کیا پڑھانے والوں کے اپنے بچے نہیں ہوتے


بھلا ہو ہماری ایک سائنسی جماعت کا کہ جس کی وجہ سے آج لاہور کے سکول بند رہے اور بچوں نے دیر تک اپنی نیند پوری کی لیکن چند ایک سکول آن لائن کلاس کا پیغام دے کر بچوں کی خوشیوں کو غارت کر گئے۔

خیر مقررہ وقت پر سکرین کے سامنے بچوں کو بٹھا دیا گیا۔

اب ہر ٹیچر نے بجائے آن لائن کلاس کا لنک بھیجنے کے چند ہندسے بھیج دیے اور بعد میں پاس ورڈ بھیجنے کا خیال آیا تو وہ بھی بھیج دیا۔ اگر روزانہ کی بنیاد پر آن لائن کلاسز چل رہی ہوتیں تو کام چل جاتا لیکن اچانک یوں آن لائن پہ شفٹ ہونا والدین اور بچوں کے لئے کچھ آسان نہ تھا۔

مختلف ٹیچرز پڑھاتے رہے اور ہم بھی بچوں کے ساتھ ساتھ پڑھتے رہے۔ پورا دن سکرین کے برابر گزارنے کے بعد صرف یہ سمجھ آیا کہ ہمارا بچہ سکرین کے سامنے ضرور تھا لیکن ٹیچر کے سامنے نہیں۔ ٹیچرز نے پوری کلاس میں سے دو نام یاد کر رکھے تھے اور سبھی انہی ناموں کو پکار پکار کر پڑھاتے رہے۔

قائد اعظم نے پاکستان بنتے وقت قانون ساز اسمبلی سے پہلی تقریر کرتے وقت اقربا پروری کے حوالے سے بہت واضح پیغام دیا تھا جسے ہم شاید بھول بیٹھے ہیں۔

استاد کی شفقت تو سب کے لئے ایک جیسی ہوتی ہے۔ لیکن آج کل خدا جانے اساتذہ کو کیا ہو گیا ہے؟

ہم نے تو ایک اچھا سکول سمجھتے ہوئے بہت محنت اور کوشش کے بعد بچوں کو اس خاص سکول میں داخل کروایا لیکن ایسے ماحول اور انداز تربیت نے شدید مایوس کیا۔

ابتدائی دنوں میں روزانہ کی بنیاد پر ٹیچر سے ملنے والی ڈانٹ کو ہم یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے کہ ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔ شاید ایسا نہیں ہے ہمیں یہ سب سمجھنے میں کافی دیر ہو گئی ہے۔ اب سالانہ امتحان تک تو گزارا کرنا پڑے گا اور اس کے بعد اگر کسی نئے سکول کا رخ کیا اور وہاں بھی ایسا ہی ماحول ملا تو بتائیں کدھر جائیں گے؟

آخر کب تک ہمارے بچوں کی شخصیت اور ذہن سازی پہ تجربات ہوتے رہیں گے؟
کیا پڑھانے والوں کے اپنے بچے نہیں ہوتے؟
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Facebook Comments HS