ایک اور آڈیو لیک

آڈیو لیکس ویڈیو لیکس۔ کیسا لیکس کا موسم ہے کبھی فرانزک کا اعلان کبھی کمیشن کا قیام۔ ہم نے بھی کتنی بے خبری میں زندگی گزار دی چند ہی لیکس کا پتہ تھا۔ گیس لیک پانی کا پائپ لیک یا پھر بچے کا پیمپر لیک نا آڈیو لیک اور نہ ہی ویڈیو لیک۔ مگر اب سب سمجھ میں آ رہا ہے سارے اشرافیہ ایک دوسرے کی درون خانہ یا درون آفس گفتگو ارادے اور سازشوں کو سر بازار لے آئے ہیں اور مزید لانے کا ارادہ بھی ہے اور شاید کوئی خرید و فروخت کا معاملہ بھی ہے۔
مگر یہ کہاں سے ظہور میں آ رہی ہیں اور ان کا پروڈیوسر کون ہے اس کی خبر نہیں یا شاید خبر بھی ہے پر بی خبری ہے۔ انسان کو اللہ پاک نے دیکھنے سننے سوچنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت دے کر اسے یہ اختیار بھی دے دیا ہے کہ وہ جسے چاہے دیکھے جسے چاہے سنے اور جس طرح چاہے سوچے اور محسوس کرے آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ سامنے نظر آنے والی حقیقت کو نہیں دیکھ رہے ہوتے اور کچھ لوگ شور و ہنگام سے بھری محفل میں بے خبر ہوتے ہیں اور کچھ بھی سن نہیں رہے ہوتے یعنی دیکھنا اور سننا بھی اختیاری ہے جیسے آپ کو کوئی چیز پسند نہیں تو آپ اسے نظر کے سامنے ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھتے اور اسی طرح آپ بہت سی آوازوں میں گھرے ہونے کے باوجود چاہیں تو کان بند کیے بغیر سننے سے اجتناب برت سکتے ہیں مگر شرط بے حسی ہے۔
اب آئیے اصل بات پر اتنی آڈیو اور ویڈیو لیکس کے بعد ہم نے بھی ارادہ کیا ہے کہ ہم بھی ایک آڈیو اور ویڈیو لیک کر دیں بس اسے دیکھنے اور سننے کے لئے دو شرطیں ہیں جنہیں پورا کیے بغیر نہ تو آپ کو کچھ دکھائی دے گا اور نہ ہی سنائی۔ پہلی شرط یہ کہ آپ کا تعلق اشرافیہ سے نہ ہو اور دوسری شرط یہ کہ آپ ایک محسوس کرنے والا دل رکھتے ہوں اپنے اندر کی تیسری آنکھ وا کر لیں یہ ویڈیو دیکھیں یہ بے بسی دکھ مایوسیوں اور بے چارگیوں کی تصویریں ہیں یہ زندہ انسان ہیں یہ دو ماہ سے پانیوں میں گھرے ہوئے لوگ ہیں اتنے پانیوں میں گھرے ہونے کے باوجود ان کی آنکھیں خشک ہیں ان کے ہونٹ پانی کو ترسے ہوئے ہیں یہ بچے یہ بوڑھے یہ جوان یہ عورتیں۔
دیکھیں یہ بیمار اور کمزور بچے جنہوں نے پہلے ہی سکھ اچھا وقت اور اسکول نہیں دیکھا ان کے سر پر چھت ہے اور نہ کھانے کو کچھ میسر یہ فرمائش نہیں کرتے کھلونے نہیں مانگتے یہ پاؤں میں جوتا اور تن پر کپڑا چاہتے ہیں ان زرد رنگت والی پانی سے گھرے چھوٹے سے ٹیلے پر بچہ پیدا کرنے والی عورتوں کو دیکھیں جو غذا اور دوا کے بغیر ایک چیتھڑے میں لپٹے ننھے زندہ وجود کو اپنی خشک ہوتی چھاتیوں سے دودھ پلانے کی کوشش کر رہی ہیں ان جوان لڑکیوں کو دیکھیں جن کی غریب ماؤں نے صندوق میں ان کے جہیز کے لیے چند چیزیں جمع کی تھی جو سب پانیوں میں بہہ کر نجانے کہاں ڈوب گئی۔
ان بچیوں کو دیکھیں جن کے جسم پر موجود کپڑے ان کا تن ڈھانپنے کے لئے ناکافی ہوتے جا رہے ہیں چہ جائکہ کے ان کے مخصوص دنوں میں انہیں استعمال کے لیے کچھ میسر ہو ان مردوں کو دیکھیں جن کی کی سارا سال کیھتوں میں محنت کے عیوض ملنے والی گندم پانی میں بہہ گئی ہے ان کے گھر ان کے مویشی ان کی فصلیں سب تباہ ہو چکی ہیں ان کے خواب ان کی آرزوئیں ان کی امید سب ختم ہو چکے ہیں یہ آڈیو سنیں یہ آہیں سسکیاں گھٹی ہوئی چیخیں اور بے کس فریادیں سنائی دے رہی ہیں نا آپ کو ۔
ان کے بھوکے پیٹ کھانا چاہتے ہیں ان کے تن ڈھانپے جانے کے لیے کپڑوں کے منتظر ہیں۔ یہ مچھروں کی آواز آ رہی ہے نا آپ کو اور ساتھ ہی سنیں یہ مکھیوں کی بھنبھناہٹ ان سے بچنے کے لیے انہیں مچھر دانیاں چاہئیں انہیں دھوپ سے بچنے اور رات میں ٹھنڈ سے بچنے کے لیے پکی چھت نہ سہی خیمہ ہی مل جائے یہ دیکھیں یہ ڈائریا اور پیٹ کی دوسری بیماریوں میں مبتلا بچے اور بڑے ہیں انہیں صاف پانی اور مناسب دوا اور غذا چاہیے۔ یہ دانت بجنے کی آواز آ رہی ہے آپ کو یہ ملیریا اور ڈینگی بخار سے پہلے جاڑا چڑھنے کی آواز ہے یہ بخار اتنی سردی کے ساتھ آتا ہے کہ مریض بری طرح کانپنے لگ جاتے ہیں انہیں ایسی حالت میں کمبل کی ضرورت ہے دیکھیں اب موسم بھی سرد ہونے لگا ہے ان پانیوں کے درمیان رات میں خنکی بہت بڑھ جاتی ہے انہیں اب گرم کپڑوں کی بھی ضرورت ہوگی ان لوگوں میں جو شوگر اور بلڈ پریشر یا معدے کی تکالیف میں مبتلا لوگ ہیں وہ اب صبر کر چکے ہیں۔
جہاں بخار کے لیے ڈسپرین یا پیراسیٹامول دستیاب نہیں ہیں وہاں ان امراض کے علاج کی عیاشی کیوں کر ممکن ہو سکتی ہے ویسے بھی یہ جانتے ہیں کہ ہمیشہ کسی کو بھی زندہ نہیں رہنا سب کو اپنے خالق حقیقی کے پاس چلے جانا ہے بس وقت کی بات ہے۔ اب مجھ میں مزید حوصلہ نہیں ہے کہ آپ کو کچھ اور دکھاؤں یا سناؤں میں تو یہ سوچتی ہوں کہ اگر آڈیو اور ویڈیو میں دکھائیں اور سنائیں دینے والے لوگوں نے اللہ پاک سے مردہ ضمیر زندہ لوگوں کی شکایت کردی تو کیا ہو گا بس یہ ہی اک خیال ہے پریشاں مجھ میں


Shandar