پارلیمنٹ پر عدم اعتماد


ہر ملک کے باشندوں کے لئے اپنا ملک مقدس ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے کیونکہ بذات خود پاکستان مقدس ہونے کی بجائے فربہ گایوں کی مقدس چراگاہ ہے، جن کو تمام سہولتیں، سب مراعات، ہر قسم کی آزادیاں یہاں تک کہ قانون سے پر برتری اور استثنا بھی حاصل ہے۔ عوام اپنے اور اپنے بچوں کی حالت زار میں تبدیلی لانے اور ملکی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے سیاستدان کے جھوٹے وعدوں پر اعتماد کر کے ہر الیکشن میں ووٹ کے ذریعے کچھ لوگوں کو جتوا کر پارلیمنٹ بھجواتے ہیں تاکہ وہاں پر قانون سازی کے ذریعے وہ ان کے مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ لیکن آج کے تک ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں، کیونکہ پارلیمنٹ جاکر یہ لوگ حقیقت میں عوام کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ اپنے ساتھ ساتھ وہ ججوں جرنیلوں اور اہل و عیال کو سہولیات آرام و آسائشیں اور تحفظ دینے کے لئے قانون سازی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

حضرت عمر فاروق (رض) سے جمعہ کے خطبہ میں ایک عام شخص یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ ان کے لباس میں لگا ہوا کپڑا کیوں زیادہ استعمال ہوا ہے جبکہ دیگر صحابہ کرام کو مال غنیمت میں سے کم کپڑا ملا ہے، حضرت عمر فاروق (رض) خاموش رہتے ہیں اور ان کی جگہ ان کے بیٹے اس شخص کو صفائی پیش کرتے ہیں، لیکن جب بات اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ہوتی ہے تو بقول منظور پشتون یہاں دراصل میں جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت ہے۔

پاکستانی آئین کے مطابق پاکستانی قانون کی نظر میں سب عوام برابر ہیں، جب کہ پارلیمنٹرین کی ناقص قانون سازی کی وجہ سے آئین کے بنیادی شقوں کے بالکل برخلاف جج اور جرنیل قانون سے بالاتر ہو گئے ہیں۔ اگر یہ طبقہ کرپشن یا غیر قانونی کام کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے بھی جائیں تب بھی وہ ”ان ٹچ ایبل“ ہیں۔

بقول ان سیاستدانوں کے الیکشن پوسٹرز کے، یہی نڈر بیباک اور نہ جھکنے والا نہ بکنے والا پارلیمنٹ پہنچ کر چوں تک نہیں کرتے، مہنگائی ہو، اقرباء پروری ہو یا کرپشن انہیں صرف اپنی تنخواہ اور اپنے اہل و عیال کے مراعات اور سہولیات سے سروکار ہوتا ہے۔ بات بات پر ان کی توہین تو ہوتی ہے لیکن جو ووٹر یا عوام اسے اسمبلی میں بھیجتے ہیں اس کی پوری زندگی توہین بن جائے، اقتصادی اور معاشی بدحالی کے ہاتھوں ذلیل ہو جائیں، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

آئین کے مطابق پارلیمنٹ اجازت نہ دے تو عوام پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو سکتا لیکن یہاں نیفرا اور اوگرا جیسے ادارے پارلیمنٹ سے زیادہ خودمختار ہیں، کیوں نہ عوام ان کو ووٹ دینے کی بجائے نیفرا اور اوگرا والوں کو ووٹ دے کر منتخب کریں۔ پارلیمنٹیرینز کو فکر کیوں ہو کیونکہ بجلی تیل گیس فون اور ضروریات زندگی ان کو فری ملتی ہیں۔ جنہوں نے عوام کو سہولیات دینی تھیں وہ خود چرتے چرتے فربہ ہو رہے ہیں۔ بجلی کی سرکلر ڈیٹ بڑھے یا ناقابل ادائیگی ہو ان کو بجلی فری میں ملتی ہے، پی آئی اے کا ادارہ ڈوبتا ہے تو ڈوبنے دیں، ان کی بلا سے ان کو فری ٹکٹ چاہیے۔ اسٹیل مل ڈوبتی ہے تو ڈوبنے دیں، قومی مسائل اور اس کے حل کی بجائے اپنے ٹی اے ڈی اے سے دلچسپی ہے، مہنگائی خود کر کے خود اپنی تنخواہیں بڑھا دیتے ہیں اور پھر جلسوں میں مہنگائی کا رونا روتے ہیں، تاکہ عوام کو بے وقوف کا بے وقوف ہی رکھا جا سکے۔

یہ سمجھتے ہیں کہ عوام ان کے سامنے بندھے ہوئے ہیں اور زر خرید غلام ہیں لیکن عوام کا اعتماد ان پر دن بدن متزلزل ہو رہا ہے اس لیے وہ متبادل قیادت کی تلاش میں ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب عوامی غیظ و غضب ایک سیلاب کی طرح ان کو بہا کر لے جائے کیونکہ ان کو عوامی مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں تو عوام کو بھی فاتحہ پڑھنے، اپنے اور اپنے اہل و عیال کے مراعات کے لئے ان کی قانون سازی اور لاحاصل تقاریر میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ اور یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے عوام کا اعتماد پارلیمنٹ اور اس کے ممبران سے اٹھ گیا ہے، وہ دن دور نہیں کہ جب عوام ان بوڑھے طوطوں کو ہمیشہ کے لئے مسترد کر کے نئے دور کی لیڈر شپ کو منتخب کریں گے۔

Facebook Comments HS