پیدائش سے پہلے بچے کا پاخانہ۔ حقیقت کیا ہے؟


میٹنگ جاری تھی۔
ایسے مریضوں کا حال سنایا جا رہا تھا جن کے بچے پیدا ہوتے ہی مر گئے۔

” مریضہ رات کے بارہ بجے آئی، ہلکے درد تھے۔ بچے کے دل کی دھڑکن سی ٹی جی ( CTG) ریکارڈ نگ پہ بہت خراب نظر آئی۔ بچے کو فوراً  پیدا کروانے کی ضرورت تھی۔ اندرونی معائنہ کیا تو بچے دانی کا منہ چار سینٹی میٹر کھلا تھا۔ سیزیرین کرنے سے پہلے یہ دیکھنا تھا کہ بچے کی حالت کیسی ہے؟ جاننے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ پانی کی تھیلی پھاڑ کر دیکھا جائے۔ جونہی تھیلی پھاڑی، پانی کی بجائے بچے کا گاڑھا پاخانہ نظر آیا۔ فوراً سیزیرین کیا۔ بچہ بہت خراب حالت میں نکلا، پاخانہ گلے اور سانس کی نالی میں جا چکا تھا۔ نرسری کے ڈاکٹر نے ٹیوب ڈال کر صفائی کی لیکن بچے کی حالت بہتر نہیں ہوئی۔ آکسیجن لگی، وینٹ پہ ڈالا مگر بچہ نہیں بچ سکا“

کیس ہسٹری سنتے ہوئے وہ جواں سال لڑکی یاد آ گئی جس سے ہم نے پوچھا تھا کہ سیزیرین کیوں ہوا؟
جی وہ بچے نے پیٹ میں ہی پاخانہ کر دیا تھا۔
لیبر پین ( درد زہ۔ labor pains) شروع ہوئے تھے کیا؟
نہیں جی۔
پھر کیسے پتہ چلا؟ ہمارا سوال۔
الٹرا ساؤنڈ پہ۔ جواب ملا۔

الٹرا ساؤنڈ پہ بچے کے اردگرد موجود پانی میں بہت کچھ نظر آتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ الٹرا ساؤنڈ پہ نظر آنے والی چیز پاخانہ ہی ہو۔

پتہ نہیں جی، ہمیں تو ڈاکٹر نے یہی بتایا تھا۔
سی ٹی جی کیسی تھی؟
وہ کیا ہوتی ہے جی؟
بچے کے دل کی دھڑکن کا گراف جیسے ای سی جی۔
نہیں پتہ جی۔
پیٹ میں موجود بچے کا پاخانہ۔ کچھ کھائے پئے بنا پاخانہ۔ کیا ممکن ہے؟
چلیے آج اس بات کا جواب دیتے ہیں۔

دنیا میں آنے کے بعد بچے کا پہلا پاخانہ سبزی مائل سیاہ رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو سائنسی اصطلاح میں میکونیم ( meconium) کہلاتا ہے۔

ماں کے پیٹ میں بچہ آکسیجن اور خوراک آنول کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور جسم میں بننے والے فضلات اسی آنول کے ذریعے ماں کے جسم کو بھیج دیے جاتے ہیں جہاں سے وہ ماں کے جسم کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔ بچہ اپنے اردگرد موجود پانی پی کر اسے پیشاب کے راستے باہر نکالتا ہے۔ اس طرح بچے کا پانی مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔ پئے جانے والے اس پانی میں موجود کچھ مادے بچے کے پیٹ میں جمع ہونا شروع ہوتے ہیں جو انتڑیوں اور جلد کے فالتو خلیوں، بچے کی جلد سے جھڑے بالوں، اور کچھ فالتو میٹریل سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ سیاہ سبز چپچپا مادہ آخر کار میکونیم میں بدل جاتا ہے جو پیدائش کے بعد بچے کا پہلا پاخانہ بنتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بچہ رحم کے اندر پیدائش سے پہلے پاخانہ کیوں کر دیتا ہے؟

درد زہ کے دوران جب بھی بچے کو آکسیجن ملنی کم ہو جائے، اور بچے کا سانس تنگ ہونے لگے، اس کا اثر بچے کی انتڑیوں پہ پڑتا ہے۔ وقت سے پہلے حرکت میں آ کر انتڑیوں میں موجود میکونیم خارج ہو کر بچے کے گرد موجود پانی ( amniotic fluid or liquor ) کو سبزی مائل رنگت عطا کرتا ہے۔ رحم میں موجود پانی میں موجود میکونیم دو اشکال میں ملتا ہے، پتلا میکونیم/ گاڑھا میکونیم۔

پتلے میکونیم کے معنی ہیں کہ بچے کا پانی مقدار میں نارمل ہے اور اس میں بہت تھوڑا سا میکونیم خارج ہوا ہے۔ خطرے کی گھنٹی بجی تو ہے لیکن ابھی طوفان کے آنے میں کچھ دیر ہے۔ کتنی دیر؟ اس کا انداز بچے کے دل کی دھڑکن ریکارڈ کرنے والا گراف یا سی ٹی جی بتاتی ہے۔ اگر CTG ٹھیک رہے تو مطلب یہ نکلے گا کہ آکسیجن کی سپلائی ابھی مناسب ہے اور نارمل ڈلیوری کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔

اگر بچے کی تھیلی پھٹنے پہ جیلی نما گاڑھا میکونیم نکلے تو سمجھ لیجیے کہ پانی ( liquor ) انتہائی کم ہے اور میکونیم کی مقدار بہت زیادہ۔ معنی یہ کہ بچے کو پہنچنے والی آکسیجن کا لیول بہت گر چکا۔ اب نارمل ڈلیوری کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے کیسسز میں لا محالہ سی ٹی جی خراب ہی آئے گی۔

گاڑھا میکونیم آکسیجن کی کمی اور بچے کو پہنچنے والے سٹریس کو تو ظاہر کرتا ہی ہے لیکن بات حد سے نکل جاتی ہے جب یہ بچے کے پھیپھڑوں تک پہنچ جائے۔ پھیپھڑوں تک پہنچا میکونیم پیدائش کے بعد بچے کا سانس لینا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ اس صورت حال کو میکونیم ایسپائریشن سنڈروم کہتے ہیں۔

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ درد زہ سے پہلے بچے دانی میں میکونیم خارج ہو جائے۔ اگر کبھی الٹرا ساؤنڈ سپیشلسٹ یا گائناکالوجسٹ یہ بات کہیں تب بھی سیزیرین اس وقت تک نہیں کیا جاتا جب تک بچے کے دل کی دھڑکن خراب نہ ہو جائے۔ درد زہ کے بغیر بچہ عموماً میکونیم خارج نہیں کرتا اور اگر ایسا ہو گا تو سی ٹی جی لازمی خراب ہو گی۔

سب والدین کو درد زہ کی اقسام، دورانیہ، سی ٹی جی اور میکونیم کے بارے میں سیکھنا چاہیے تاکہ کوئی بھی ڈاکٹر کسی بھی مرحلے پہ غلط بیانی نہ کر سکے۔ سوچیے آپ گائناکالوجسٹ کو یہ پوچھ کر کتنا حیران کر سکتے ہیں کہ میکونیم تو نہیں نکلا اور اگر نکلا ہے تو پتلا ہے یا گاڑھا؟

سی ٹی جی۔ نارمل یا ابنارمل، دیکھیے اگلے بلاگ میں۔

Facebook Comments HS