ کی شرکت کو ہر عمل میں یقینی بنایا گیا ہے ۔ پروگرام کی گزشتہ کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرام کے دائرہ کار کو گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں پھیلانا زیر غور ہے۔

حکومت وقت، نجی شعبے اور عوام کے درمیان ایک بہترین اشتراک عمل ہی کسی پروگرام کی کامیابی کا ضامن بن سکتا ہے اور بلاشبہ ای ٹی آئی اس کی ایک بہترین مثال ہے جس کی تقلید پورے پاکستان میں کی جانی چاہیے۔

Facebook Comments HS